سیمی فائنل میں مات!

سیمی فائنل میں مات!

  

بڑوں کے اکھڑے قدم جمنا شروع ہوئے تو چھوٹوں نے لٹیا ڈبو دی، انڈر19کرکٹ ورلڈکپ میں فتوحات سمیٹ کر سیمی فائنل میں پہنچنے والے ننھے پہلوان خود اپنے ہی زور میں زمیں بوس ہو گئے اور فائنل جیتنے کی آس لگانے والے سیمی فائنل ہی میں ہمت ہار بیٹھے، روایتی حریف ”بھارتی لونڈوں“ سے چاروں شانے چت ہو گئے اور پوری دس وکٹوں سے ہار کر چلو بھر پانی والا مسئلہ پیدا کیا۔ انڈر19کرکٹ ٹیم اچھے کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان ٹیم کو ہرا کر سیمی فائنل میں پہنچی تھی، کوچ اور کپتان نے بڑا دلاسہ دیا اور یقین ظاہر کیا تھا کہ وہ بھارت کو شکست دینے کے لئے تیار ہیں، جس کے بعد فائنل جیتنے کی بھی قوی توقع ہے،لیکن وائے قسمت کہ دوچار ہاتھ نہیں،بلکہ لمبے ہاتھوں ”بام“ دور رہ گیا اور شرمندگی والی شکست ہو گئی۔ خبروں کے مطابق پاکستان انڈر19 کرکٹ ٹیم کے کپتان روحیل نے ٹاس جیت لیا اور پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کر لیا کہ بڑاہدف دیا جائے، لیکن یہ دن خوش قسمت ثابت نہ ہوا اور پوری ٹیم44.1اوور میں 172رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ یوں بھارتی کھلاڑیوں کو آسان ہدف مل گیا، دوسری طرف پاکستان کے نونہالوں کی باؤلنگ اور فیلڈنگ معیاری نہ ہوئی اور یہ کوئی بھی کھلاڑی آؤٹ نہ کر سکے۔ بھارت کے دونوں اوپنرز نے یہ میچ مقررہ اووروں کے ہدف سے88بال پہلے جیت لیا۔ مطلب یہ کہ پاکستان ٹیم کو44.1 اوور میں آؤٹ کیا تو خود یہ سکور35.2 اوور میں مکمل کر لیا، پاکستان کی طرف سے صرف تین کھلاڑیوں نے دوسرا ہندسہ پار کیا، کپتان روحیل نے62 اور حیدر علی نے52رنز بنائے، جبکہ حارث31رنز بنا سکے۔جواب میں بھارتی کھلاڑی جیسوال نے105اور سکسینہ نے59رنز کی اننگ کھیلی، کھیل میں ہار جیت ایک کھیل ہی کا حصہ ہے،لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ بھی کھیل جنگ ہی بن چکے ہیں اِس لئے ایک دوسرے کی ہار جیت جذباتی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ نوجوانوں سے ایسے کھیل کی امید نہیں تھی تاہم ایسا احساس ہوتا ہے کہ وہ دباؤ برداشت نہیں کر سکے اور ساری توقعات نقش بر آب ثابت ہوئیں۔ہماری گذارش ہے کہ جو ہُوا سو ہُوا اب بھی جذبات سے فیصلے نہ کئے جائیں۔شکست کی مکمل وجوہات پر غور کر کے لائحہ عمل بنایا جائے کہ مستقبل کے لئے انہی کھلاڑیوں سے قومی ٹیم بنتی ہے۔بہرحال کھیلوں کا انفراسٹرکچر مضبوط کرنے کی ضرورت کا احساس ایسے مواقع پر شدید ہو جاتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -