جس شخص کا اپنا گذارہ دو لاکھ میں نہیں ہو رہا وہ مدارس کے اساتذہ کو۔۔۔قاری حنیف جالندھری وزیر اعظم پر برس پڑے

جس شخص کا اپنا گذارہ دو لاکھ میں نہیں ہو رہا وہ مدارس کے اساتذہ کو۔۔۔قاری ...
 جس شخص کا اپنا گذارہ دو لاکھ میں نہیں ہو رہا وہ مدارس کے اساتذہ کو۔۔۔قاری حنیف جالندھری وزیر اعظم پر برس پڑے

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے حکومت کی ترجیح میں دینی تعلیم ہے ہی نہیں، قومی نصاب تعلیم سے بیکن ہاؤس جیسے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو مستثنی قرار دیا جا رہا ہے،تبدیلی یہ ہے کہ  جس شخص کا گزارہ دو لاکھ میں نہیں ہو رہا وہ مدارس کے اساتذہ کو 12 ہزار تنخواہ دینے کی بات کر رہا ہے،حکومتوں سے مذاکرات ہوئے ہیں لیکن حکومت سنجیدہ نہیں۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں تقسیم انعامات و اعزازات کی تقریب سےخطاب کرتےہوئےمولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ حکومت کی قومی  نصاب تعلیم سے مراد  یہ ہے کہ دینی مدارس میں دینی تعلیم کو ثانوی حیثیت دی جائے،حکومت کہتی ہے کہ مدارس کو قومی دھارے میں لائیں گے،ہم کہتے ہیں کہ ہماری تعلیم کاذریعہ اردو زبان ہے،ہم قومی لباس پہنتے ہیں اور آئین کے مطابق تعلیم دے رہے ہیں،قرآن کی تعلیم ہمارا مقصداورفنی تعلیم ہماری ضرورت ہے،حکومتوں سےمذاکرات ہوئےہیں لیکن حکومت سنجیدہ نہیں، اب تک طے شدہ معاملات پر عمل نہیں ہو رہا، اب تو حکومتی اتحادی بھی کہ رہے ہیں کہ حکومت ہونے والے معاہدے پر عمل نہیں کر رہی ۔انہوں نے کہا کہ میں ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ دینی مدارس کو کسی قسم کی بیرونی فنڈنگ نہیں ہوتی، وفاق المدارس کا فیصلہ ہے کسی بھی شکل میں حکومتی امداد کو وصول نہیں کیا جائے گا، چاہے آئمہ کے نام پر ہی کیوں نہ ہو۔مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ جس شخص کا گزارہ دو لاکھ میں نہیں ہو رہا وہ مدارس کے اساتذہ کو 12 ہزار تنخواہ دینے کی بات کر رہا ہے، وہ بھی صرف دو اساتذہ کو، یہ ہے تبدیلی ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق المدارس کا امتحانی نظم بے مثال،قابل تقلید روایات اور کڑے معیار کا حامل نظم ہے جس میں محنتی طلبہ کامیاب ہوتے ہیں،ان طلبہ کا مقابلہ صرف اپنے ضلع اور ڈویژن کے طلبہ سے نہیں ہوتا بلکہ ملک بھر کے طلبہ اس مقابلے میں شریک ہوتے ہیں،وفاق المدارس کے امتحانات ملک بھر میں ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں منعقد ہوتے ہیں، ان لاکھوں طلبہ وطالبات کے لیے ایک ہی امتحانی پرچہ تیار ہوتا ہے، اس لیے پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بہت بڑا معرکہ سر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق المدارس دینی اداروں کیلئے ایک سائبان ہے،آج دنیا بھر میں دینی مدارس کے نیٹ ورک قائم ہیں، دنیا کا کوئی براعظم نہیں جہاں دینی مدارس نہ ہوں، مگر وفاق المدارس صرف پاکستان میں ہے،وفاق المدارس پوری دنیا میں مدارس دینیہ کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے،اور یہ اعزاز پاکستان کیلئے باعث فخر ہے آج وفاق المدارس دنیا بھر سب سے زیادہ حفاظ تیار کرنے والا ایک بڑا ادارہ ہے، ہمارے امتحانات میں نقل کی کوئی گنجائش نہیں، کوئی بوٹی مافیا نہیں،نہ  ہی ہمیں پولیس کی مدد لینی پڑتی ہے اور نہ ہی سیکیورٹی کا انتظام کرنا پڑتا ہے، یہ سب اعلی دینی تربیت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ الحمد للہ گزشتہ ایک سال میں 80 ہزار طلبہ و طالبات نے حفظ قرآن مکمل کرکے وفاق المدارس کے تحت امتحان دیا، جبکہ اس سال فارغ التحصیل ہونے والے علمائے کرام کی تعداد 26 ہزار ہے،اسلام اور مدرسہ لازم و ملزوم ہے، جتنی قدیم اسلام کی تاریخ ہے اتنی ہی قدیم تاریخ مدرسہ کی ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس اپنی تمام خدمات فی سبیل اللہ مہیا کرتے ہیں، وہ کسی قسم کے معاوضے کے طالب نہیں ہوتے جبکہ دنیا میں ہر شخص اپنے علم کی فیس وصول کرتا ہے، ڈاکٹر، انجنئیر، وکیل سب فیس وصول کرتے ہیں لیکن علمائے کرام رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں، یہاں دینی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، دنیا کا ہر طبقہ اپنے حقوق کے لیے ہڑتال کرتا ہے لیکن مساجد و مدارس والے ہڑتال نہیں کرتے کیونکہ ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارس نے قومی یکجہتی کو فروغ دیا، مدارس میں ایک ہی چھت کے نیچے ہر رنگ و نسل اور زبان کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن کبھی رنگ ونسل اور زبان کی بنیاد پر کسی مدرسے میں لڑائی نہیں ہوتی،ہم نے قومی، لسانی اور علاقائی تعصب کو دفن کیا ہے،دنیا بھر میں تعلیم کو تجارت بنا دیا گیا ہے لیکن ہم نے تعلیم کو عبادت کا درجہ دیا ہے، ہم طلبہ کو رہائش، کھانا، علاج تک مفت فراہم کرتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -