دلدل

دلدل
دلدل

  

اپوزیشن جماعتوں نے یہ یقین ہونے کے بعد کہ حکومت نہ صرف اپنے ہی بوجھ تلے دب رہی ہے، بلکہ ریاست پر بوجھ ڈال رہی ہے،اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی۔محاذا آرائی کو ترک کر کے حکومت کو ہٹانے کے لئے وہی طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے جو موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں لانے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ یہ علیحدہ سے ایک بحث ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی زیادہ پائیدار یا فائدہ مند ثابت ہو گی یا نہیں۔فی الوقت اتنا ہی جان لیں کہ گیم بہر طور شروع ہو چکی ہے۔اسٹیبلشمنٹ کا تجربہ کار سیاسی جماعتوں کو منظر سے ہٹا کر نئی کنگز پارٹی تحریک انصاف کے ذریعے ملک چلانے کا منصوبہ نہ صرف بری طرح سے پٹ چکا ہے، بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بربادی پھیلاتا جا رہا ہے۔یوں تو ہر شعبے کا ہی بُرا حال ہے، مگر اقتصادی حوالے سے اس حکومت نے جو گل کھلائے ہیں اس سے غریب اورمتوسط طبقات تو کیا امیر لوگ بھی گھبرا گئے ہیں۔غیر جانبدار ماہرین کھل کر کہہ رہے ہیں کہ پونے دو سال کے دوران جو معاشی کھلواڑ کیا گیا ہے، اس کا مداوا اگلے 10سال میں بھی ممکن نہیں ہوگا۔اب تو جہاں جائیں لوگ پوچھتے ہیں کہ ہماری جان کب چھوٹے گی؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حکمران اشرافیہ کو عوام کی مشکلات تو کیا، بعض اوقات جغرافیائی صورت حال سے بھی کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

رولنگ ایلیٹ کی موج مستی اور ڈنڈے کے زور پر اختیارات بر قرار رہیں، عوام جائیں بھاڑمیں۔ہاں مگر جب حالات کی تپش خود اصل حکمران گروہ تک پہنچنا شروع ہو جائے تو پھر ان کے لئے بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔شاید یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔دیکھنا صرف یہ ہے کہ کس کے گناہ کا کفارہ کون ادا کر ے گا؟ مہنگائی بے روزگاری اور لاقانونیت سے تنگ کروڑوں پاکستانیوں کو آخر کس قسم کے اقدامات سے مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اچھی خاصی چلتی حکومتوں کو بھی چلتا کردیا جاتا ہے، لیکن اگر حکومت سرے سے چل ہی نہ رہی ہو تو صورت حال کو زیادہ دیر تک جوں کا توں نہیں رکھا جا سکتا۔تحریک انصاف نے پاکستان میں اپنی نوعیت کا انوکھا طرز حکومت پیش کیا۔تمام معاملات تنزلی کی طرف جا رہے ہیں یا اپنی جگہ رکے ہوئے ہیں۔ملک کے تمام اداروں کی علانیہ حمایت اور عملی امداد حاصل ہونے کے باوجود کوئی چیز ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ ایسے میں اداروں کے دھکے سے حکومت آگے نہ بڑھی تو ٹوٹ کر بکھر جانا اس کا مقدر ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کو صرف لوکل ہی نہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بھی مکمل آشیر باد حاصل رہی۔

اس دوران ملک کے اندر ہی نہیں باہر بھی ایسے واقعات پیش آئے جن کا محض پونے دو سال قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتاتھا۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو یو ں نگلا جیسے پوچھنے والا ہی کو ئی نہ ہو۔ملک کے اندر شدید تنقید کا رخ بدلنے کے لئے عمران خان نے عالمی لیڈر بننے کی کوشش کی تو اور تماشا لگ گیا۔سعودی عرب کا معمولی سا دباؤ آنے پر ملائشیا کا دورہ منسوخ کرنا پڑ گیا۔سفارتی محاذ پر بے شمار واقعات ہیں،جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں۔یہ الگ بات ہے کہ اداروں کے اثرورسوخ کو استعمال کر کے ملک کے اندر میڈیا میں کوتاہیوں کو بھی کارنامے دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ زمینی حقائق تو بہر حال تبدیل نہیں ہو سکتے۔اب عمران خان کہتے ہیں کہ لوگ ٹی وی دیکھنا اور اخبار پڑھنا چھوڑ دیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔شاباش ہے ان پر کہ اتنا ہی علم نہیں کہ اگر عوامی غم و غصہ میڈیا کے ذریعے نہ نکلا تو اقتدار کے ایوان کو بہا لے جانے کے لئے لاوے کی طرح پھٹنے میں دیرنہیں لگاتا۔کسی سیاسی حکمت عملی کے تحت عصر کے وقت روزہ توڑ کر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے سرنگوں ہونے والی مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت عام انتخابات کی مہم کے دوران بار بار دھراتی رہی کہ ملک کو کسی کھلاڑی یا اناڑی کے سپرد نہ کیا جائے ورنہ بہت نقصان ہوگا، پھر بالکل ایسا ہی ہوا۔

اب اپوزیشن جماعتیں ایک سائیڈ پر ہو گئی ہیں۔شاید یہ سوچا گیا کہ جب یہ حکومت ملک تو کیا خودکوبھی سنبھالنے کے قابل نہیں تو ہم اداروں میں بیٹھے مخالف عناصر کے ساتھ لڑائی میں اپنی توانائیاں اورو قت ضائع کیوں کریں؟یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب وہ طاقتیں جو پی ٹی آئی کو حکومت میں لائیں،اپوزیشن کے بارے میں قدرے نیوٹرل ہو گئی ہیں۔اس دوران پی ٹی آئی حکومت خود اپنے اعمال کے باعث ہر حوالے سے بے نقاب ہوتی جا رہی ہے۔ گندم بحران کو ہی دیکھ لیں، کیسے گندم برآمد کی گئی، اب پھر درآمد کی جا رہی ہے۔چینی کے معاملے میں بھی اسی طرح سے ڈبل دیہاڑیاں لگائی جا رہی ہیں۔کرپشن نہ صرف بڑھ چکی،بلکہ ریٹ میں بھی اضافہ ہو گیا۔اس حکومت سے چھوٹے بڑے تمام بظاہر مافیا کو برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں۔لوگ حیران ہیں کہ اگر ایسے مافیاز موجود ہیں تو ان کے خلاف کارروائی سکاٹ لینڈ یارڈ نے کرنی ہے کیا؟ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جن کو مافیاز کہا جا تا ہے، وہ اقتدار کے ایوانوں میں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہی نہیں،بلکہ نظام حکومت کا باقاعدہ حصہ ہیں۔یہ گروہ بڑی دیر سے بعض حلقوں کے کہنے پر پی ٹی آئی پر سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ بنی گالا فارم ہاؤس کے اخراجات کون اٹھاتا رہا؟یہ سوال آج بھی باربار اٹھایا جا رہا ہے۔”صاف چلی شفاف چلی، تحریک انصاف چلی“ کا نعرہ لگانے والوں کا یہ حال ہے کہ فارن فنڈنگ کا سنسنی خیز کیس رکوانے کے لئے آج خود عمران خان عدالتوں سے رجوع کرتے پھر رہے ہیں۔

