ایف بی آر: ٹیکس ریونیو میں 17فیصد اضافہ‘ معیشت کی بحالی کیلئے کوششیں تیز

      ایف بی آر: ٹیکس ریونیو میں 17فیصد اضافہ‘ معیشت کی بحالی کیلئے کوششیں تیز

  

ملتان(نیوز رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نیرواں مال سال2019-20ء کے ٹیکس ریونیو میں 17فیصد اور اندرونی ٹیکسز میں 27فیصد اضافہ ہوگیا ہے(بقیہ نمبر37صفحہ12پر)

۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس ریونیو کے حوالے سے بتایا کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کے سات ماہ میں ریکارڈ 2407ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا ہے جو کہ پچھلے سال کے سات ماہ میں اکھٹا ہونے والے 2062ارب روپے کے مقابلے میں 17فیصد زائد ہے۔ یہ اضافہ درآمدات میں پانچ ارب ڈالر کے دباوکے باوجود حاصل کیا گیا۔ پچھلے سال ایف بی آر نے درآمد کے وقت عائد انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی بدولت 1005ارب روپے کا ریونیواکھٹا کیا جس میں رواں سال چھ فیصد اضافہ ممکن ہوا اور درآمد کے وقت کسٹمز ڈیوٹی اور انکم ٹیکس میں منفی اثرات کے باعث 1066ارب روپے کا ریونیو اکھٹا ہوا۔اس کے برعکس پچھلے سال کے مقابلے میں رواں مالی سال اندرونی ٹیکسز میں 27فیصد اضافہ حاصل ہوا اور پچھلے سال کے 1066ارب روپے کے حاصل کردہ اندرونی ٹیکسز کے مقابلے میں رواں سال 1341ارب روپے کا ریونیو اکھٹا ہوا۔ رواں سال میں اضافہ ایف بی آر کی انتھک کوشش کا نتیجہ ہے جو کہ معیشت کی سست روی اور سخت اقدامات نہ اٹھانے کے باوجود حاصل ہوا۔ تاہم یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ معیشت کی بحالی اور ایف بی آر کی کوششوں کے باعث ایف بی آر رواں سال اپنے ہدف کے قریب تر ریونیو حاصل کر لے گا۔(ایف بی آر)نے بے نامی ٹرانزیکشنز امتناع قواعد 2019کے حوالے سے کہا ہے کہ بے نامی ٹرانزیکشنز امتناع قواعد 2019،بے نامی ٹرانزیکشنز امتناع ایکٹ 2017کے تحت ایس آر او نمبر 326(I)2019 بتاریخ گیارہ مارچ دو ہزار انیس کو ڈاکٹر حامد عتیق سرور ایڈیشنل سیکریٹری (ان لینڈ ریوینیو سروس گریڈ 21) نے جاری کئے۔ ڈاکٹر حامد عتیق سرور ایف بی آر کے نوٹیفیکیشن نمبر 2236-IR-I/2018بتاریخ چار دسمبر دو ہزار اٹھارہ سے ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں ممبر آئی آر پالیسی کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ایف بی آر نے مزید وضاحت کی ہے کہ ایف بی آر کے تمام ممبرز اسٹیبلشمنٹ ڈویثرن کے نوٹیفیکیشن بتاریخ اٹھارہ مارچ انیس سو ستاسی کے تحت بہ حیثیت عہدہ ایڈیشنل سیکریٹری کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔

تیز

مزید :

ملتان صفحہ آخر -