حکمران کشمیر کے سوداگر، امریکی ثالثی نامنظور: فضل الرحمن

حکمران کشمیر کے سوداگر، امریکی ثالثی نامنظور: فضل الرحمن

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سربراہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان نے کشمیر پر امریکی ثالثی مسترد کرتے ہوئے حکمرانوں کو کشمیر کا سود ا گر قرار دیدیا۔ انہوں نے موجودہ جمہوریت کو جبروتیت قرار دیتے ہوئے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرنے کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں جے یو آئی ایف کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار کا انعقاد کیا گیا، سیمینار سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا 5 اگست 2019 سے پہلے ہم مقبوضہ کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کی بات کرتے تھے،مگر اب وہاں صرف انسانی حقوق کی پامالیوں کا تذکرہ کررہے ہیں۔ حکمران کشمیر کا سودا کرچکے، ٹرمپ کی ثالثی پر شادیانے بجانے والوں کو فلسطین مسئلہ پر ثالثی نظر نہیں آتی، انہوں نے کہاکہ ہم امریکی ثالثی کو مسترد کرتے ہیں۔ٹرمپ کی ثالثی قبول کرنے کا مطلب آزاد کشمیر سے بھی ہاتھ دھوناہے، پاکستان کے عوا م کشمیریوں کی جدوجہد ازادی اور حق خودارادیت کیلئے اْن کے شانہ بشانہ ہے اور ان کی قربانیوں میں حصہ ڈالا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کا ساتھ دیا اور ان کا مقدمہ بھی لڑا سیاسی جماعتوں اور قوم نے کشمیریوں بھائیوں کا مقدمہ لڑا ہے اور کشمیریوں کی ازادی کیلئے کشمیر ی بھائیوں کیساتھ کھڑے ہیں۔ عالمی قوتیں قوموں کے مفادات سے بے نیاز رہتے ہیں، انسانی حقوق ایک دکھاوا، عالمی قوتیں کو صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں اور اگر مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو حکومتیں بھی تبدیل کرادیتے ہیں۔ بیت المقدس پر ثالثی کے بعد اب کشمیر پر ثالثی قبول کرنے کا نتیجہ سامنے آگیا۔ شام یمن میں کیا ہورہا ہے،سعودی عرب پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے اور مسلم ممالک میں بین القوامی سطح پر جارحیت ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ مظلوم قوموں کے تحفظ کیلئے بنایا گیاہے جس میں کشمیر سر فہرست ہے۔پہلے ہمارے حکمران مقبوضہ کشمیر کو حاصل کرنے کی بات کرتے تھے مگر آج صرف کشمیریوں کے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ ہمارے حکمران بین القوامی طاقتوں کے ایجنٹ بنے ہو ئے ہیں، اس وقت ملک میں جمہوریت نہیں،جبریت ہے۔کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ہمیں جبر کے فیصلے قابل قبول نہیں ہیں، جس طرح فاٹا کو جبری طور پر خیبر پختونخوا میں شامل کیا تھا،اْسی طرح انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کو شامل کیا ہے۔ آج پاکستان کے عوام جن حالات سے گذررہے ہیں وہ جمہوریت نہیں، اس صورتحال میں آمر نظر نہیں آتا جبکہ مارشل لادور میں تو آمر نظر اتا ہے۔ پاکستانی باہمت قوم ہیں، پاکستان کو معاشی طور پر طاقتور بنائیں گے۔ اس وقت ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ہے قوم کیلئے زندگی تنگ کردی گئی ہے، اگر ملک میں یہ صورتحال ہوگی تو کشمیر کیلئے کس طرح بات کریں گے۔ جے یو آئی ف ملک بھر میں کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہے ہمیں طاقتور قوم بننے کیلئے آگے بڑھنا ہو گا اور حوصلہ نہیں ہارنا ہے، کانفرنس کے موقع پر مولانا فضل الرحمن نے انیس مارچ کو لاہور میں جلسے کا اعلان کرتے ہوئے کہا آج کمزور جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر کی دلیل دی جارہی ہے، کمزور جمہوریت آمریت سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے، کیونکہ کمزور جمہوریت میں آمریت تو پیچھے ہوتی ہے مگر نظر نہ آنے کے باعث اس کیخلاف جدوجہد نہیں کی جاسکتی ہے۔ مکمل آئینی جمہوریت کے تحت ہی قوم مضبوط ہوسکتی ہے۔آزادی مارچ چلتا رہے گا منزل پر پہنچ کر دم لے گا۔

فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -