آیئے مسکرائیں 

آیئے مسکرائیں 

  

 ٭کسی شخص نے ایک تھانیدار کی دعوت کی۔ وہ مرغ مسلم کھا گیا۔ کھانے کے بعد ایک بوڑھا مرغ صحن میں نظر آیا۔ اسے دیکھ کر تھانیدار بولا:”واہ دیکھو یہ مرغ کس شان سے چل رہا ہے“۔ میزبان نے جل کر جواب دیا:”جناب! شان کیوں نہ دکھائے، اس کے دو بیٹے ایک تھانیدار کی خدمت کر چکے ہیں“۔ 

 ٭ماں ناصر سے:”بیٹا! میں نے تمھیں رضوان کے ساتھ کھیلنے سے منع کیا تھا کہ برے بچوں کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہئے۔“ قاسم بولا:”امی میں کیسا بچہ ہوں؟“۔ ماں:”تم تو بہت اچھے بچے ہو“۔ قاسم:”پھر امی! رضوان تو میرے ساتھ کھیل سکتا ہے نا؟“

   ٭ ایک میاں بیوی کو ایک فلم کے ٹکٹ بذریعہ ڈاک ملے‘ بھیجنے والے کا نام اور پتہ درج نہیں تھا۔ شوہر کا دعویٰ تھا کہ یہ ٹکٹ یقیناً اس کے کسی دوست نے بھیجے ہیں جبکہ بیوی کا اصرار تھا کہ یہ اس کی کسی سہیلی نے بھیجے ہیں۔آخر کار فلم کا وقت ہونے پر وہ فلم دیکھنے چلے گئے۔ جب وہ فلم دیکھ کر لوٹے تو دیکھا کہ گھر کا سارا سامان غائب ہے اور ایک کاغذ پر لکھا تھا ”فلم دیکھنے کا بہت بہت شکریہ“۔

 ٭مالکہ (نوکرانی سے) جو نوکر ہونے کو آئی تھی پوچھا۔ ”جہاں تم ملازم تھیں وہاں سے کیوں چلی آئی؟“ نوکرانی: ”مجھے پہلی مالکہ نے خود ہی نکال دیا تھا۔“ مالکہ: ”وہ کیوں؟“ نوکرانی: ”میں بچوں کو نہلانا بھول جایا کرتی تھی۔“ سب بچے بولے۔ ”اماں اماں اسی کو رکھ لو۔“

٭ اپنے موٹاپے سے بیزار ایک شخص ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے پچاس گولیوں سے بھری ایک شیشی اسے پکڑا دی۔ مریض نے پْر امید ہو کر پوچھا:”ڈاکٹر صاحب! کیا یہ سب گولیاں کھانے سے میرے موٹاپے میں خاطر خواہ کمی ہو جائیگی“۔ ڈاکٹر نے جواب دیا:”یہ گولیاں کھانے کے لئے نہیں ہیں‘ آپ ہر روز صبح سویرے بستر سے اٹھنے کے بعد اس شیشی کی تمام گولیاں فرش پر الٹ دیں اور شیشی اپنے قد کے برابر کسی اونچی جگہ پر رکھ دیں اس کے بعد باری باری ایک گولی فرش سے اٹھائیں اور شیشی میں ڈالتے جائیں‘ چند روز تک یہ علاج باقاعدگی سے کریں‘ ان شاء اللہ افاقہ ہو گا“۔۔ 

٭ایک بیوقوف (دوسرے سے):”دیکھو! تمھارے ناک پر مکھی بیٹھی ہوئی ہے“۔ دوسرا بیوقوف:”کوئی بات نہیں‘ کسی دن موقع ملا تو میں بھی اس کی ناک پر چڑھ جاؤں گا۔“

٭استانی: کوئی بچہ بتا سکتا ہے کہ چڑیا ایسے کون کون سے کام کرتی ہے جو میں نہیں کر سکتی۔ ایک بچہ: کیا آپ پلیٹ پر غسل کر سکتی ہیں؟

٭ایک آدمی نوکری کی تلاش میں ایک شخص کے پاس پہنچا۔ اس شخص نے پوچھا۔ ”کھانا پکانا جانتے ہو؟“ ”جی ہاں۔“ ”کار چلانا جانتے ہو؟“ ”جی ہاں۔“ ”جھوٹ بولنا جانتے ہو؟“ اس پر نوکر نے جواب دیا۔ ”تمہارا کیا خیال ہے‘ ابھی تک میں کیا کر رہا ہوں۔“      

      ٭ایک صاحب کو رات بھر دوستوں کی محفل میں تاش کھیلنے کی عادت تھی۔ ایک دن حسب معمول وہ رات بھر دوستوں کے ساتھ تاش کھیلنے کے بعد صبح چار بچے گھر آئے تو بیوی جلی بھنی بیٹھی تھی،بیوی نے میاں کو دیکھ کر کہا۔ ”تمہیں سوائے تاش کھیلنے کے کوئی اورکام ہی نہیں ہے، ساری رات باہر دوستوں میں گزار دیتے ہو۔ میاں چپ چاپ سب سنتے رہے۔ آخر بیوی بولی ارے تم بھی کچھ بولو۔ آخر تم ساری رات کے بعد صبح چار بجے کیا کرنے آئے ہو؟ ”ناشتا کرنے“… بڑی سادگی سے جواب ملا۔ 

٭بیٹے نے باپ سے پوچھا:”ابو! اگر میں اس بار امتحان میں پاس ہو گیا تو آپ مجھے انعام میں کیا دیں گے؟“ باپ نے خوش ہو کر کہا:”ایک نئی اور خوب صورت سائیکل۔“ بیٹے نے پھر پوچھا:”اور اگر میں فیل ہو گیا تو؟“ باپ نے سوچ کر جواب دیا:”رکشا۔ساری عمر چلاؤ اور کماؤ۔“

 معصومیت - لطیفہ نمبر 1600

٭ایک لڑکا باغ میں درخت پر چڑھا آم توڑ رہا تھا کہ اتنے میں چوکیدار آگیا۔ وہ غصے سے بولا:شرم نہیں آتی چوری کرتے ہوئے،بتا تیرا باپ کہاں ہے؟ لڑکا نہایت معصومیت سے بولا۔ وہ دوسرے درخت پر چڑھے ہوئے ہیں۔

٭ماں: (بیٹے سے) مصیبت میں ہمیشہ مسکرانا چاہیے۔ بیٹا: جی امی جان! اس لیے تو میں ہر روز اسکول جاتے ہوئے مسکراتا ہوں۔۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -