کرونا وائرس چمگاڈر سے ہی منتقل ہوا،”نیچر“ کی تحقیقاتی رپورٹ

کرونا وائرس چمگاڈر سے ہی منتقل ہوا،”نیچر“ کی تحقیقاتی رپورٹ

  

بیجنگ (این این آئی)چین کے شہر ووہان سے شروع ہوکر دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل جانے والے 2019 ناو ل کرونا وائرس کے بارے میں امریکی طبی جریدے نیچر میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین میں پھیلنے والے نئے ناو ل کرونا2000 کی دہائی میں سامنے آنے والے سارز وائرس سے ملتا جلتا نظر آتا ہے اور دونوں کا 80 فیصد جینیاتی کوڈ شیئر ہوتا ہے اور یہ دونوں چمگادڑوں سے آگے بڑھے۔پہلی تحقیق ووہان انسٹیٹوٹ آف وائرولوجی کے ماہرین کی قیادت میں ہوئی جس میں 7 مریضوں سے وائرس نمونے حاصل کیے گئے جن میں شدید نمونیا کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ان میں سے 6 مریض ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ میں کام کرتے تھے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہاں سے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا۔ کر وناوائرس پھیپھڑوں میں جگہ بناتے ہیں اور اسی وجہ سے مریضوں میں نمونیے جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔ کس جانور نے ناول کرونا وائرس کو چمگادڑ سے انسانوں تک پہنچانے کا کام کیا، پہلی تحقیق میں اس حوالے سے چند اشارے دئے گئے ہیں۔

کرونا وائرس

مزید :

صفحہ آخر -