یہ حکومت شروع دن سے اب تک ہر معاملے پر یو ٹرن لیتی آرہی ہے۔عمران خان کو حکومت میں آنے کے بعد جونہی اندازہ ہوا کہ یہ ان کے بس کا کام نہیں تو صاف کہہ دیا کہ یو ٹر ن تو عظیم لیڈر لیتے ہیں۔ تمام تروعدہ خلافیوں کے بعد بھی ا گر نظام حکومت کسی نہ کسی طریقے سے چلتا رہتا تو کپتان کے ”افکار عظیم“ کو کسی حد تک مانا جا سکتا تھا، مگر یہاں تو سب رکا پڑا ہے یا الٹ ہو رہا ہے۔ ”کہنا کچھ،کرنا کچھ“ کا یہ عالم ہے کہ بجٹ دستاویز میں واضح طور پر بتا یاکہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات مسلم لیگ(ن) کے دور کی نسبت بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کے بھونپو ہیں کہ آج بھی نہایت ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ اخراجات کم ہو گئے۔ عمران خان بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس تک آنے کے لئے ہیلی کاپٹر ا ستعمال کررہے ہیں، اکثر ان کا کتا بھی ساتھ ہوتا ہے۔پروٹوکول بادشاہانہ نہیں شہنشاہانہ ہے، جس شہر جاتے ہیں سب کچھ بند ہو جاتا ہے۔ گاڑیوں کی طویل قطاریں،رکی ہوئی ٹریفک اور لوگوں کی بے بسی کا مذاق اڑاتے فراٹے بھرتی گزر جاتی ہیں۔حکومت میں موجود تمام شخصیات خوب لطف اٹھا رہی ہیں۔پاکستان میں چینی کی 40 فیصد مارکیٹ جہانگیرین ترین اور خسرو بختیار کے قبضے میں ہے۔ایک محتاط رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت میں صر ف ایک روپے کلو اضافہ ہو تو صرف ترین کو ایک ارب روپے سے زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کمائی کتنی اور کس سطح پر کی جا رہی ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان کا اعلان تھا کہ وہ بہت کم غیر ملکی دورے کریں گے،لیکن یہاں بھی یو ٹرن ہوا۔پے درپے غیر ضروری دورے کر کے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں۔ایسے میں سفارتی آداب اور ضابطہ اخلاق کا کچومر نکالا جا رہا ہے۔

امریکہ کے ایک دورے پر جاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد کے کہنے پر ان کا خصوصی طیارہ لے گئے۔وہ کس کی نمائندگی کررہے تھے۔ پچھلے دنوں ڈیووس گئے تو بتایا کہ حکومت کے صرف 68ہزار ڈالر لگے ہیں،باقی خرچہ اکرام سہگل اور عمران چودھری نامی سرمایہ داروں نے اٹھایا ہے۔ یہ انتہائی خطر ناک اور پرلے درجے کی غیرذمہ دارانہ حرکت ہے۔آج لوگ ان پر رقم لگا رہے ہیں کل کو وصولی کیوں نہیں کریں گے۔عمران خان خود پر پیسہ لگانے والوں کے سامنے آنکھ کیسے اٹھا سکیں گے، جبکہ وہ تو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ مَیں مافیا کو جانتا ہوں،مگر نام نہیں لے سکتا۔آج ملک میں مضبوط ادارے موجود ہوتے تو نجی سرمایہ کاروں کے خرچے پر عمران خان کا غیر ملکی دورہ نیشنل سیکیورٹی کی خلاف ورزی قرار پاتا۔افسوس ہر کوئی اپنا اپنا سوچ رہا ہے۔عوام کی کسی کو پروا نہیں۔نوا ز شریف،شہباز شریف کے ساتھ لندن چل دئیے،مریم نواز تو کیا کیپٹن(ر) صفدر نے بھی چپ ساد ھ لی۔مانا یہ سب بے سبب نہیں، مگر اس رویے سے جمہوریت پسند حلقوں کو سخت دھچکا لگا ہے۔پیپلز پارٹی پہلے ہی تائب ہو چکی۔اپنے جرأت مندانہ بیانات اور اجتماعات کے ساتھ مولانا فضل الرحمن اور بعض قوم پر ست جماعتیں میدان میں ہیں۔بڑی اپوزیشن جماعتیں یہ بھانپ چکی ہیں کہ حکومت کی یہ دکان زیادہ دیر نہیں چلنے والی،اب شاید کہیں نئے عہدو پیمان ہو رہے ہیں کہ جیسے ہی یہ دکان خالی ہو، ان کو پھر سے کر ایہ دار کے طور پر موقع دیا جائے۔ملک کو مستقل بنیادوں پردلدل سے نکالنے کے لئے جو کچھ ہونا چاہئے فی الحال تو اس کے دور تک کوئی آثار نہیں،اس لئے کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ آنے والا وقت بہتر ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -