20کلو میٹر طویل انسانی ہاتھوں کی زنجیر /جھلکیاں

20کلو میٹر طویل انسانی ہاتھوں کی زنجیر /جھلکیاں

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی اپیل پر 5فرور ی کو ملک گیر ”یوم یکجہتی کشمیر“ کے سلسلے میں کراچی میں شاہراہ فیصل پر میٹروپول ہوٹل تا قائد آباد 20کلو میٹر طویل ”انسانی ہاتھوں کی زنجیر“ بنائی گئی،جس میں کراچی کے عوام، مردو خواتین،نوجوان، بچے، بزرگ، طلبہ، اساتذہ و علماء کرام، وکلاء،تاجروں،مزدوروں،صحافیوں،ڈاکٹرز،انجینئرز اور اقلیتی نمائندوں سمیت مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے ہزاروں کی تعداد میں شریک ہو کراور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم اور ریاستی جبر و تشدد کے شکار مظلوم و نہتے کشمیری عوام سے بھر پور اظہار یکجہتی اور بھارت کی مذمت کی۔٭انسانی ہاتھوں کی زنجیر میں شریک خواتین سمیت ہزاروں شرکاء نے جہاں ایک طرف جوش و خروش کا مظاہرہ کیا وہیں انتہائی منظم ہونے کا بھی ثبوت دیا اور شرکاء 3گھنٹے سے زائد عرصے پر محیط زنجیر میں پورے نظم و ضبط کے ساتھ شریک رہے اور پرجوش نعرے لگاتے رہے۔٭شرکاء نے بھارتی مظالم، ریاستی جبر وتشدداور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کیا۔٭انسانی ہاتھوں کی زنجیر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی،اتحاد امت اور قومی وحدت کی بھرپور مظہر ثابت ہوئی۔میٹروپول ہوٹل پر استقبالیہ کیمپ قائم کیا گیا تھا جس پر بڑا سا بینرز لگاہوا تھا جس میں ”کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی اور کشمیر بنے گا پاکستان“ تحریر تھا جبکہ نوجوانوں اور بچوں نے مختلف کتبے اٹھائے ہوئے جن پر درج تھا کہ ”عظیم حریت رہنما سید علی گیلانی،شہید مظفر وانی کی بڑی بڑی تصاویر موجود تھیں۔ نرسری بس اسٹاپ پر ایک بہت بڑا بینرز آویزاں کیا گیا تھا جس پر جلی حروف میں ”کشمیریوں سے رشتہ کیا، لاالہ الا اللہ“ تحریر تھا۔٭شاہراہ فیصل پر میٹروپول تا قائد آباد قومی پرچم،جماعت اسلامی اور آزاد کشمیر کے جھنڈے لگائے گئے تھے، جگہ جگہ کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور بھارت کی مذمت کے حوالے سے بینرز اور کتبے لگائے گئے تھے۔ سید علی گیلانی اور شہید برہان مظفر وانی کی تصاویر کے پوسٹرز اور کتبے بھی آویزاں تھے، جن پر کشمیر بنے گا پاکستان اور کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی تحریر تھا۔ ٭میٹروپول پر مرکزی استقبالیہ کیمپ قائم کیا گیا تھا جہاں پرسینیٹر سراج الحق اور دیگر قائدین نے شرکاء سے خطاب کیا۔

مزید :

صفحہ اول -