بیرون ملک پاکستانی موبائل فونز پر غیر ضروری ٹیکسوں کے بوجھ سے پریشان

      بیرون ملک پاکستانی موبائل فونز پر غیر ضروری ٹیکسوں کے بوجھ سے پریشان

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے نفاذ کے بعد بیرون ملک پاکستانی، انکے رشتہ داروں اور غیرم ملکی افراد پاکستان آمد پر اپنے موبائل ہینڈ سیٹس پر بھاری ٹیکسوں کے بوجھ کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہورہے ہیں۔ ٹیلی کام انڈسٹری سے متعلقہ اعداد و شمار کے مطابق اس سسٹم کے نفاذ کے بعد سال 2019 سے اب تک صارفین کی جانب سے ٹیکسوں کی عدم ادائیگی پر موبائل آپریٹرز نے تقریبا 3 کروڑ اسمارٹ فونز بلاک کردیئے ہیں۔ موبائل ہینڈ سیٹس کی درآمد کے ساتھ آپریٹرز کی جانب سے ایسے لاکھوں اسمارٹ فونز بھی بلاک کئے گئے جنہیں بیرون ملک پاکستانی اپنے ذاتی استعمال یا اپنے قریبی عزیز یا دوست کے لئے بطور تحفہ لائے۔ ڈی آئی آر بی ایس نظام کے تحت پاکستان میں 60 روز سے زیادہ قیام کرنے والے بیرون ملک پاکستانی اور غیرملکی افراد کو پاکستانی موبائل آپریٹر کا کنکشن استعمال کرنے پر اپنے موبائل ہینڈ سیٹ سے متعلقہ تمام ٹیکسوں کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کثرت سے سفر کرنے والے بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانی، کاروباری افراد، اور سفارتکار ملک میں ایک روز کے لئے قیام کرتے ہیں تاہم وہ بھی اپنے ہینڈ سیٹ پر ٹیکسوں کی ادائیگی کے پابند ہیں کیونکہ چند ایک روز سفر کے بعد وہ واپس چلے جاتے ہیں تاہم ان کا 60 دن کا دورانیہ جاری رہتا ہے اور تین چار ماہ بعد دوبارہ پاکستان آمد پر ان کا موبائل ہینڈ سیٹ مقامی نیٹ ورکس پر غیرفعال ہوجاتا ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں اور غیرملکی افراد کی جانب سے اپنے ہمراہ زیر استعمال شدہ یا پرانے اسمارٹ فونز پر بھی ٹیکسز کی شرح کافی زیادہ ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ٹیکسوں کے ڈھانچے میں کافی سقم موجود ہیں۔ ٹیکسوں کے اس نظام کے مطابق ایک صارف کو موبائل ہینڈ سیٹس کی اصل نئی قیمت پر ٹیکسوں کی ادائیگی کرنی ہوگی چاہے وہ موبائل ہینڈ سیٹس سالوں سے استعمال ہورہا ہو، حالانکہ اسے اب کسی صورت نیا موبائل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ٹیکس کی شرح کو موبائل ہینڈ سیٹ کی ابتدائی قیمت پر متعین کیا گیا یعنی جب وہ نیا سیٹ عالمی مارکیٹوں میں متعارف کرایا گیا، وہی قیمت ٹیکس کے لئے متعین رکھی گئی۔ حالانکہ چند ماہ بعد بیشتر ہینڈ سیٹس کی قیمتوں میں کمی آجاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک صارف 31 ہزار 520 روپے ایسے اسمارٹ فون پر ٹیکسوں کی مد میں ادائیگی کا پابند ہے جو مختلف ممالک میں 350 ڈالر میں دستیاب ہے جبکہ مختلف غیرملکی مارکیٹوں میں پہلے اسکی اصل قیمت 510 ڈالر تھی۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے 30 ڈالر مالیت کے موبائل ہینڈ سیٹس پر 300 روپے سے لیکر 500 ڈالر تک مالیت کے حامل اسمارٹ فون پر 31 ہزار 520 روپے کے ٹیکسز متعین کیا جاتا ہے۔ بیشتر 3G/ 4Gٹیکنالوجیز والے اسمارٹ فونز اس آخری کٹیگری میں آتے ہیں اور ویلیویشن میں انہی مسائل کی وجہ سے صارفین بھاری ٹیکسز کی ادائیگی پر مجبور ہیں۔ ایسے صارفین جو قریبی عزیزوں کے لئے اسمارٹ فونز لاتے ہیں، وہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ ٹیکسوں کی ادائیگی نہیں کرپاتے اور پھر اپنے ہینڈ سیٹس پر صرف وائی فائی ہی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین کو ان افسران کے سامنے بھی اپنا خفیہ ڈیٹا جمع کرانے پر بھی شکایت ہے کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ پاکستان میں قیام کے دوران انہیں اور انکے اہل خانہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستانیوں کی ایک تعداد اپنے ہمراہ ان ہینڈ سیٹس کو بھی واپس بیرون ملک لے جاتی ہے۔ موجودہ حکومت نے ملک میں سیاحت اور برآمدات کو فروغ دینے کے سلسلے میں غیرملکی اور کاروباری افراد کے لئے آن آرائیول ویزہ سمیت مختلف سہولیات شامل کی ہیں۔ تاہم نظام میں اس طرح کے مختلف سقم اور ٹیکس کی بلند شرح انہیں حقیقی سہولت فراہم کرنے میں ایک رکاوٹ ہے۔ ٹیلی کام ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت میں بیرون ملک پاکستانیوں کا کردار بالخصوص ملک میں زرمبادلہ بھیجنے کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ اس لئے بیرون ملک پاکستانیوں کا ٹیکسز کے نام پر استحصال نہیں ہونا چاہیئے۔ ماہرین نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ ڈی آئی آر بی ایس نظام کے تحت ہینڈ سیٹس کی ویلیویشن کے نظام کا جائزہ لے تاکہ بیرون ملک پاکستانی اور غیرملکی افراد سے زائد ٹیکسز کی وصولی سے بچا جائے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -