سیاسی بھرتیوں کے باعث یونیورسٹیاں مالی بحران کی شکار، خلیق الرحمان

سیاسی بھرتیوں کے باعث یونیورسٹیاں مالی بحران کی شکار، خلیق الرحمان

  

پشاور(سٹی رپورٹر) وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے محکمہ اعلی تعلیم میاں خلیق الرحمان نے جامعات میں سیاسی بنیادوں پر ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کرنے پر وزراء،مشیروں،اور وائس چانسلروں کو مالی بحران کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے جامعات میں سیاسی بھرتیوں کے باعث یونیورسٹیاں مالی بحران کے شکار ہوگئے ہیں جس کے لئے اصلاحات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، وزراء،مشیروں اور وائس چانسلروں نے ضرورت سے زیادہ اپنے بندوں کو بھرتی کر کے جامعات پر اضافی بوجھ ڈالا جس کے باعث یونیورسٹیاں مالی بحران کے شکار ہوگئے ہیں گزشتہ روز سٹی گرلز ڈگری کالج گلبہار میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے محکمہ اعلی تعلیم نے کہا کہ حکومت جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے جس پر بہت جلد قابو پایا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ جامعات میں اصلاحات لانا وقت کی اہم ضرورت ہے صوبے کے جامعات میں مناسب میکینزم نہ ہونے اور یونیورسٹیوں میں ضرورت سے زیادہ سیاسی بھرتیوں کے باعث مالی بحران پیدا ہوا ہے جامعات کو پینشن کے مد میں بھاری رقم ادا کرنے بھی ہوتے ہیں جس سے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ مثالی معاشرے کی تشکیل کے لئے اساتذہ کا کردار مسلمہ ہے، اصل تبدیلی لانے کے لئے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی اور اجتماعی مفادات کو انفرادی مفادات پر ترجیح دینا ہوگی۔ طلبا وطالبات کی بہتر تربیت کے لئے کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی کو فعال بنانا ہوگا و معاشرتی برائیوں کے حوالے سے آگاہی اور ان کے خاتمے کے لئے نصاب میں جدید دور کے مطابق تبدیلیاں کرنا ہونگی یاد رہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے سرکاری جامعات کے فنڈز میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ اساتذہ و طلبہ کیلئے اسکالر شپس بھی بند کردیے گئے ہیں جس سے نہ صرف تمام جامعات مالی مشکلات کا شکار ہو گئی ہیں بلکہ ترقیاتی منصوبے اور تحقیق کا کام بھی رک گیا ہے۔ نوبت یہ آگئی ہے کہ بعض جامعات میں اساتذہ و عملے کی تنخواہیں بینک سے قرضہ لے کر ادا کی گئیں جبکہ بحران کو بنیاد بناتے ہوئے کئی یونیورسٹیوں نے فیسوں میں بھی غیر معمولی اضافہ کردیا۔۔ صورتحال کچھ یوں ہے کہخیبر پختونخوا کی بڑی درس گاہوں سمیت تمام اعلی تعلیمی ادارے اس وقت شدید مالی مسائل سے دوچار ہیں، بعض وائس چانسلرز نے تو ایسے حالات برقرار رہنے پر جامعات کی بندش کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔۔ بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال وفاقی بجٹ میں ہائر ایجوکیشن کا حصہ صفر اعشاریہ نو مختص کیا گیا جو گزشتہ بیس برسوں میں کم ترین ہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -