مسئلہ فلسطین ہو یا کشمیر، حل کیلئے ٹرمپ کا فارمولا مستر د کرتے ہیں: چودھری سرور

مسئلہ فلسطین ہو یا کشمیر، حل کیلئے ٹرمپ کا فارمولا مستر د کرتے ہیں: چودھری ...

  

لاہور(لیڈی رپورٹر،ایجنسیاں) گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ کشمیر پر امر یکی صدر ٹرمپ کاکوئی فارمولا تسلیم کر نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے ٹر مپ نے جو فارمولادیا اس کو بھی مستر دکرتے ہیں،کشمیر پاکستان اور پاکستان کشمیر ہے دونوں جدا نہیں ہوسکتے، بھارت جبرو تشدد کے ذریعے تحریک آزادی کشمیر کو ختم نہیں کرسکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کے دائرے کے اندر رہ کر ہی ثالثی کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری عوام ہیں اور انہیں اس مسئلے کے حل کے کسی بھی عمل سے کسی صورت باہر نہیں رکھا جاسکتا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی خاطر اسرائیلی ماڈل متعارف کروانا چاہتا ہے مگر ہم اسے ایسا کرنے کی کبھی اجازت نہ دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں منعقدہ ایک خصوصی نشست سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نشست کا اہتمام نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا جس کی صدارت چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ نے کی۔ نشست سے نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد‘ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین میاں فاروق الطاف‘ سلمان غنی‘ صاحبزادہ سلطان احمدعلی‘ سجادہ نشین سید ہارون گیلانی‘ طیبہ ضیاء چیمہ‘نظریہئ پاکستان فورم آزاد جموں و کشمیر کے صدر مولانا محمد شفیع جوش اور فاروق آزادنے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر بیگم مہناز رفیع‘ چوہدری نعیم حسین چٹھہ‘ پروفیسر سیف اللہ خالد‘ کرنل(ر)زیڈ آئی فرخ‘بیگم صفیہ اسحاق اور عثمان سعید بھی موجود تھے۔نشست کے دوران مون پبلک سکول‘ ٹمبر مارکیٹ راوی روڈ‘لاہور کے طلبا نے کشمیری ترانہ ”انڈیا جا جا کشمیر سے نکل جا“ پیش کیا۔ چوہدری محمد سرور نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کی بدولت وہاں بہت جلد آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام انتہائی مشکل حالات میں بھارت کے ظلم و ستم کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس کے باوجود ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ ہم ان کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔ در حقیقت وہ ہماری جنگ لڑرہے ہیں۔نریندرا مودی اسرائیلی ماڈل کی طرز پر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے مگر ہم اسے ایسا کبھی نہ کرنے دیں گے۔پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحریک پاکستان اس وقت ہی مکمل ہوگی جب کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہو جائے گا۔ مسلم انسٹی ٹیوٹ انٹرنیشنل کے سربراہ خانوادہئ حضرت سلطان باہوؒ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دس پندرہ سالوں سے ہماری حکومتوں نے مسئلہ کشمیر پر غیر سنجیدگی پر مبنی طرز عمل اختیار کر لیا ہے۔ اگر پاکستان کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے بھارت سے جنگ کرتا تو سوائے صہیونی ریاست کے باقی سب ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ مولانا محمد شفیع جوش نے کہا کہ بھارت پاکستان کو بغیر کسی جنگ کے بنجر بنانے کا منصوبہ بروئے کار لا رہا ہے۔ سلمان غنی نے کہا کہ پاکستانی عوام کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ٹرمپ سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ پیر سید ہارون گیلانی سجادہ نشین دربار حضرت میاں میر صاحبؒ نے کہا کہ آج کشمیر کے مظلوم مسلمان امداد کیلئے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اور ان کی خون آلود تصاویر دراصل ہمارے منہ پر طمانچے کے مترادف ہیں۔ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔ ہمیں ایک بالغ نظر قیادت کی ضرورت ہے جو تبدیل شدہ عالمی حالات سے فائدہ اٹھا سکے جیسے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اٹھایا ہے۔

کشمیر کانفرنس

مزید :

صفحہ آخر -