چھاتی کا کینسر مردوں کو بھی متاثرکر رہا ہے،ڈاکٹر نایاب ثروت

    چھاتی کا کینسر مردوں کو بھی متاثرکر رہا ہے،ڈاکٹر نایاب ثروت

  

لاہور(فلم رپورٹر)کینسر جان لیوا مرض ہے ہر سال اس حوالے سے دنیا بھر میں 80لاکھ سے زائد مریض رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ 80  ہزار مریض کینسر کی مختلف اقسام میں مبتلا ہوتے ہیں،سندھ میں اوورل کینسر جبکہ پنجاب سمیت ملک کے دوسرے علاقوں میں چھاتی کے کینسر،رحم کے کینسراور لیور کینسر کی شرح زیادہ ہے جبکہ چھاتی کا کینسر ہونے کی شرح مردوں میں بھی نظر آتی ہے ان باتوں کا اظہار ڈاکٹر نایاب ثروت نے کینسر کے عالمی دن کے موقع پر اپنی گفتگو میں کیا۔

 اس موقع پر ان کا کہناتھا کہ ماضی کی طرح اب بھی قومی اور صوبائی حکومتیں اس حوالے سے مناسب اقدامات نہیں کررہیں حالانکہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس وقت بھی کینسر کے حوالے سے ایسے جدید ہسپتال کی ضرورت  ہے جہاں پر کینسر کے علاج میں پیش آنے والے تمام سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے ملتی نظر آئیں اور کینسر رجسڑی کے ذریعے ایسا نظام بنایا جائے جو کینسر کے مریضوں کی خبر رکھ سکے ا ن کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ خواب حقیقت کا روپ دھارتا نظر نہیں آتا کیونکہ ایسے اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال کے لیے 6ارب سے زائد کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے جو کسی بھی دور میں کسی بھی حکومت کی ترجیع نہیں رہی اب حال یہ ہے کہ کینسر کے مشتبہ مریض کو سرجری کے لیے ایک ہسپتال میں دھکے کھانے پڑتے ہیں تو کیمو تھراپی کے لئے دوسرے ہسپتال جانا پڑتا ہے جس سے مریض کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور کینسر بڑھ کر ایدوانس سٹیج پر چلاجاتا ہے جس کا علاج طبی ماہر کے لئے بھی مشکل سے مشکل ہوتا چلا جاتا ہے انھوں ن ے اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ماڈل ٹاؤن کے نزدیک 1000بیڈز کے ہسپتال کا جو اعلان کیا ہے اس میں کینسر کے مریضوں کو کتنے بیڈز ملیں گے اور کینسر کے حوالے سے اس ہسپتال میں مریضوں کی صحت کے حوالے سے کیا اقدامات کئے جائیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -