مہنگائی منہ چڑارہی ہے....مگر کس کا؟

مہنگائی منہ چڑارہی ہے....مگر کس کا؟

  

ٓآرٹیکل بزنس ایڈیشن

حامد ولید

آٹے، چینی، چاول، دالوں اور دوسری اشیائے خورو نوش نیز گیس، بجلی، ادویات اور تمام بنیادی ضروریات زندگی سمیت پچھلے ڈیڑھ برسوں میں ملک میں ہر چیز کے نرخ جس ہولناک رفتار سے بڑھے ہیں، اس نے فی الواقع عوام کیلئے جینا محال کردیا ہے۔ یہ مہنگائی اس وقت عوام اور وزیر اعظم عمران خان کا بیک وقت منہ چڑارہی ہے۔ کسی طور پر قابو میں نہیں آرہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی کا سونامی اسی طرح وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو لے ڈوبے گا جس طرح ان کا اپنا تبدیلی کا سونامی نواز شریف کی حکومت کو لے ڈوبے گا۔ 

وزیراعظم نے عوام کو لاحق مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا اور مہنگائی پر کنٹرول کرنے کیلئے موثر اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ عوام کی تکلیف پر وزیراعظم کی یہ پریشانی ان کے منصب کا لازمی تقاضا ہے تاہم مہنگائی کے ازالے کی یقین دہانیاں اس پوری مدت میں بار بار کرائی جاتی رہی ہیں لہٰذا جب تک اس مقصد کیلئے کیے جانیوالے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے نہ آجائیں عوام مطمئن ہوں گے نہ ان کی مشکلات دور ہوں گی۔ یہ مشکلات دور ہونے میں وقت لگے گا اور جو ں جوں وقت گزرے گا توں توں حکومت کے لئے مشکل بڑھتی چلی جائے گی۔ 

محکمہ شماریات کے مطابق جنوری کے مہینے میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں 14.6فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو پچھلے بارہ برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ معیشت کے مستحکم ہو جانے کے متواتر حکومتی دعوؤں کے باوجود عملی صورتحال مسلسل زیادہ ابتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ مہنگائی کی شدت اور اس کے نتیجے میں غریب عوام کے حالِ زار کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے دنوں وزیراعظم نے خود شکوہ کیا کہ جو تنخواہ انہیں ملتی ہے اس میں گھر کا خرچ پورانہیں ہوتا۔ ارکانِ پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت کے اعلیٰ ملازمین کی جانب سے بھی اسی بنا پر تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم ملک میں سرکاری ملازمین سے کئی گنا زیادہ لوگ نجی اداروں سے منسلک ہیں، جن کی تنخواہوں میں معاشی ابتری کی وجہ سے اضافہ ممکن دکھائی نہیں دیتا، پھر تنخواہوں میں اضافہ عملاً افراطِ زر کا سبب بنتا ہے جس سے مہنگائی مزید بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا مہنگائی کے مسئلے کا پائیدار حل مجموعی معاشی بہتری ہی سے ممکن ہے۔ اس ضمن میں حکومت کے پاس کیا گیدڑ سنگھی ہے یا کون سی جادو کی چھڑی ہے جس کو ہلاتے ہی مہنگائی رفوچکر ہوجائے گی۔ خاص طور پر جب ماہ رمضان کی آمد آمد ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی راتوں کی نیند حرام ہو جائے گی۔ 

اشیائے صرف کی لاگت میں کمی قیمتوں میں کمی کیلئے ضروری ہے جبکہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی، ملکی کرنسی یعنی روپے کی قدر میں اضافے اور طلب و رسد میں توازن کے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی لیکن ان حوالوں سے بہتر معاشی حکمت ِ عملی اختیار کیے جانے کے بعد بھی مثبت نتائج برآمد ہونے میں وقت لگے گا۔ اس کے مقابلے میں بعض اسباب ایسے ہیں جن پر فوری طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مثلاً 

منافع خور مافیاو?ں کا ایک عام حربہ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اشیائے صرف کی مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھانا ہوتا ہے،اسمگلنگ بھی مہنگائی کا ایک عام سبب ہے، نیز ملکی ضرورت کو پورا کیے بغیر اشیائے صرف کی برآمد بھی ان کی قلت اور نتیجتاً مہنگائی کا سبب بنتی ہے۔ آٹے، چینی وغیرہ کے حالیہ بحران کی شکل میں یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے مگر یہ امر اطمینان بخش ہے کہ حکومت اس جانب توجہ دے رہی ہے جس کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعظم کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے گزشتہ روز اپنی میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اتحادی جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں شرکا کو گندم بحران کے بعد پنجاب حکومت کی فلور ملوں، ذخیرہ اندوزوں، اسمگلنگ اور ملاوٹ کرنے والے مافیاز کیخلاف کارروائی سے آگاہ کیا گیا۔ یہ اطلاع بھی خوش آئند ہے کہ قیمتوں میں کمی کیلئے حکومت منی بجٹ کی شکل میں بعض اشیا پر عائد کی گئی ریگولیٹری اور کسٹم ڈیوٹیوں میں کمی پر غور کررہی ہے، نیز درآمدات پر سخت پابندی کے باعث کسٹم ڈیوٹی کی مد میں ہونے والی آمدنی کم ہوجانے سے سات ماہ کے دوران ریوینو کے ہدف میں 218ارب روپے کی کمی کے پیش نظر اس پالیسی میں بھی تبدیلی زیرِ غور ہے۔ خدا کرے کہ حکومت ڈیڑھ برس کے تجربات کی روشنی میں مہنگائی پر قابو پانے کیلئے درست فیصلے کر سکے اور ان کے نتیجے میں عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہو۔

ادھراسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود میں کوئی رددوبدل کرنے کے بجائے موجودہ معاشی صورتحال پر شرح سود 13.25 فیصدپر قائم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل، چمڑا،ربڑمصنوعات،انجینئرنگ سامان، سیمنٹ، کھاد پیداوار میں بہتری آئی ہے جبکہ دوسری جانب گاڑیوں، الیکٹرانکس، خوراک، کیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ،معاشی سست روی بدترین سطح تک پہنچ چکی،تاہم آئندہ مہینوں میں بہتری متوقع ہے۔ برآمدی صنعت کیلئے 200ارب کا فنڈ، بانڈز میں لوگوں کی دلچسپی،مہنگائی کی 11سے 12فیصد شرح سامنے رکھیں توحقیقی سود 2فیصد رہ جاتا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں کم ترین ہے۔

13.25کی شرح سود ملک کی صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ ہے خطے میں پاکستان کی یوٹیلٹی کاسٹ سب سے زیادہ ہے،بھاری ٹیکس کی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ دیگر ممالک سے مسابقت نہیں کر پارہی ایسے میں بلند شرح سود کی وجہ سے ہم خطے میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں،وزیر اعظم معاشی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ مہنگائی کا منظرنامہ زیادہ تر پہلے جیسا ہی رہا ہے۔ ایک جانب مہنگائی کے اعدادوشمار زیادہ تر بلند رہے اور بنیادی طور پر غذائی قیمتوں کے دھچکوں اور یوٹیلٹی نرخوں میں ممکنہ اضافے کی بنا پر مہنگائی کو مختصر مدتی خطرات لاحق رہے ہیں۔دوسری جانب کئی عوامل ایسے ہیں جن کے نتیجے میں مہنگائی پر دباو بتدریج کم ہونے کی توقع ہے، مجموعی طور پر مالی سال 20ء کے لیے اسٹیٹ بینک کی اوسط مہنگائی کے لیے پیش گوئی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہ 11-12 فیصد ہے۔ 

تاہم سرگرمیوں کے دستیاب ماہانہ اظہاریوں سے پتہ چلتا ہے کہ بیشتر معاشی شعبوں میں سست روی اپنی پست ترین سطح تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ مہینوں میں بتدریج بحالی متوقع ہے، ایم پی سی نے ایل ایس ایم اشاریے کے معیار کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی جو معاشی سرگرمی میں سست روی کو بڑھا کر بیان کرتا ہے، بیرونی شعبہ مالی سال 20ء کی پہلی ششماہی کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ 75 فیصد کمی کے ساتھ 2.15 ارب ڈالر پر آ گیا، جس کا سبب درآمدات میں نمایاں کمی اور برآمدات اور کارکنوں کی ترسیلات زر دونوں میں معتدل نمو ہے، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ جولائی تا دسمبر مالی سال 20ء میں چاول، قدر اضافی کی حامل ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، مچھلی اور گوشت سمیت اہم اشیا کی برآمدی مقدار میں قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ صورت حال زیادہ مسابقت کی حامل شرح مبادلہ اور برآمدی شعبوں کی جانب سے ترغیبی قرضہ اسکیموں کو استعمال کرنے کے فوائد کی عکاس ہے۔ سرمایہ کھاتے میں بھی بیرونی پورٹ فولیو سرمایہ کاری اور بیرونی براہ راست سرمایہ کاری رقوم کی آمد کے باعث مسلسل بہتری کا رجحان رہا۔ مذکورہ سازگار حالات کی بدولت دسمبر 2019ء کے اوائل میں بین الاقوامی صکوک بانڈز کی مد میں 1.0 ارب امریکی ڈالر کی واپسی کے باوجود اسٹیٹ بینک کو اپنے زرمبادلہ ذخائر بڑھانے میں سہولت ملی۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر آخر جون 2019ء تک 7.28 ارب ڈالر تھے جو 17جنوری 2020ء تک بڑھ کر 11.73 ارب ڈالر پر آ گئے۔ اس طرح ذخائر میں 4.45 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور مالی سال 20ء کے ابتدائی چھ مہینوں میں اسٹیٹ بینک کے قلیل مدتی واجبات میں 3.82ارب ڈالر کمی ہوئی۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے خالص بین الاقوامی ذخائر (NIR) کی پوزیشن میں خاصی بہتری آ چکی ہے۔ زری پالیسی کمیٹی نے رائے ظاہر کی کہ بیرونی پورٹ فولیو رقوم کی حالیہ آمد قرض کی ادائیگی کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ کے بارے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے ہوئے احساس کی عکاس ہے۔ ایسی رقوم کی آمد سرکاری تمسکات (سیکورٹیز) کی طلب میں اضافے کے باعث سرکاری قرضے پر شرحِ سود گھٹا دیتی ہے، بازار سرمایہ میں گہرائی لاتی ہے، اور ملکی بینکوں کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے وسائل نجی شعبے کو بطور قرض جاری کر سکیں۔ کمیٹی نے تذکرہ کیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کی موزونیت میں بہتری کا سبب جاری کھاتے میں بہتری ہے، نہ کہ پورٹ فولیو رقوم کی آمد، اور جاری رقوم کی آمد مجموعی قابلِ فروخت (marketable) سرکاری قرضے میں صرف 3.8 فیصد ہے۔ چنانچہ ایسی رقوم کی موجودہ سطح پر آمد محدود خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ زری پالیسی کمیٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے تبدیلیوں پر بدستور گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور اگر کچھ رقوم کا اخراج ہوا بھی تو منظّم انداز میں اس کے بندوبست کے لیے کافی رقوم بفرز کی صورت میں اس کے پاس موجود ہیں۔ کمیٹی کی رائے تھی کہ زری پالیسی بدستور مہنگائی وسط مدتی منظرنامے پر مبنی رہے گی۔ مالی سال کے دوران مالیاتی یکجائی اب تک درست راستے پر گامزن رہی ہے اور مہنگائی کے منظرنامے میں معیاری بہتری لائی ہے۔ مالی سال 20ء کی پہلی ششماہی کے دوران ٹیکس وصولی میں گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جہاں تک اخراجات کا تعلق ہے، غیر سودی اخراجاتِ جاریہ پر سختی سے قابو پایا گیا ہے، سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)کے لیے وفاقی حکومت نے مالی سال 20ء کی پہلی ششماہی کے دوران 300 ارب روپے جاری کیے جو گذشتہ سال کی اسی مدت کے لیے 187 ارب روپے تھے۔ سرکاری اخراجات میں اس اضافے سے توقع ہے کہ کاروباری خصوصاً تعمیرات سے منسلک سرگرمیوں کو سہارا ملے گا۔ کمیٹی نے زری پالیسی کے نقطہ نظر سے زور دے کر کہا کہ مارکیٹ کے احساسات کو مو?ثر طور پر قابو میں رکھنے اور مہنگائی کا منظرنامہ بہتر بنانے میں بنیادی مدد مالیاتی دور اندیشی کو برقرار رکھنے سے ملے گی۔ یکم جولائی تا 17جنوری مالی سال 20ء کے دوران نجی شعبے کے قرضے میں گذشتہ برس کی اسی مدت کے 8.5 فیصد کی نسبت 2.2فیصد اضافہ ہوا۔ یہ سست روی بڑی حد تک پست معاشی سرگرمی کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم اسی مدت کے دوران اسٹیٹ بینک کی برآمدی مالکاری اسکیم اور طویل مدتی مالکاری سہولت برائے برآمد کنندگان کے تحت لیے گئے قرضوں میں 20.6 فیصد اور 13.2 فیصد اضافہ ہوا، جس سے برآمدات کی حالیہ نمو کو تقویت ملی ہے۔

وطنِ عزیز اِس وقت گوناگوں مسائل سے دوچار ہے لیکن اِن میں سب سے بڑا مسئلہ بے لگام مہنگائی ہے، جو کسی بلائے بے درماں سے کم نہیں کہ کسی صورت ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہی، ایسا نہیں کہ حکومت نے اِس عفریت کو قابو کرنے کی کاوشیں نہیں کیں، بیشک کی ہیں اُس کے باوجود مہنگائی کے اعتبار سے ایشیا میں سرِفہرست ہونا اِس امر کا غماز ہے کہ حکومتی کوششیں ثمربار نہیں ہو پا رہیں، خاص طور پر روز مرہ کی بنیادی ضروریات یعنی اشیائے خورو نوش کا عوام کی دسترس میں نہ ہونا تشویشناک امر ہے، اس سے معاشرے میں بے یقینی اور اضطراب پھیل کر جرائم کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔ تسلیم کہ اقتصادی درجہ بندی کرنے والی دنیا کی تین بڑی ایجنسیوں میں سے ایک نے ملکی معیشت کی بہتری اور استحکام کا اشارہ دیا ہے تاہم اِن نقائص کو بھی عیاں کیا ہے جن کی موجودگی کے باعث وطنِ عزیز کو مطلوبہ معاشی اہداف حاصل کرنے کیلئے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ یوں بھی کسی ملک کی ترقی و خوشحالی جانچنے کے عالمی معیار یا پیمانے کچھ بھی ہوں، عوام سے وہی حکومت قبولیت کی سند پاتی ہے جو انہیں ہر طرح سے آسودگی اور ریلیف فراہم کرے۔ حکومت پاکستان نے اسی نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے عوام پر توجہ مبذول کی ہے۔

اپسوس نامی انٹرنیشنل تنظیم کے سروے کے مطابق موجودہ حکومت میں مہنگائی، بیروزگاری، غربت میں اضافہ اور ٹیکسوں کا بوجھ ملک کے اہم مسائل ہیں۔ ملک کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو متذکرہ سروے مبنی برحقیقت ہی دکھائی دیتا ہے کہ سردست پاکستانی عوام کے سب سے بڑے مسائل یہی ہیں۔ یکم جنوری کو شائع ہونے والی ادارہ شماریات کی رپورٹ میں منکشف ہوا تھا کہ 26دسمبر 2019کو اختتام پذیر ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح 18.51فیصد بڑھی، یہ اس ملک کے نئے سال کی ابتدا تھی جس کی آبادی کی غالب اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ بڑھانا اور مزید لنگر خانے کھولنے کا اعلان اگرچہ احسن امر ہے لیکن یہ جز وقتی اقدامات ہیں، پچھلے 7برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ جانے والی مہنگائی کو نکیل ڈالنے کیلئے مستقل بنیادوں پر موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے، ویلفیئر اسٹیٹ نہیں چنانچہ اسے وظائف دینے اور لنگر خانے کھولنے سے زیادہ کاروباری سرگرمیوں کی طرف آنا ہوگا، ورنہ اس کے عوام کا جذبہ محنت دیمک زدہ ہو سکتا ہے، جز وقتی اقدامات کی اہمیت اپنی جگہ زیادہ توجہ ہنرمند نوجوان، کاروبار کیلئے آسان قرضوں، اسمال اور میڈیم انڈسٹری پر دینا ہوگی۔ رہی بات مہنگائی سے ریلیف کی تو اس کا فوری حل سبسڈیز دینا، بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانا، قیمتوں پر کنٹرول اور ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کا آہنی ہاتھوں محاسبہ ہے۔ حکومت صرف یہ فریضہ بطریق احسن انجام دیدے تو اس کی نیک نامی کیلئے یہی کافی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -