شہریوں کو صاف پانی اور سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے،ظاہر شاہ

شہریوں کو صاف پانی اور سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے،ظاہر شاہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)صوبائی اسمبلی کے رکن ظاہر شاہ طورو نے دس روزہ خصوصی صفائی مہم کے سلسلے میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے52کے مختلف یونین کونسلوں میں صفائی مہم کا جائز ہ لیا۔انہوں نے صفائی کی صورتحال پرا طمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صاف پانی اور صفائی کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لئے حکومت ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ دس روزہ خصوصی صفائی مہم کا مقصد شہریوں کو صفائی کے حوالے سے بہترین اور معیاری سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ یہ آگاہی بھی دینی ہے کہ صفائی صرف حکومتی اداروں کا کام نہیں بلکہ مشترکہ طور پر ہمیں صفائی کے اصولوں کو اپنانا چاہیئے۔انہوں نے یونین کونسل بکٹ گنج،باڑی چم،مسلم آباد،گلی باغ اور دیگر یونین کونسلوں میں صفائی کا جائزہ لیا۔اس موقع پر واٹر اینڈ سینیٹشن سروسز کمپنی مردان کے منیجر میونسپل سروسز خلیل اکبر،اسسٹنٹ منیجر سولڈ ویسٹ مینجمنٹ محمد اسحاق،اسسٹنٹ منیجر ویسٹ واٹر مینجمنٹ اکرام اللہ اور دیگر بھی موجود تھے۔منیجر میونسپل سروسز خلیل اکبرنے صوبائی اسمبلی کے رکن ظاہر شاہ طورو کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی شہر کے چودہ یونین کونسلوں میں شہریوں کو صاف پانی،صفائی اور نکاسی آب کے حوالے سے بہترین سہولیات فراہم کررہی ہے۔ شہر کے چودہ یونین کونسلوں سے روزانہ کی بنیاد پر دو سوسے ڈھائی سو ٹن کچرا اٹھا کرانہیں محفوظ مقام پر منتقل کر کے تلف کیا جاتا ہے جبکہ نالیوں کی مرحلہ وار صفائی بھی کی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ شہر یوں کو دن میں تین مرتبہ صاف پانی فراہم کیاجاتا ہے لیکن شہری بل جمع کرنے میں کمپنی کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔صوبائی اسمبلی کے رکن ظاہر شاہ طورو نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہاکہ کمپنی کے قیام کی وجہ سے شہر میں صفائی کا معیار بہتر ہو اہے اور جدید طریقوں سے کچرے کو تلف کرنا بھی کمپنی کی اہم کامیابی ہے۔انہوں نے کچرے سے نامیاتی کھاد بنانے کے پراجیکٹ کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے اقدامات سے شہر میں کچرے کے حجم میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے لئے نامیاتی کھاد کا حصول بھی ممکن ہوسکے گا۔ظاہر شاہ طورو نے شہریوں سے صفائی کے حوالے سے گفتگو کی جس پر شہریوں نے مثبت جواب دیتے ہوئے کہاکہ کمپنی کے آنے کے بعد صفائی میں بہتری آئی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -