کرونا وائرس اور اس کے اثرات

کرونا وائرس اور اس کے اثرات

  

کیا واقعی چینی معیشت میں 120ارب کا اضافہ ہوگیا ہے؟

سلک روٹس /عامر علی عامر

حالیہ دنوں میں ہمارا پڑوسی ملک چین ایک طرح سے حالت جنگ میں ہے کیونکہ اس کے صوبے (Hubei) کے دارالحکومت (Wu han) میں دسمبر کے آخر میں اچانک ایک وائرس نے تباہی مچانی شروع کر دی جس کو کرونا وائرس کانام دیا گیا۔ یہ وائرس خالی چین تک محدود نہیں رہا بلکہ دوسرے ملک بھی اس سے متاثر ہونے لگے آجکل چینی حکام اور عوام انتہائی منظم انداز میں کرونا وائرس کا صفایا کرنے کے لئے سر گرم ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کا ہر ملک کرونا وائرس سے اپنے شہروں اور شہریوں کو بچانے کے لئے ضروری حفاظتی اقدامات کر رہا ہے۔ ماہرین نے اس وائرس سے بچاؤ کے لئے ضروری احتیاطی تدابیر بتا دی ہیں۔ یہ وائرس سو فیصد قابل علاج ہے مگر ہم بد حواس ہو کر اس وائرس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے ہمیں اپنے اعصاب پر قابو رکھنا ہوگا پچھلے دنوں (Wu han) میں مقیم پاکستان کے طلبہ و طالبات کا ایک پیغام وائرل ہوا مگر انہوں نے جو اعداد و شمار بتائے وہ درست نہیں تھے۔ وہاں مقیم پاکستان کے طلبہ و طالبان کی تعداد ایک ہزار کے قریب رجسٹرڈ ہے مگر ان میں سے تقریباً پانچ سو(Wu Han) میں مقیم ہیں اور تقریباً 350 وہ ہیں جو ویزے پر (Wu Han) گئے مگر وہ (We Han)سے باہر مختلف کام کاج یا مزدوری کرتے اور وہیں رہتے ہیں۔ چین میں پاکستان کا سفارت خانہ میں 24/7 بنیادوں پر (Wu Han)اور اس کے آس پاس مقامات پر مقیم پاکستانیوں کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ جو طلبہ و طالبات رجسٹرڈ نہیں تھے۔ اب وہ تیزی سے خود کو رجسٹر کروا رہے ہیں پاکستان کا سفارت خانہ چین میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاہم چینی حکومت احتیاطی اور حفاظتی تدابیر کے تحت انہیں شہر چھوڑنے کی اجازت نہیں دے رہی اور چینی حکومت نے ان کے لئے قیام و طعام اور کرونا وائرس سے بچاؤ کا مناسب انتظام کر دیا جبکہ پاکستان کا سفارت خانہ بھی مسلسل ان کی صحت و سلامتی کے حوالے سے پوری طرح مستعد اور سرگرم ہے جاپان اور امریکہ نے چین میں مقیم اپنے شہریوں کو وہاں سے بحفاظت نکال ضرور لیا ہے مگر وہ لوگ اپنے اپنے ملکوں میں مخصوص مقامات پر انڈر آبزرویشن ہیں۔ راقم طویل عرصے سے چین میں مقیم ہے اور میں نے وہاں پاکستان کے سفارت خانہ کو اپنا پیشہ ورانہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے لہٰذا میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے سفیر اور دوسرے سفارتی حکام چین میں مقیم اپنے ہم وطنوں کو اس موذی وائرس کے رحم و کرم پر ہرگز نہیں چھوڑیں گے اس لئے میں سمجھتا ہوں چین میں مقیم پاکستانی طلبہ و طالبات فوری طور پر سفارت خانہ کی ویب سائٹ پر اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں اور موبائل فون سے اپنا گروپ بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرس کرنے کی بجائے وہاں اپنے سفارت خانہ پر بھرپور اعتماد کریں اور حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں جو صرف وہاں نہیں بلکہ چین کے طول و ارض میں مقیم پاکستانیوں کی خیر و عافیت کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا رہے ہیں چینی حکومت نے صوبہ دربان سمیت جو دوسرے مقامات کرونا وائرس کے نتیجہ میں لاک ڈاؤن کئے ہیں وہاں آمد و رفت معطل ہے اس کے باوجود محصور شہریوں کی تمام انسانی ضروریات اور شہری سہولیات سمیت ہر بات کا بھرپور خیال رکھا جا رہا ہے۔ یقیناً پاکستان کا سفارت خانہ چین میں مقیم پاکستانیوں کی صحت و سلامتی اور بحفاظت وطن واپسی کے ضمن میں کسی قسم کی غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان اپنے پڑوسی اور دیرینہ دوست ملک چین سے ملحقہ بارڈر سیل کرنے کے ساتھ ساتھ ہر وہ ضروری اقدام کر رہا ہے جس سے کرونا وائرس کے متاثرین ہمارے شہروں میں داخل ہو کر دوسرے شہریوں کی زندگی کے لئے خطرات پیدا نہ کریں پاکستان کے جو طلبہ و طالبات سیاح یا دوسرے کاروباری لوگ چین میں پھنس گئے ہیں وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ پاکستان کا سفارت خانہ ان کی صحت، عافیت اور زندگی سے غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا انہیں وقت آنے پر وہاں سے بحفاظت نکال لیا جائے گا۔

جہاں تک چین کی معیشت کا تعلق ہے کہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس منظر عام پر آنے پر چائنیز اکانومی میں 120ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ چینی حکمرانوں اور قوم کی خوبی یہی ہے کہ وہ خرابی میں سے اچھائی تلاش کرلیتے ہیں۔

اس امر میں کوئی شعبہ نہیں کہ کرونا وائرس کی شکل میں ایک بہت بڑی مصیبت اہل چین پر آن پڑی ہے لیکن پاکستان سمیت دیگر ملکوں میں چائینہ کے ساتھ اس انداز سے اظہار ہمدردی کیا ہے وہ قابل ستائش ہے ایک خوش آئند امر یہ ہے کہ ہمسایہ ملک ایران نے بھی کرونا وائرس کے متاثرین کی بحالی اور اس مشکل گھڑی میں ان کا ساتھ دینے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ تاثر بھی زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبے بالخصوص سی پیک پر کام کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس امر میں کوئی حقیقت نہیں کہ ترقیاتی منصوبے شد و مد سے جاری ہیں اور کرونا وائرس ان پر کسی طور بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ چینی سفارت کاروں، سرمایہ داروں اورمنصوبوں پر کام کرنے والے انجینئرز کا کہنا ہے کہ سی پیک اور مومند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں پر برق رفتاری سے کام ہو رہا ہے کرونا وائرس چین کے محض ایک شہر کو متاثر کر رہا ہے اس کا پاکستانی منصوبوں سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -