کالعدم ٹی ٹی پی کا ترجمان احسان اللہ احسان جیل سے فرار؟ مبینہ آڈیو پیغام نے تہلکہ مچادیا

کالعدم ٹی ٹی پی کا ترجمان احسان اللہ احسان جیل سے فرار؟ مبینہ آڈیو پیغام نے ...
کالعدم ٹی ٹی پی کا ترجمان احسان اللہ احسان جیل سے فرار؟ مبینہ آڈیو پیغام نے تہلکہ مچادیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی حامد میر نے ٹوئٹر پر ایک آڈیو /ویڈیو میسج ری ٹویٹ کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا جیل سے فرار کے بعد آڈیو پیغام ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے 2017 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے سرینڈر کیا تھا، گزشتہ دنوں بھارتی میڈیا میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ احسان اللہ احسان جیل سے فرار ہوگیا ہے، پاکستانی میڈیا میں اس حوالے سے کوئی خبر نہیں آئی تھی لیکن اب ایک آڈیو پیغام سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔

حامد میر نے جس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا ہے وہ احسان ٹیپو محسود کا ہے جس میں احسان اللہ احسان کا مبینہ آڈیو پیغام ہے۔ احسان ٹیپو محسود بھی ایک صحافی ہیں اور نیو یارک ٹائمز کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مبینہ آڈیو پیغام میں احسان اللہ احسان نے کہا کہ ان کے ساتھ پاکستانی اداروں نے وعدے پورے نہیں کیے جس کی وجہ سے وہ 11 جنوری 2020 کو جیل سے فرار ہوگیا تھا۔ کالعدم تنظیم کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ بہت جلد ان باتوں سے بھی پردہ اٹھائے گا کہ اس کا ضامن کون تھا اور اس کے ساتھ کیا وعدے کیے گئے تھے؟

حامد میر نے آڈیو پیغام ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ احسان اللہ احسان کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ اس نے ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری کیوں قبول کی؟ اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس نے کس کے کہنے پر میری کار کے نیچے بم لگانے کی ذمہ داری قبول کی تھی؟

دوسری جانب ایف جے کے نام سے ٹوئٹر پر موجود تنازعات کے ایک محقق نے کہا کہ احسان اللہ احسان کی مبینہ آڈیو ویڈیو سب سے پہلے اسی کے نام پر بنے ہوئے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر شیئر کی گئی ، یہ ٹوئٹر اکاﺅنٹ جنوری 2020 میں تخلیق کیا گیا ، یہ ٹوئٹر ہینڈل ایک فیس بک اکاﺅنٹ سے جڑا ہوا ہے جو لیاقت علی کے نام پر بنا ہوا ہے، احسان کا اصل نام لیاقت ہی ہے۔

لیاقت علی کے نام سے فیس بک اکاﺅنٹ ستمبر 2016 میں بنایا گیا تھا، یہاں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اکاﺅنٹ 2018-19 کے دوران اس وقت بھی ایکٹو تھا جب احسان اللہ احسان جیل میں تھا، اس اکاﺅنٹ پر اسلام آباد کی لوکیشن دی گئی ہے۔ اس فیس بک اکاﺅنٹ پر مہینے میں ایک آدھ پوسٹ ہی ڈالی جاتی ہے لیکن بعض اوقات مہینے میں کئی پوسٹیں بھی شیئر کی گئی ہیں۔

اینکر پرسن ارشد شریف نے بھی احسان ٹیپو محسود کا ٹویٹ ری ٹویٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر احسان اللہ احسان بھاگنے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟ اس نے اے پی ایس کے معصوم بچوں کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -دفاع وطن -