تحریک لبیک کے زیراہتمام دفاع بیت المقدس و کشمیر مارچ

تحریک لبیک کے زیراہتمام دفاع بیت المقدس و کشمیر مارچ

  

 لاہور (جنرل رپورٹر)تحریک لبیک یا رسول اللہؐ و تحریک صراط مستقیم کی دعوت پر ملک بھر میں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ لاہور میں تحریک لبیک یا رسول اللہ ؐکے سربراہ ڈاکٹر محمدا شرف آصف جلالی کی قیادت میں ”دفاع بیت المقدس و کشمیر مارچ“ کا انعقاد کیا گیا۔ جو مرکز صراط مستقیم سے چل کر کینال بنک سے ہوتا ہوا ہربنس پورہ سے ہو کر قائداعظم انٹر چینج تک پہنچا جہاں اس نے جلسہ کی شکل اختیار کر لی۔ مارچ کی قیادت ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی، پیر محمد امین اللہ نبیل سیالوی، علامہ محمد صدیق مصحفی، اور علامہ فیاض وٹو نے کی۔ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے تحریک ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا:ہمیں 6ماہ سے محصور و مجبور کشمیریوں کو ”ہم تمہارے ساتھ ہیں“ کہتے بھی شرم آرہی ہے۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ بے بس کشمیری ہر وقت ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اور ہم ادھر دیکھنے کی بجائے کسی اور کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

کتنے افسوس کا مقام ہے کہ عرب ممالک سمیت کچھ ممالک کشمیریوں کی طرفداری کی بجائے بھارت میں اپنی سرمایہ کاری اور بھارت سے اپنی یاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لہو لہو کشمیر کے لیے اب شمشیر ناگزیر ہو چکی ہے۔ اب محض کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منانے کی نہیں بلکہ غاصب قابض بھارت سے ٹکراجانے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کی تنازعہ کشمیر پر پھر ایک بار ثالثی کی پیشکش اور بھارت کا پھر اسے مسترد کر دینا محض پاکستان کو دھوکہ دینے کے لیے بار بار ڈرامہ رچایا جارہا ہے۔ پتہ نہیں ہمارے حکمران اتنے انجان کیوں بنے ہوئے ہیں، ٹرمپ بھارت کے ساتھ کشمیریوں پر ظلم کرنے میں برابر کا شریک ہے۔ اس کی پاکستان سے دوستی صرف اور صرف ایک جھانسہ ہے۔ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا: بھارت آئے روز ایل او سی پر جنگ کا بازار گرم کیے ہوئے ہے اور دھمکی پہ دھمکی دیئے جا رہا ہے۔ ہماری حکومت بھی افواج پاکستان کے شاہینوں کو غاصب بھارت پر جھپٹنے کی اجازت دے دے۔ قوم میں بالخصوص کشمیریوں میں بہت زیادہ مایوسی پھیل رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر بالکل حل ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ حکومت بھی اسے دبانے کا کوئی بہانہ ڈھونڈ رہی تھی، مولوی فضل الرحمٰن نے عین اسی ٹائم اپنے مفادات کے آزادی مارچ سے آزادیء کشمیر کے کاز کو یوں دفن کیا کہ اب پھر سے بہت سی قربانیوں کے بعد جا کر اتنا ہائی لائٹ ہوگا۔ انہوں نے کہا: بیت المقدس کا تحفظ صرف فلسطینیوں کا نہیں تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ وہ تنہا دن رات جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور دیگر عرب ممالک بس خاموش تماشائی بن کے بیٹھے ہیں۔ امریکہ سے دوستی کی پینگیں چڑھانے والے مسلم ممالک کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔مارچ میں مفتی محمد زاہد نعمانی، علامہ محمد فیاض فرقانی،صاحبزادہ مرتضیٰ علی ہاشمی،قاری صغیر اعوان، چودھری شاہد محمود نمبردار، علامہ امانت علی سرداری، قاری محمد اصغر ترابی، مفتی محمد عبدالکریم جلالی، ڈاکٹر محمد عمران جلالی، مفتی محمد حذیفہ جلالی، مولانا محمد شعبان قادری، مولانا عرفان علی نقشبندی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

  

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -