کراچی میں بسیں کہاں جاتی ہیں،500 بسوں کا سناتھا افتتاح ہوااگلے دن کہاں چلی گئیں ،چیف جسٹس پاکستان کا میگاٹرانسپورٹ منصوبوں سے متعلق کیس میں استفسار

کراچی میں بسیں کہاں جاتی ہیں،500 بسوں کا سناتھا افتتاح ہوااگلے دن کہاں چلی ...
کراچی میں بسیں کہاں جاتی ہیں،500 بسوں کا سناتھا افتتاح ہوااگلے دن کہاں چلی گئیں ،چیف جسٹس پاکستان کا میگاٹرانسپورٹ منصوبوں سے متعلق کیس میں استفسار

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں میگاٹرانسپورٹ منصوبوں سے متعلق کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کراچی میں بسیں کہاں جاتی ہیں،500 بسوں کا سناتھا افتتاح ہوااگلے دن کہاں چلی گئیں ۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں میگاٹرانسپورٹ منصوبوں کے معاملے پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،کراچی ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر ڈیپارٹمنٹ کے صالح فاروقی عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ ہوکیا رہا ہے پوراشہرجام پڑا ہے ،صالح فاروقی نے کہاک ہ گرین لائن کاانفراسٹرکچر 2018 میں مکمل ہوچکا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کراچی میں بسیں کہاں جاتی ہیں،500 بسوں کا سناتھا افتتاح ہوااگلے دن کہاں چلی گئیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیاآپ لوگوں کے پیٹ میں چلی گئیں ؟افتتاح ہوتا ہے مگر اگلے دن بسیں کراچی سے غائب ہو جاتی ہیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ گرین بسیں کراچی سے کہاں چلی گئیں ؟۔میئر کراچی نے کہا کہ بیشتربسیں گل سٹرگئی ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پھرآپ کیا کررہے ہیں ؟۔

چیف جسٹس نے میئرکراچی سے استفسار کیا کہ جب پاکستان بنا تو محکمہ ٹرانسپورٹ کس کے پاس تھا،وسیم اختر نے کہا کہ جی مجھے معلوم نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قیام کے بعدڈبل ٹریگر پگھاوالا کو دے دیں جو ایک سال بعدختم ہو گئیں،جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ آپ توڈبل ٹریگر میں بیٹھے ہوں ،میئرکراچی نے کہا کہ نہیں سر!میں ڈبل ٹریگر بس میں نہیں بیٹھا،جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سب آپ کی مہربانیوں سے ہورہا ہے ،گاڑیوں کے ٹھیکے پرائیویٹ لوگوں کو دے کر شہر سے ٹرانسپورٹ ختم کرڈالی ،یہ گرین بس منصوبہ کیوں بنایا،اسلام آباداور لاہور کامنصوبہ یہاں کیسے بنادیا؟چیف جسٹس نے کہا کہ صرف ایک سڑک بنادیناکافی نہ تھا،صالح فاروقی نے کہاکہ یہ جاپان طرز کے منصوبے ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ وہ جاپان ہے مگریہ توکراچی ہے ایساکیوں کررہے ہیں ،کیا ایک بس چلانے کیلئے اربوں روپے لگا دیں گے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کہاں سے پی ایچ ڈی کرلی آپ لوگوں نے انفراسٹرکچر پر ،گرین بس لائن سے توشہرمیں ٹریفک مزیدٹریفک جام ہوگا،چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ گرین لائن منصوبے کو کب مکمل کریں گے ۔صالح فاروقی نے کہاکہ ایک سال میں منصوبہ مکمل ہوجائے گا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن کیسے چلائیں گے ،کیاکیاخواب دکھا رہے ہیں آپ لوگ ،عدالت نے کہاکہ گرین لائن منصوبے میں کوئی رفاعی جگہ نہیں آنی چاہئے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کوئی پارک یارفاعی جگہ پر گرین لائن منصوبے کو بنانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

مزید :

قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -