یومِ یکجہتی کشمیراورپاکستان

یومِ یکجہتی کشمیراورپاکستان
یومِ یکجہتی کشمیراورپاکستان

  



ریاست جموں و کشمیر جنوبی ایشیا کے شمال اور جنوبی وسط ایشیا ء کے جنوب میں واقع ہے ۔ اسکی سرحدیں پاکستان، افغانستان، روس ، چین اور بھارت سے ملتی ہیں اس کا رقبہ 84471مربع میل ہے۔ چودھویں سے سولہویں صدی تک ریاست مقامی مسلمانوں کے زیرِ تسلط رہی اور سولہویں صدی سے اٹھارہویں صدی تک یہاں مغلوں کا اقتدار رہا ۔ 1819میں سکھوں نے اس پر قبضہ کر لیا اور 1846میں سامراجی حکمرانوں نے 75لاکھ کے عوض ایک درندہ صفت متعصب ہندو گلاب سنگھ ڈوگرا کے ہاتھ فروخت کر دیا ۔ ڈوگروں نے ریاست کو لوٹنے، اور تباہ و برباد کرنے اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ کشمیریوں نے ڈوگرا مظالم کے خلا ف آزادی کی تحریک شروع کی تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ نشیب و فراز سے گزرتی رہی۔

1906میں مسلمانانِ بر صغیر نے اپنی نمائندہ جماعت ’’آل انڈیا مسلم لیگ ‘‘ کی بنیاد رکھی اور مسلمانوں کے لیے علیحدہ مملکت کے حصول کے لیے جدو جہد کا آغازکیا۔ حضرت علامہ اقبال نے 1930میں’’ خطبہ الہٰ آباد‘‘ میں دو قومی نظریے کو اُجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کی ضرورت پر زور دیا۔ 1940میں’’ قرار داد پاکستان ‘‘منظور ہوئی اور حصول پاکستان کا مطالبہ زور پکڑ کر گیا۔ حکومت برطانیہ نے برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ کیا اور 3جون 1947کی رات لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے برصغیر کی تقسیم کا اعلان کیا کہ قانونِ آزادی ہند کی دفعہ 7کے تحت ریاستوں پر برطانوی حکومت کا ’’اختیار اعلیٰ ‘‘ 15اگست 1947کو ختم ہو جائے گا۔ قانونِ آزادی ہند کے تحت طے پایا کہ ہندوستان کے مسلم اکثریت والے ملحقہ علاقوں اور غیر مسلم ملحقہ علاقوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔

اول الذکر پاکستان اور آخر الذکر بھارت کے نام سے موسوم ہوا 14اگست 1947کو اعلان کیا گیا کہ یہ ریڈیو پاکستان ہے تو مسلمانانِ برصغیر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن آزادی منایا گیا۔ ریاست جموں و کشمیر میں بھی یومِ پاکستان منایا گیا اور ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔ جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے پاکستان سے الحاق کی قرار داد منظور کر کے مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں شمولیت کا اعلان کرے مگر مہاراجہ نے بھارتی حکمرانوں سے گٹھ جوڑ کر لیا۔ بھارت کی مکارانہ ہوشیاری اور منافقانہ چالاکی سے مسلمانوں کو دوبارہ غلام بنانے کی سازش شروع کر دی گئی کشمیر ی عوام ڈوگرہ جبرو تشدد اور ظلم و استبداد کے خلاف صف آرا ہو گئی۔ بھارتی سامراج نے کشمیریوں کو کچلنے کے لیے قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی قانون آزادی ہند کے پلان کی خلاف ورزی شروع کر دی اور بھارتی فوج ،

راشٹریہ سیوک سنگھ ، جن سنگھ اور ہندو مہا سبا کے مسلح وحشی درندوں کے ذریعہ 27اکتوبر 1947کو تمام انسانی، اخلاقی اور جمہوری قدروں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ بیہمانہ اور وحشیانہ انداز میں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے جنوبی ایشیا کے امن کو تباہ کرنے کے بیج بو دیے ۔ کشمیریوں نے ’’علم بغاوت ‘‘ بلند کیا اور مطلق العنانیت اور استبداد کی آہنی سلاخوں سے ٹکرانے کے لیے تیار ہو گئی تو پاکستانی اپنے نہتے مظلوم کشمیری بھائیوں کی امداد کے لیے ریاست میں داخل ہوئے اور پاک فوج کے بہادر سپوت بھی کشمیریوں کی پکار پر جنگ میں شامل ہوئے تو بزدل بھارتی حکمران یکم جنوری 1948کو اقوامِ متحدہ میں فریادی ہوا۔ سلامتی کونسل نے طویل بحث و مباحثہ کے بعد قرار دیا کہ ریاست جموں و کشمیر میں ’’استصواب رائے عامہ ‘‘کے ذریعہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ریاست کے لو گ پاکستان کے ساتھ الحاق پسند کرتے ہیں یا بھارت کے ساتھ۔ بھارت نے اقوامِ متحدہ میں قرار دادوں کو قبول اور تسلیم کیا مگر مختلف حیلوں بہانوں سے اقوامِ متحدہ کی منظور کر دہ قرار دادوں پر عملد ر آمد کروانے کا منکر ہے ۔

کشمیر نے ایک لاوا اُگلتے آتش فشاں کا روپ دھار لیا ہے فی الوقت کشمیریوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں ،بچوں کو ذبح کیا جا رہا ہے، عورتوں کی اجتماعی آبرو ریزی کی جا رہی ہے، نوجوانوں کو معذور کیا جارہا ہے، درندگی اور سفاکی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے وہ ناقابلِ بیان ہیں ۔ مافوق الفطرت کشمیری قوم نے عزم بالجزم کر رکھا ہے کہ وہ ہر قیمت پر آزادی حاصل کر کے رہیں گے ۔بھارتی درندے جس قدر کشمیریوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں اُسی قدر جذبہ آزادی اور شوقِ شہادت بڑھتا جا رہا ہے اور بھارت سے نفرت میں روز بروز اضافہ ہوتا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور یہ پالیسی ہماری روزِ اول سے ہے ۔5فروری کو پاکستان ، کشمیر اور دنیا بھر میں سیاسی، سماجی ، دینی اور کشمیری عوام کی نمائندہ تنظیمیں پر جوش طریقہ سے ’’یومِ یکجہتی کشمیر‘‘ مناکر بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔ 2019میں پاکستان کے لابنگ گروپ یوتھ فورم فارکشمیر نے "حق خودارادیت۔۔۔کشمیریوں کا حق" مہم کا آغاز کیا ہے۔مہم کے زریعہ پورے ملک میں جلسے، جلوس،ریلیاں،کانفرنس اور سیمنار کر کے عوامی رائے عوامہ کو بیدار کیا جائیگا۔

مزید : رائے /کالم


loading...