امن ضروری ہے

امن ضروری ہے
امن ضروری ہے

  

حالیہ صورت حال میں،جب ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر دیاہے اور دونوں ممالک میں مذاکرات کے لئے ڈیڈ لاک برقرار ہے، اس کے باوجود بھی خدا کا شکر ہے کہ خطے کے حالات کسی حد تک بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خطرات کسی حد تک ٹلتے نظر آ رہے ہیں۔ میرے گزشتہ کالم، جس میں مَیں نے بی بی سی کی خبروں کا حوالہ دیا اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جنگ کے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا اور لکھا تھا کہ بی بی سی کے مطابق ایرانی حکومت اس صورت حال کو کس انداز سے لے رہی ہے؟اب عالمی میڈیا اس پر خاموش ہے جو ایک خوش آ ئند بات ہے۔ آگ کو ہوا دینے سے اور بھڑ کتی ہے۔ ایران اور امریکہ کو ذمہ دارانہ بیانات دینا چاہئیں اور خطے کے ساتھ ساتھ عالمی امن کو داؤ پر نہیں لگانا چاہئے۔ تمام ممالک کو مل کر ان حالات کو مزید بہتری کی طرف لے جانا چاہئے۔

اس میں اقوام متحدہ کے تمام ممالک، خاص طور پر ملائشیا، ترکی، پاکستان، سعودی عرب، چین اور روس کو اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستانی حکومت کو بالخصوص کسی بھی طرح سے آپس کے میل جول اور باہمی ا فہام و تفہیم سے دونوں ممالک کو مذاکرات کی طرف مائل کرنا چاہئے۔امریکہ، ایران، سعودی عرب اور اسرائیل کو بھی اس معا ملے میں فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے خطے کے امن کے لئے اپنا کردار ادا کرنا سخت بیانات سے پر ہیز کرنا اور ایک دوسرے کی سلامتی کو چیلنج نہیں کرنا چاہئے۔ تمام ممالک کو ماضی کی ساری تلخیوں کو بھلا کر خطے میں امن کے لئے مخلصانہ کام کرنا ہو گا، کیونکہ مذاکرات ہی ہر مسئلے کا حل ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا اختتام بھی مذاکرات کی میز پر ہوا تھا، مسئلہ کشمیر اور فلسطین بھی باہمی رضا مندی اور مذاکرات سے ہی حل ہوں گے۔

ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ قرآنی حکم کے مطابق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ تو ہم سب انسان کیسے ایک لمحے میں ایک دوسرے کی نسل، قوم اور ملک کو تباہ کرنے کا سوچ سکتے ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندو، سکھ، عیسائی اور یہودی سب اللہ کی مخلوق ہیں،ہم سب صدیوں سے مل کر رہ رہے ہیں اور ہمیں قیامت تک مل کر ہی رہنا ہے۔ ہم اس زمین کو چھوڑ کر کہاں جائیں گئے، بھاگنے کی نہ تو کوئی جگہ ہے اور نہ راستہ تو پھر کیوں نہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر برداشت، رواداری اور انسان دوستی کے جذبات کو فروغ دیا جائے۔

ہم سب مل کر اس زمین کو نہ صرف ایک دوسرے کے لئے امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں، بلکہ جنگ کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ سکتے ہیں۔ بحیثیت انسان، ہم سب کی ذمہ داری ہے اور یہ ہم انسانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہم سب مل کراس امن کے پیغام کو عام کر سکتے ہیں اور اس دنیا کو جنگوں کے ہولناک خطرات اور اثرات سے بچا یا جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں ایک ہی گلی محلے،حتیٰ کہ ایک دوسرے کے ہمسائے میں رہنے والے مختلف مذاہب کے افراد اس طرح رہتے ہیں، جیسے ایک گلدان میں مختلف رنگوں اور خوشبوؤں کے حامل پھول رہتے ہیں، تو پھر ایک ملک ہونے کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ہمسایہ میں امن سے کیوں نہیں رہا جا سکتا؟

عمران خان نے بہت خو بصورت بات کہی تھی:”جنگ کوئی نہیں جیتتا…… اگر کوئی یہ سمجھے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل ہے تو یہ محض ایک غلط فہمی ہے“…… یہ بات بھی حقیقت ہے کہ دنیا کو گذشتہ کئی دھائیوں سے موسمی تبدیلیوں کا سامنا ہے،ہر ملک میں سردیوں میں شدید سردی اور گرمیوں میں شدید گرمی کے علاوہ ماحولیا تی آلودگی کا بھی چیلنج درپیش ہے جو آنے والی نسلوں کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے۔کینسر اور ایڈز، نسل پرستی اور غربت جیسے مسائل دنیا کو درپیش ہیں۔ دہشت گردی ایک ناسور بن چکی ہے۔ اس وقت تمام ممالک کو مل کر ان چیلنجوں سے نمٹنا اور پوری دنیا کے دینی و سیاسی رہنماؤں کو امن کا پیغام دینا چاہئے۔ ہمیں اس بات پر زور دینا چاہئے کہ ہم آنے والی نسلوں کوکیسی دنیا دے کر جا رہے ہیں؟ کیا آنے والی نسلوں کا حق نہیں کہ وہ امن کی فضا میں سانس لے سکیں؟ کیا ہماری رگوں میں موجود خون کا رنگ ایک نہیں؟کیا ہم سب مل کر نہیں رہ سکتے؟ کیا ایک دوسرے کی سالمیت کے لیے خطرہ بننا ضروری ہے؟ہمیں انسانیت، بھائی چارے اور امن و آ شتی کو بڑ ھاوا دینا چاہئے۔

اگر امریکہ ویت نام سے دوبارہ مراسم قائم کر سکتا ہے،اگر بنگلا دیش پاکستان کے دوبارہ قریب آ سکتا ہے،اگر ویسٹ اور ایسٹ جرمنی دوبارہ اکٹھے ہو سکتے ہیں،اگر انگلینڈ اور جرمنی کے بارڈر کھل سکتے ہیں اور اگر جاپان و امریکہ، طالبان و امریکہ، شمالی کوریا و امریکہ، عراق، امریکہ، روس، افغانستان، ازبکستان، ترکمانستان، کازغستان کے معاملات پر روس ان کے ساتھ مل کر مسائل حل کر سکتا ہے تو حالیہ صورت حال کو مذاکرات کے ذریعے حل کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ کاش!یہ بات مودی کی سمجھ میں بھی آ جائے اور وہ بھی امن اور بھائی چارے کی بات کرے۔ کاش دنیا بھر کے ممالک ہتھیاروں کی دوڑ سے باہر نکل کر اپنی اپنی قوم کی فلاح و بہبود پر توجہ دیں،تاکہ عالمی مسائل احسن طریقے سے حل ہو سکیں۔ ایک دوسرے کو ماننے یا نہ ماننے کا مسئلہ نہیں،اگر مسئلہ ہے تو وہ صرف انسانیت کا ہے۔

ہمیں انسانیت کو بچانا اور اپنی اَنا کے بتوں کو توڑ کر عالمی امن کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے فورم کو حقیقی طور پر ایک فعال ادارہ بنانا ہو گا۔ انٹر نیشنل قوانین کی رٹ دنیا میں قائم کرنا ہو گی اور عالمی امن کے وسیع معاہدے طے کرنا ہوں گے کہ آنے والے سو سال تک دنیا میں کوئی جنگ نہیں ہو گی اور سب ممالک مل کر مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل کریں گی۔ کاش! میرا یہ خواب ایک حقیقت بن جائے اور پوری دنیا کے دروازے ایک دوسرے کے لئے کھول دیئے جائیں۔ شاید اسی طرح دنیا میں امن قائم ہو سکے اور دنیا امن اور آشتی کا گہوارہ بن جائے، آمین۔

مزید :

رائے -کالم -