لائن آف کنٹرول

لائن آف کنٹرول
لائن آف کنٹرول

  

مقبوضہ کشمیر میں حالات مسلسل خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔ بھارتی حکومت ایسے حالات میں کوئی ڈرامہ کر کے اس کا الزام پاکستان پر لگا سکتی ہے۔ درحقیقت لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی بھارتی پالیسی کا ایک مستقل حصہ بن چکی ہے۔ اس سے پورے خطے میں کیسے کیسے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں؟ بدقسمتی سے بھارتی قیادت اس پر توجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہے……بھارتی پروفیسر اور دفاعی تجزیہ کار ہیپی مون جیکب کو پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر سفر کرنے کا موقع ملا۔ دونوں ممالک کی افواج نے انہیں ان علاقوں میں وقت گزارنے کا موقع دیا، جنہیں خطرناک ترین کہا جا سکتا ہے اور یہ علاقے کسی بھی وقت ایٹمی جنگ کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہیپی مون جیکب، جواہرلال یونیورسٹی نیودہلی میں سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ”دی ہندو“ اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور قومی سلامتی کے امور پر ایک ہفتہ وار ٹی وی شو کرتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے ٹریک ٹو مذاکرات کا حصہ بھی رہے ہیں۔ دفاعی معاملات اور کشمیر پر متعدد کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔ ان کی کتاب ”دی لائن آف کنٹرول“ مسئلہ کشمیر کے چند نئے پہلوؤں پر روشنی ڈالتی اور سوچ کے نئے در وا کرتی ہے…… پاکستان اور بھارت کے درمیان تین قسم کی سرحدیں ہیں۔ ایک انٹرنیشنل بارڈر ہے، جسے دونوں ملک تسلیم کرتے ہیں۔ دوسرے کو ورکنگ باؤنڈری کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے ایک طرف مقبوضہ کشمیر کا متنازعہ علاقہ ہے تو دوسری طرف پاکستان کے تسلیم شدہ علاقے ہیں، یعنی گجرات اور سیالکوٹ وغیرہ۔ اس کے بعد لائن آف کنٹرول ہے،جس کے ایک طرف مقبوضہ کشمیر ہے اور دوسری طرف آزاد کشمیر۔ان تینوں سرحدوں میں سب سے زیادہ سیزفائر کی خلاف ورزی لائن آف کنٹرول پر ہوتی ہے،جس میں سول آبادی کے لوگ مارے جاتے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دونوں طرف مارے جانے والے کشمیری ہوتے ہیں، بلکہ اکثر صورتوں میں رشتے دار بھی ہوتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان نومبر 2003ء میں سیزفائر کا معاہدہ ہوا، مگر اس کی مسلسل خلاف ورزی ہوتی رہی۔ سویلین کے علاوہ درجنوں بھارتی ہلاک اور پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔ نریندر مودی کے دور میں ان خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا اور 2017ء اس حوالے سے سب سے زیادہ خونی سال ثابت ہوا۔ پاکستان نے بھارت کی سیزفائر کی 2915خلاف ورزیاں رپورٹ کیں، جبکہ بھارت نے پاکستان پر ایسی 2408 خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ہے۔ مودی کی حکومت میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 2018ء کے ابتدائی ما ہ میں پاکستان نے 900ایسے واقعات کی نشاندہی کی، جبکہ بھارت نے 633 مرتبہ پاکستان پر الزام لگایا۔لائن آف کنٹرول پر اتنے بڑے پیمانے پر جو خلاف ورزیاں ہوتی ہیں،ان میں لاکھوں گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ ہیپی مون کے مطابق جیسے بارش کے قطروں کو گننا ممکن نہیں، اسی طرح گولیوں کی اس بارش کے حوالے سے بھی کہا جا سکتا ہے۔

1947ء سے لے کر بھارتی آرٹلری جو گولہ باری کرتی ہے اور 20 سے 50 مربع میل کے علاقے میں جو تباہی آتی ہے اس کا تصور کرنا خاصا مشکل ہے۔ 2013ء سے 2018ء کے آغاز تک تقریباً 140 انڈین اور پاکستانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہیپی مون کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے مناظر تیز موسیقی کے ساتھ جنگی جوش و جذبے کے ساتھ بھارتی ٹیلی ویژن کی سکرین پر دکھائے جاتے ہیں اور دیکھنے والے ایک قسم کے جنگی جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کے لئے ان مصائب و آلام کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا، جن میں سے متاثرہ لوگ گزر رہے ہوتے ہیں۔ہیپی مون نے کتاب لکھتے ہوئے غیرجانبداری کا مظاہرہ کرنے کی پوری کوشش کی ہے، مگر پاکستانی امور سے متعلق ان کے ہاں زیادہ سے زیادہ ہمدردی نظر آتی ہے، جبکہ بھارت سے اپنی محبت کو چھپانا بھی ان کے لئے ممکن نظر نہیں آتا، تاہم ہیپی مون نے ایک نازک موضوع پر انصاف کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے ملک سے ہے، جہاں پاکستان دشمنی انتخابی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جن دنوں ہیپی مون پاکستان آئے، ان دنوں بی جے پی اور اس کی سوشل میڈیا ٹیم کانگریس پر الزام لگا رہی تھی کہ اس نے پاکستان کے معاملے میں قومی لائن کو عبور کیا ہے۔ بی جے پی کے جیالے ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے کہ منموہن سنگھ نے پاکستانیوں کے ساتھ ڈنر کر کے ناقابل معافی جرم کیا ہے، جبکہ کانگریس پارٹی جوابی حملے کر رہی تھی کہ آخر نریندر مودی، میاں نوازشریف کے خاندان میں شادی کی تقریب میں کیوں گئے تھے؟ کیا انہیں مدعو کیا گیا تھا؟ اس صورت حال میں ایک بھارتی پروفیسر اور تجزیہ کارکے لئے پاکستان کی یاترا کا عزم کرنا خاصا مشکل تھا……ہیپی مون کی کتاب کئی حوالوں سے اہم ہے، مگر اس نے جس طرح کنٹرول لائن کے ساتھ رہنے والے سویلین افراد کا تذکرہ کیا ہے، اس سے ان لوگوں کے مسائل پر روشنی پڑتی ہے جو لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف زندگی بسر کر رہے ہیں اور سیزفائر کی خلاف ورزیاں انہیں بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ اس کتاب کو ان افراد کے مسائل بھارتی عوام تک پہنچانے کی ایک اچھی کوشش بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کنٹرول لائن پر زندگی کو ایک ایسے فائرنگ سکواڈ کے سامنے رہنے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، جسے اپنے کام کی جلدی نہ ہو۔ ایک مسلسل خطرے کی صورت حال میں رہنے سے افراد کی نفسیات پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے، تاہم کتاب میں یہ بات اعدادوشمار کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ بھارتی افواج سیزفائر کی زیادہ خلاف ورزیاں کرتی ہیں اور اس ضمن میں اس خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی وقت کوئی جذباتی لمحہ کسی بڑی جنگ یا تباہی کو جنم دے سکتا ہے۔ میدان جنگ میں بیٹھے ہوئے سپاہیوں کی ترجیحات ہیڈکوارٹر میں بیٹھے ہوئے افسروں سے مختلف ہوتی ہیں۔

ہیپی مون کی کتاب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عملی طور پر بھارت خصوصاً نریندر مودی کے دور میں لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی خلاف ورزیاں کر کے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتا، جبکہ زبانی طور پر وہ پاکستان کو دس روز میں ختم کرنے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ گزشتہ دنوں پاک فوج کے ترجمان نے بھارتی گیدڑ بھبھکی کا منہ توڑ جواب دیا تھا اور کہا تھا کہ جو فوج 80لاکھ کشمیریوں کو شکست نہیں دے سکی وہ 21کروڑ پاکستانیوں کو کیسے شکست دے سکتی ہے؟ مگر بھارت پورے خطے میں جو جنگی جنون پیدا کرتا رہا ہے۔ کوئی چھوٹاموٹا حادثہ کسی بڑی تباہی کی وجہ بن سکتا ہے۔ دنیا کو اہل کشمیر کو ان کا حق دلانے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اہل بھارت کو یہ نوشتہء دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ ظلم کی بنیاد پر غیر معینہ عرصے تک کسی علاقے پر قبضہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -