کشمیر کا آتش فشاں اور اقوامِ عالم کی بے حسی

کشمیر کا آتش فشاں اور اقوامِ عالم کی بے حسی
کشمیر کا آتش فشاں اور اقوامِ عالم کی بے حسی

  

پوری قوم نے 5 فروری کوکشمیری بھائیوں سے یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا، ایسا ہم ہر سال کرتے آئے ہیں۔ جس طرح ہم اس کے عادی ہو گئے ہیں،بھارتی حکومت بھی اس کی عادی ہو چکی ہے، اس لئے اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ رہی بات دنیا کی تو اسے ان مظاہروں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ وہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی ماری ہوئی ہے، جس کے لئے نہتے کشمیریوں سے زیادہ سو ارب آبادی کی مارکیٹ اہم ہے، جو بھارت سنبھالے ہوئے ہے۔ چھ ماہ سے زیادہ ہو گئے کشمیریوں کو گھروں میں محبوس ہوئے، نجانے کتنے زندگی کی سختیاں برداشت نہ کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر دنیا ہے کہ اس جانب توجہ دینے کو تیار نہیں …… وزیراعظم پاکستان کی جنرل اسمبلی میں تقریر دنیا کے لئے ایک بہت بڑا پیغام تھی، لیکن ضمیر عالم سویا ہوا ہے اور اٹھنے کو تیار نہیں۔ خیر اس کی تو سمجھ آتی ہے، مگر یہ مسلم امہ کو کیا ہوا ہے، اسے کس بات نے 80 لاکھ کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھانے سے روک رکھا ہے؟…… وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہئ ملائشیا میں مسلم امہ کی اس بے حسی پر تنقید کی، افسوس کا اظہار کیا اور او آئی سی کے کردار کو بھی اسلامی امہ کی توقعات کے برعکس قرار دیا۔ اب کچھ حلقے ان کے اس مؤقف پر تنقید کر رہے ہیں کہ انہیں ملائشیا میں بیٹھ کر او آئی سی پر تنقید نہیں کرنی چاہئے تھی،کیونکہ کچھ عرصہ پہلے وہ ملائشیا میں ہونے والی مسلم ممالک کی کانفرنس میں شرکت کے لئے صرف اس وجہ سے نہیں گئے تھے کہ سعودی عرب نے اس کانفرنس کو او آئی سی کے مقابل ایک نئی تنظیم قرار دیا تھا…… مگر مَیں سمجھتا ہوں وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست کہا ہے۔ اسلامی ممالک بھی اگر مسلمانوں کی مدد کو نہیں آئیں گے، تو پھر کون آئے گا؟ اگر مسلم امہ کے مسائل پر او آئی سی حرکت میں نہیں آتی تو پھر اس کے قیام کا جواز کیا ہے؟

پارلیمینٹ میں تقریریں تو بہت دھواں دار ہوتی ہیں، مگر وہاں اصل مسئلے پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جاتی ہے……مثلاً خواجہ آصف کی ساری تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ہو گئی ہے، کیونکہ صرف چار اسلامی ممالک نے کشمیر کے مسئلے پر بھارت کے خلاف آواز اٹھائی ہے، اسلامی ممالک کی تنظیم نے تو اس پر اجلاس تک نہیں بلایا۔ کیا پاکستان کی اتنی بساط ہے کہ اسلامی ممالک کو کان سے پکڑ کر کشمیریوں کی حمایت پر مجبور کر دے؟ کیا سعودی عرب، قطر، کویت جیسے ممالک پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے؟ جن کی امداد پر ہماری معیشت چلتی ہے اور سیاسی فیصلے ہوتے ہیں؟ کیا سب نے دیکھا نہیں کہ سعودی عرب نے وزیر اعظم عمران خان پر دباؤ ڈال کر انہیں ملائشیا کانفرنس میں جانے سے روکا، نہ ماننے کی صورت میں تمام اقتصادی فوائد واپس لینے کی دھمکی دی۔ کیا عمران خان کی جگہ نوازشریف وزیر اعظم ہوتے تو سعودی عرب کی بات نہ مانتے؟ ایسی باتیں نہیں کرنا چاہئیں جو زمینی حقائق کے خلاف ہوں۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک نے بھی اپنی معیشت کو مقدم رکھا ہوا ہے، ان کے نزدیک بھی مسلم امہ کی ترکیب اتنی اہم نہیں رہی۔ بھارت جب متحدہ عرب امارات میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کرے گا تو نریندر مودی کو میڈل کیوں نہیں پہنایا جائے گا؟…… اور پھر جسے میڈل پہنایا جائے اسے وارننگ کیسے دی جا سکتی ہے، دھمکایا کیونکر جا سکتا ہے؟سو خاموشی ہی مفادات کی چادر اوڑھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کو زمین سے لگا کر ہمارے سیاست دان بڑی بڑی بڑھکیں ضرور مارتے ہیں، مقصد صرف عوام کو دھوکہ دینا ہوتا ہے۔ آج کی دنیا میں ہر ملک اپنا معاشی مفاد دیکھتا ہے۔ جس ملک کی معیشت مضبوط ہے، وہ چھوٹا ہونے کے باوجود دنیا میں اہمیت اختیار کر جاتا ہے، قطر کی مثال سامنے ہے۔ ہم اپنی آبادی دکھا کر اگر خود کو ایک بڑا ملک ظاہر کریں گے تو دنیا اس سے متاثر نہیں ہو گی، اُلٹا یہ پیغام جائے گا کہ ہمیں زندہ رہنے کے لئے قرضے لینے پڑیں گے اور قرض مانگنے والوں کی آواز کبھی مضبوط نہیں ہوتی۔

بھارت کو اگر کشمیر میں کسی سے خطرہ ہے تو وہ نہتے کشمیری ہیں، جن کے سینوں میں آزادی کی تڑپ موجود ہے اور جو پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود بھارت کو چین نہیں لینے دے رہے۔ مقبوضہ وادی میں ان کی جدوجہد جاری ہے اور بھارتی سرکار کو یہ جرأت نہیں ہو رہی کہ وہ جموں و کشمیر کو دنیا کے لئے کھولے۔ دنیا نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل بھی بیانات سے آگے نہیں بڑھ رہیں، اسلامی ممالک کی تنظیم خواب غفلت میں پڑی ہوئی ہے۔ ایک پاکستان کی آواز ہے جو نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہو رہی ہے۔ بھارت اپنی 9 لاکھ فوج کو مقبوضہ وادی کے چپے چپے پر بٹھا کر بھی کشمیریوں کی آواز دبانے میں بری طرح ناکام ہے۔ ان کی لاشوں کو چھپا کر، ان پر ہر طرح کی پابندیاں لگا کر، اظہار کے ہر راستے کو بند کر کے، بھارت یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ کشمیر میں اس نے یورش پر قابو پا لیا ہے، یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کشمیری عوام اس کی دی ہوئی شناخت پر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ وہ ایک خوفزدہ اور بزدل قابض لومڑی کی طرح دنیا کو دھوکہ دے رہا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، کشمیر کی حالت مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ کسی اور کی وجہ سے نہیں،بلکہ خود کشمیریوں کی وجہ سے ہے، جن کے اندر آزادی کی تڑپ پہلے سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ جو گلی محلے میں قابض بھارتی فوج کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔جنہیں بھوک، پیاس اور ڈیڑھ سو دنوں کی قید و بند حوصلے اور جذبے سے محروم نہیں کر سکیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلی لائے کہ دنیا مسئلہ کشمیر پر توجہ دے اور بھارت پر دباؤ ڈالے۔ خارجہ پالیسی کی سب سے اولین ڈور امریکہ سے ہلتی ہے۔دنیا میں کوئی بھی کام امریکی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ امریکہ کو کشمیر کے بارے میں صورتِ حال کی سنگینی کا علم نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ سے ون او ون ملاقاتوں میں یہ مسئلہ ہر بار زیر بحث آیا ہے اور امریکی صدر نے کئی بار اس کا اظہار بھی کیا ہے کہ دونوں ممالک چاہیں تو وہ کشمیر پر ثالثی کرانے کو تیار ہیں …… پھر کوئی تو ایسی وجہ ہے کہ امریکی صدر یہ پیشکش کرنے کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں۔دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکہ نے پچھلے پانچ ماہ سے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کو رکوانے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، اُلٹا نریندر مودی کے ساتھ مشترکہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی تعریف میں فصاحت و بلاغت کے دریا بہائے۔ ایک تجویز یہ بھی درمیان میں آئی کہ پاکستان افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء اور طالبان سے معاہدے کے لئے اپنی حمایت کو کشمیر کے مسئلے سے منسلک کر دے…… مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور کو اس طرح پابند کیا جا سکے؟……افغانستان کا مسئلہ بجائے خود پاکستان کے لئے ایک بڑا سر درد ہے، چہ جائیکہ وہ اسے امریکہ کے ساتھ بارگیننگ کے لئے استعمال کرے……دنیا کشمیر کے مسئلے سے جتنا چاہے اجتناب برتے، جتنا چاہے نظر انداز کرے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ ایک بڑا فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔

ایک بڑا آتش فشاں، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ بھارت اسے دبانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ایک طرف کشمیریوں کو محبوس رکھ کر اور دوسری طرف دنیا کو اپنی انسانی منڈی کی چکا چوند میں اُلجھا کر…… تاہم دنیا مصلحت کے باوجود اس حقیقت کو جان چکی ہے کہ کشمیر دنیائے عالم کا ایک بڑا ایشو ہے، جسے حل ہونا چاہئے۔ خطے کے ممالک ہی نہیں، بلکہ یورپ اور شمالی و جنوبی امریکہ تک اس مسئلے کی گونج موجود ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بالکل درست کہا ہے کہ کشمیر میں جنم لینے والے انسانی المئے کو اگر روکا نہ گیا تو دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔کشمیر دو ایٹمی ممالک کے درمیان سات دہائیوں سے چلا آنے والا حل طلب مسئلہ ہے،جس پر دونوں ممالک میں جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ اگر اقوامِ عالم اس مسئلے کی اہمیت کو نہیں سمجھتیں اور مصلحت کا شکار رہتی ہیں تو شاید انہیں اس کی ا یک بڑی قیمت چکانا پڑے گی۔

مزید :

رائے -کالم -