ڈگر پولیس نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے،رحم دل

  ڈگر پولیس نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے،رحم دل

  

بونیر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)کوٹکئی خوازہ خیلہ سوات سے تعلق رکھنے والے نوجوان رحم دل ولد عبدالعزیز نے پولیس تھا نہ ڈگر کے ایس ایچ،اے ایس ائی جاوید خان اور اے ایس ائی صالحین پر الزام لگاتے ہوئے کہاہے کہ انہوں نے ناکردہ گناہ میں میرے انکھوں پر پٹی باندھ کر مجھ پر بے تخاشہ تشدد کرکے میرے بازو کو توڑا جبکہ بدن کے بعض حصوں کو لاٹھیوں سے بری طرح زحمی کیا۔سواڑی میں ڈگر گاؤں سے تعلق رکھنے والے میاں بحت ولی باچا،سابقہ کونسلر طالعمند اور اپنے چچا کے ہمراہ میڈیا سے گفتگوں کرتے ہوئے رحم دل نے کہا کہ اس واقعہ کے خلااف میں نے ڈی پی او بونیر سے درخواست کی،جنہوں نے اے ایس ائی جاوید خان اور اے ایس ائی صالحین کو معطل کرکے لائین حاضر کردیاہے۔انہوں نے صوبائی حکومت سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیاہے۔رحم دل نے کہا کہ میرے بھانجے پر اپنی بیوی کی قتل کا الزام ہے۔جو مقدمہ میں روپوش ہے۔میں اپنی بہن کی گھر انہیں دیکھنے کے لئے بونیر ایا تھا۔کہ ڈگرپولیس نے مجھے تھانے لئے گئے۔حالانکہ قتل کے مقدمہ سے میرا کوئی تعلق ہے اور نہ میں اس میں نامزد ملزم ہو۔مگر اسکے باوجود ڈگر پولیس نے تھانے لے جاکر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔انہوں نے ڈگر پولیس پر الزام لگاتے ہوئے مزید کہا کہ ڈگر پولیس،پولیس گردی پر اترائی ہے۔ہمارا جو رشتہ دار بونیر اتاہے تو انہیں ڈگر پولیس تھانے لے جاتے ہیں۔اور ان کو خراساں کیاجاتاہے۔ادھر تھانہ ڈگر کے ایس ایچ او روشن ذادہ نے اپنے اور دیگر پولیس افسران پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ گوگا حصار میں چندماہ قبل ملزم عثمان غنی نے غیرت کے نام پر اپنی بیوی کو قتل کیا تھا جو تاحال روپوش ہے۔ڈگر پولیس ملزم کوگرفتار کرنے کے لئے کو شیش کررہی ہے۔بقول انکے رحم دل سے اسکے ملزم بھانجہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی عرض سے تھانہ طلب کیاتھا۔مگر انہوں نے ملزم کو بچانے کی خاطر پولیس پر بے جا الزامات لگائے۔جس میں کوئی صداقت نہیں۔انہوں نے کہا کہ رحم دل کو پوچھ گج کے بعد رخصت کردیا گیا۔ایس ایچ او کے مطابق ملزم عثمان غنی کے بارے میں رحم دل کو معلومات ہے مگر وہ پولیس چھپا رہی ہے اور یہ سارا ڈرامہ ملزم کو بچانے اور کیس میں راضی نامہ کرنے کے لئے رچایا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -