اضاخیل ڈرائی پورٹ

اضاخیل ڈرائی پورٹ

  

ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے اضاخیل پیر پیائی کے مقام پر پشاور کے لئے نئے ڈرائی پورٹ کا افتتاح کیا۔اضاخیل ڈرائی پورٹ کا رقبہ 28ایکڑ ہے اور کل لاگت کا تخمینہ 50کروڑ روپے بنتا ہے۔ڈرائی پورٹ پشاور سے تقریباً 32 کلومیٹر جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔پلیٹ فارم کی لمبائی ایک لاکھ 37ہزار فٹ ہے جبکہ 150ٹن کانٹے کی گنجائش موجود ہے۔جس سے ون ونڈوآپریشن،کسٹمز ڈیوٹی کا نفاز اور افغان ٹرانزٹ ٹرید گیتا (گڈز ان ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان)کے لئے خصوصی ڈیسک کا قیام بھی موجود ہے جبکہ اس اقدام سے بر آمدات،درآمدات میں مثبت اثرات مرتب ہونگے اور کاروباری سرگرمیوں کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کے کارخانوں کے لئے خام مال کے علاوہ ری کنڈیشن گاڑیاں اور دیگر سامان بھی ریلوے کے ذریعے ڈرائی پورٹ سے آئے گا۔اضاخیل ڈرائی پورٹ کی افتتاحی تقریب اُس وقت ایک جلسہ کی صورت اختیار کر گئی جب پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی۔ہم یہ سوچ رہے تھے کہ جس طرح کسی بڑے منصوبے کا افتتاح کیا جاتا ہے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بھی اس موقع پر موجود ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس منصوبے کا افتتاح روایتی انداز کی بجائے جلسہ کی صورت میں کیاگیاجس میں بزنس کمیونٹی تو کیا ڈرائی پورٹ سے متعلقہ کاروباری افراد کی شرکت بھی ناممکن ہوگئی۔بزنس کمیونٹی کے بہت سے نمائندے جنہیں وفاقی وزیر ریلوے جناب شیخ رشید احمد نے خود مدعو کیا تھا اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری،فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کی کابینہ کے اراکین بھی اس میں شامل تھے انہیں بھی اضاخیل ڈرائی پورٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے جلسہ گاہ جانے کا موقع نہیں ملا۔بہر حال ڈرائی پورٹ کا قیام سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جو خدا خدا کرکے پورا ہوا لیکن ڈرائی پورٹ کی کامیابی صرف اسی صورت ممکن ہے جب افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے 1965ء میں ہونے والے معاہدہ پر من وعن عملدرآمد کیا جائے۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نئے معاہدہ میں جو کہ 2010ء میں امریکی دباؤ کے نتیجہ میں کیا گیا میں بہت ساری مشکلات درپیش ہیں جس کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا زیادہ تر کاروبار ایران کے راستے چاہ بہار اور بندرعباس منتقل ہو چکا ہے۔SRO.121اور بانڈڈ کیریئر میں درپیش مشکلات کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نئے معاہدہ پر بزنس کمیونٹی کے تحفظات دور نہیں کئے جاتے تب تک اضاخیل کے مقام پر نئے قائم ہونے والے ڈرائی پورٹ کے مقاصد بھی حاصل نہیں ہوسکتے۔حالانکہ اضاخیل ڈرائی پورٹ کا اصولی فیصلہ سابق وزیر اعظم نواز شریف (ن لیگ)کی حکومت نے 1998ء میں کیا تھا اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد سردار مہتاب خان عباسی تھے۔انہوں نے 64ایکڑ اراضی (جو کہ اب کم ہو کر28ایکڑ ہوگئی ہے)اضاخیل پیرپیائی جو کہ ریلوے کی ملکیت تھی اور دوکروڑ روپے پشاور ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے لئے دینے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن ان کی حکومت ختم ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ سرد خانے کی نذر ہو گیا تھا اس کے بعد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے)کی صوبائی حکومت کے وزیر اعلیٰ اکرم خان دورانی کو 2002ء میں بھی مطالبہ کیا گیا تھاجنہوں نے کچھ نہیں کیا اس کے بعد (اے این پی)حکومت کے وزیر اعلیٰ امیر حیدرخان ہوتی سے2008ء میں بھی اضاخیل ڈرائی پورٹ کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا،ا نہوں نے دو کروڑ کی بجائے تین کروڑروپے دینے کا اعلان کیا لیکن ڈرائی پورٹ نہ بنا سکے جبکہ محکمہ ریلوے عوام کیلئے ایک اہم ادارہ ہے اسی طرح تجارت میں بھی اس کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے اور تجارت کا ریلوے کے ساتھ بہت قریبی تعلق ہے اور یہ تعلق ملک میں قائم ڈرائی پورٹس سے شروع ہوتا ہے ڈرائی پورٹس جو کہ پاکستان ریلویز نے تمام ملک کی تاجر برادری کی سہولت کیلئے (Introduce) کئے ہیں تاکہ کراچی پورٹ پر بوجھ کم ہو جائے اور تاجر برادری اپنے اپنے صوبوں میں امپورٹ ایکسپورٹ کی سہولیات سے مستفید ہو سکیں واقعی پاکستان ریلویز نے یہ ایک اچھا اقدام اٹھایا تھا لیکن ہمارے ملک میں یکساں قانون نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے تمام صوبوں میں سوائے خیبر پختونخوا کے جدیدسہولیات سے آراستہ ڈرائی پورٹ موجود ہیں جبکہ 1986ء میں عارضی طور پر پشاور کے اندر موجودہ ریلوے ڈرائی پورٹ بنا جو آج 34 سال گزرنے کے باوجود بھی عارضی بنیادوں پر ہی کام کر رہا ہے۔ افغانستان اور سنٹرل ایشیاء کیلئے موجودہ تجارتی حجم کا بوجھ پشاور صدر ریلوے سٹیشن کی حدود میں واقع چھوٹا ڈرائی پورٹ برداشت نہیں کرسکتاجبکہ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری پشاوراورفرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی حکومت سے اضاخیل ڈرائی پورٹ کی تعمیر کا مطالبہ بار بار کیا جاتا رہا تھا لیکن علاقائی تجارت کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اس ڈرائی پورٹ کی تعمیر سہانے خواب اور سراب سے آگے نہ بڑھ سکا علاقائی تجارت میں پشاور کو گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہے۔ مستقبل قریب میں افغانستان میں امن بحال ہونے کے بعد اس گیٹ وے سے استفادہ اس وقت کیا جاسکتا تھا جب اضاخیل میں جدید سہولتوں سے آراستہ ڈرائی پورٹ تعمیر کرکے اس کو آپریشنل کردیا جاتا۔جبکہ محکمہ ریلوے نے اضاخیل ڈرائی پورٹ دسمبر 2017 ء تک محکمہ کسٹم کے حوالے کرنے کا عندیہ دیا تھاجو کہ آ ج تک پورا نہ ہو سکا۔ اضاخیل ڈرائی پورٹ ایک وسیع ڈرائی پورٹ ہے جہا ں سینکڑوں کنٹینرز ایک ہی وقت میں کھڑے ہو سکتے ہیں اور شہر سے باہر ہونے کے ناطے 24گھنٹے اسے آ پریشنل رکھا جا سکتا ہے اضاخیل ڈرائی پورٹ کے کھلنے سے پشاور کینٹ ڈرائی پورٹ میں بوجھ کم ہو گا تاہم پشاور کینٹ ڈارئی پورٹ بھی چلتا رہے گا۔ اضاخیل ڈرائی پورٹ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتاجب تک افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (APTTA) میں ترمیم نہیں ہوتی جس کی وجہ سے 70فیصد ٹرانزٹ ٹرید کا کاروبار چابہار، بندر عباس(ایران) منتقل ہوگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے پر دوبارہ نظر ثانی کی جائے تاکہ ماضی کی طرح پاکستان افغانستان باہمی تجارت میں اضافہ ہوسکے اور اس اقدام سے پاکستان ریلوے کوسالانہ6سے8ارب روپے فریٹ کی مد میں مل سکتے ہیں۔اگر وسطی ایشیائی ریاستوں کی آزادی کے فوراً بعد جامع منصوبہ بندی وضع کر کے اس پر عمل درآمد کیا جا تا اور تیاریاں کی جاتیں تو آج پشاور میں ایک کی بجائے دو ماڈل ڈرائی پورٹس ہو تے، ایک بہترین اسٹاک ایکسچینج اور ایک ایکسپورٹ ٹریڈ سنٹر ہو تااور اس کے علاوہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے کئی ایک انتظامات ہو تے لیکن کیا کریں یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ قو می مفاد کے اداروں کو شروع تو کیا جا تا ہے لیکن اس کی بہتری پر توجہ نہیں دی جا تی اور دستیاب وسائل کو قومی مفاد میں استعمال کر نے کی بجائے ذاتی مفادات پر لگا دیا جا تا ہے اور یوں ادارے برائے نام مزیداداروں میں تبدیل ہو جا تے ہیں جبکہ اس سلسلے میں پشاور میں TDAPٹریڈ ڈوپلمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے کچھ بھی نہیں کیا۔ ہمارے صوبے کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے صوبے کے ساتھ ہمارے ہی صوبے کے لوگوں نے زیادتیاں کی جب کہ پنجاب اور سندھ میں ایک کی بجائے تین، تین جدید اور ہر قسم کی سہولتوں سے آراستہ ڈرائی پورٹس قائم ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے صوبوں کے لئے کافی کام کیا جبکہ ہمارے صوبہ خیبرپختونخوا میں آج تک قابل دید کام نہ ہوسکا۔قارئین کرام! میں آپ کو بتاتا چلو کہ34سالوں میں پشاور میں جدید اورتمام سہولتوں سے آراستہ ڈرائی پورٹ نہیں بن سکا،اس کی ذمہ داری ہمارے صوبے سے تعلق رکھنے والے ان تمام وفاقی وزراء اور بیورو کریٹس پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنے ٹینور میں اختیارات کے باوجود کچھ نہ کیا اور شروع دن سے لیکر آج تک ہمارے صوبے کے ساتھ ایک سوتیلی ماں جیسا سلوک برقرار رکھا جو کہ ابھی تک بر قرار ہے جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں ان صوبوں کے وفاقی وزراء اور وفاقی بیوروکریٹوں نے اپنے اپنے صوبوں کیلئے نہایت اچھے اور مثالی کام انجام دئیے۔وفاقی حکومت صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب میں ایکسپورٹ کے فروغ کیلئے بہت سارے ترقیاتی منصوبوں پر کام کررہی ہے تاکہ ایکسپورٹ کو زیادہ سے زیادہ فروغ ملے۔ لیکن آج تک صوبہ خیبرپختونخوا میں کوئی قابل ذکر ایسا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ ہوسکا جس سے خیبر پختونخوا کی ایکسپورٹ کو فروغ ملتا۔ اگر وفاقی حکومت چاہتی تو ای ڈی ایف (ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ) سے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں بھی جدید سہولیات سے آراستہ ڈرائی پورٹ بناسکتی تھی جس سے ہمارے صوبے کی ایکسپورٹ کو فروغ ملتا اور کروڑوں روپے کا زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا۔ وفاقی حکومت اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان سے درخواست ہے کہ وہ اضاخیل ڈرائی پورٹ کے منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے خیبر پختونخوا کی معیشت میں تبدیلی لائیں کیونکہ اس وقت ہمارے صوبے کی تمام ایکسپورٹ جس میں جیمز، ماربل، فرنیچر، ہینڈی کرافٹ، قالین، شہد، ماچس کی سب سے بڑی انڈسٹری ہمارے صوبے میں ہے۔ یہ تمام اشیاء پرائیویٹ ٹرکوں میں لوڈ ہوکر کراچی جاتی ہیں اور صوبہ سندھ کراچی میں اس کی کسٹم کلیئرنس ہوکر بیرون ملک ایکسپورٹ ہوجاتی ہے اس اقدام سے ہمارے صوبے کی بزنس کمیونٹی، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس، مزدور، امپورٹر/ایکسپورٹر اور دیگر کاروباری لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ اس لئے فی الوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اگرگورنر خیبرپختونخواشاہ فرمان،وزیراعلیٰ محمود خان،موجودہ بیوروکریسی، وفاقی و صوبائی وزراء ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اضاخیل ڈرائی پورٹ پر دھیان دیں تو یہ ایک مرتبہ پھر ماضی کی طرح گولڈن گیٹ وے کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے بشرطیکہ کہ افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ میں ترمیم کرکے لوز کارگو کراچی سے پشاور /چمن لانے کی اجازت دی جائے اور باقی معاہدے پر بھی دونوں جانب کے کاروباری تاجروں اور اسٹیک ہولڈروں کے تحفظات دور کرکے اسے فعال کیا جائے تاکہ اضاخیل ڈرائی پورٹ کے ثمرات بزنس کمیونٹی کو مل سکیں اور طورخم بارڈر پر وزیر اعظم عمران خان نے7/24گھنٹے کھلا رکھنے کا جو اعلان کیا ہوا ہے۔اس کے ثمرات بھی مل سکیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -