یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں میں یوم یکجہتی کشمیر سیمینار

  یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں میں یوم یکجہتی کشمیر سیمینار

  

بنوں (بیوروپورٹ)یونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی بنوں کے شعبہ علوم اسلامیہ وتحقیقی کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیرکے حوالے سے یک روزہ سیمینار کا انعقادکیاگیا بنوں یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرسلطان محمود، مہمان خصوصی شیخ زائداسلامک سینٹرکے سابق ڈائریکٹر، ممتازدانشورپروفیسر ڈاکٹر دوست محمد،ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک سٹڈیزاینڈریسرچ کے چیئرمین پروفیسرڈاکٹرعرفان اللہ،اسسٹنٹ پروفیسرحافظ امیرنوازسمیت یونیورسٹی کے کثیرتعدادمیں پروفیسرز، ڈاکٹرز، سکالرز، طلباء اورمختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ بھارت نے گزشتہ ستربرسوں سے کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے، طرح طرح کے ظلم و ستم اور بربریت کا ارتکاب کیا جا رہا ہے شہریوں کے لیے ضروریاتِ زندگی کی مصنوعی قلت پیدا کر دی گئی ہے،مختلف کالے قوانین کے اطلاق کے ذریعے انڈین سیکورٹی فورسز کشمیریوں کو جبر کا نشانہ بنا رہی ہیں،اس کے باوجود اہل کشمیر نے بھارتی مظالم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا ہے کشمیری عوام آزادی کے علاوہ کسی آپشن کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں ہندوستان اپنی ریاستی دہشت گردی کی بدولت مسئلہ کشمیر کے معاملے میں عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور اب کوئی بھی آواز ہندوستان کے مؤقف کی تائید میں نہیں اٹھتی بھارت اپنی پروپیگنڈے کے ذریعے دنیا کو یہ بات باور کرانے کے لیے شدومد سے مصروف ہے کہ تحریک آزادیئ کشمیر دہشت گرد اور علیحدگی پسند تحریک ہے لیکن وہ اپنی اس کوشش میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اس کے برعکس، کشمیریوں کے نقطہ نظر کو مستقل مزاجی اور مظلومیت کے سبب اقوام متحدہ اور یورپی ایوانوں میں پذیرائی مل رہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تاریخی لحاظ سے بھی مسئلہ کشمیر کا تجزیہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان نے کشمیریوں کو”حق خودداریت دینے کا وعدہ کیا اور اس بابت سابقہ بھارتی وزیرِاعظم جواہر لال نہرو کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں مگر بعد میں بھارتی قیادت اپنے وعدے سے مکر گئی اور بڑی ڈھٹائی سے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے پر تلی ہوئی ہے۔اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں واضح طور پر درج ہے کہ کشمیر میں غیر جانبدار مبصرین کی موجودگی استصوابِ رائے کا انعقاد کیا جائے گا اور کشمیریوں کو حق حاصل ہو گا کہ آیا وہ پاکستان کا حصہ ہوں یا ہندوستان کا لیکن ابھی تک اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی جس کی بنیادی وجہ بھارتی ہٹ دھرمی ہے قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا کیونکہ کشمیر کے ساتھ پاکستان کے نظریاتی وثقافتی تعلقات ہیں اس ضمن میں بھارت نے کشمیر کو دی گئی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے جو کہ سراسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس بھارتی عمل کی مذمت کی گئی ہے بعداَزاں کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے واک بھی کیاگیا جس میں شرکاء نے ”لے کے رہیں گے آزادی، ہم چھین کے لیں گے آزادی، ہے حق ہمارا آزادی، کشمیر بنے گا پاکستان“کے فلک بوس نعرے بلند کیے۔شرکاء نے ”پلے کارڈز اور بینرز“ اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کے ”حق خود ارادیت“کی حمایت، ان پر کیے جانے والے بھارتی مظالم اور ان پر آزمائے جانے والے اوچھے بھارتی ہتھکنڈوں کے خلاف اور اہل پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کے لیے مکمل سیاسی،سفارتی،قانونی و اخلاقی حمایت کے اعادہ کے متعلق نعرے درج تھے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -