کے پی کے فوڈ اتھارٹی کا ماڈل فوڈز کے عنوان پر آگاہی سیمینار

کے پی کے فوڈ اتھارٹی کا ماڈل فوڈز کے عنوان پر آگاہی سیمینار

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی نے ماڈل فوڈ بزنسز کے عنوان پر پہلے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا جس میں ضلع کوہاٹ کے دودھ کے روزگار سے وابسطہ چھوٹے بڑوں تاجروں کے علاوہ لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور مختلف ایسوسی ایشنز کے عہدے داروں نے بھی شرکت کی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر مختیار احمداور ظفر خان نے ماڈل شاپس اور حفظان صحت کے اصولوں پر بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ حفظان صحت کے اصولوں کی بجاآوری کیلئے کوہاٹ میں ماڈل ملک شاپس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ یہ دودھ کے روزگار سے متعلق افراد کیلئے ماڈل شاپس کے قیام پر پہلی ترغیبی نشست ہے۔ اس کے علاوہ دودھ کے روزگار سے متعلق حفظان صحت کے ایس او پیز پر بھی بات کی گئی۔ ترغیبی نشست میں دودھ کی دوکانوں میں کام کرنے والوں کیلئے یونیفارم اور دودھ کی خریدوفروخت سے متعلق ضروری معلومات بھی فراہم کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر لوگ ملاوٹ سے باخبر ہی نہیں یعنی آگاہی کی کمی ہے اور یہ کہ پاک صاف روزگار اسلامی شعار کا بھی حصہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاوٹ کرنا انسان دشمنی ہے۔ پلاسٹک کے برتنوں میں دودھ رکھ کر کیمیکل زدہ کیا جاتا ہے اور دودھ کے برتن سرف سے دھونے سے دودھ میں کیمیکلز آجاتے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا اکثر لوگ دودھ میں نمک ڈالتے ہیں اور کچھ لوگ چینی بھی ڈالتے ہیں تاہم فوڈ اتھارٹی کے سروے میں ابھی تک دودھ میں فارملین نہیں پایا گیا۔ انہوں نے دودھ والوں کوخبردار کیا کہ دودھ کی دوکانوں میں نیلے ڈرموں کا استعمال بالکل منع ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خوراک کے ذریعے بیماریاں ایک دوسرے سے منتقل ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ ماڈل شاپس کے قیام پر سات سے آٹھ لاکھ روپے کی انوسٹمنٹ ہوگی جو کہ حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -