آئینی ترمیم کا غنچہ بن کھلے مرجھا گیا

آئینی ترمیم کا غنچہ بن کھلے مرجھا گیا

  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا رویہ پارلیمینٹ کے تقدس کو پامال کر رہا ہے، پچھلے سینیٹ انتخابات میں بھی لوگوں نے ضمیر بیچے، تحریک انصاف نے اپنے بیس ارکان کی رکنیت ختم کی، ہم اپوزیشن کو بے نقاب کرنے کے لئے ترمیم لائے ہیں،اُنہیں بات نہیں کرنے دیں گے۔ یہ استعفوں سے کیوں پیچھے ہٹے، راتوں رات کیا ہوا، یہ راز نہیں بتاؤں گا۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا ترمیم میں ہم نہیں اُن کے اپنے ارکان رکاوٹ ہیں،جنہوں نے ایڈوانس پکڑ رکھا ہے۔ اپوزیشن کو آئینی ترمیم پر بات نہیں کرنے دی جا رہی۔26ویں ترمیم ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر دونوں ایوانوں کی کمیٹی بنا کر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے، حکومت کے پاس تعداد پوری نہیں ہے، لیکن وہ ترمیم کرنے جا رہی ہے، پارلیمان کو پارلیمانی طریقے سے چلایا جائے،آئینی ترمیم کے لئے ماحول سنجیدہ رکھنا چاہئے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی، گالم گلوچ، ہلڑ بازی، دھکم پیل، نعرے بازی اور چور، چور کے شور کے دوران آئینی ترمیم کا معاملہ تو پس ِ منظر میں چلا گیا، بلکہ یوں سمجھئے کہ ختم ہی ہو گیا ہے، کیونکہ اجلاس اب غیر معینہ مدت تک ملتوی ہو چکا ہے اور سینیٹ کے الیکشن سے پہلے دوبارہ اجلاس  طلب کئے جانے اور اس میں آئینی ترمیم کے بل پر غور  کئے جانے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ جمعرات  کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کورم کی نشاندہی بھی ہوتی رہی، ایک بار سرکاری بنچوں اور دوبارہ اپوزیشن بنچوں کی طرف سے کورم کی نشاندہی کی گئی، جس کا مقصد تھا کارروائی جاری نہ  رہ سکے،اجلاس کا موڈ بتا رہا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن ارکان بِل پر بات کرنے کی بجائے اِدھر اُدھر کی باتوں میں اُلجھ اور اُلجھا رہے تھے یہاں تک کہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کو بات نہیں کرنے دیں گے،اس کا جواب بھی ظاہر ہے آنا تھا، چنانچہ سارے ہلّے گُلے میں آئینی ترمیم کا  بِل غائب ہو گیا۔ وزیر خارجہ نے تو صاف طور پر کہہ دیا کہ ان کے پاس  بِل پاس کرانے کی اکثریت نہیں وہ تو اپوزیشن کو بے نقاب کرنے کے لئے ترمیم لائے تھے، جواب میں راجہ پرویز مشرف نے کہا بے نقاب تو حکومتی ارکان ہوئے ہیں، جنہوں نے ایڈوانس پکڑا ہوا ہے۔ تقریروں اور ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی نے آئینی ترمیم کا معاملہ تو ختم کر دیا، اب بنیادی سوال یہ اُٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا اِن حالات میں ایوان چلایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا اگلے اجلاس میں وہ بدصورت مناظر نہیں دہرائے جائیں گے، جو  اب دیکھنے میں آئے؟

قومی اسمبلی ایسا فورم ہے جہاں ملک و قوم کو درپیش مسائل پر کھل کر بحث ہونی چاہئے اور ان کا حل تلاش کیا جانا چاہئے،لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ فریقین کوئی ٹھوس تجویزیں سامنے لانے کی بجائے دیدہ دانستہ ایوان کو ہنگامے کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں، قائد ایوان اور قائد ِ حزبِ اختلاف دونوں ایوان میں موجود نہیں ہوتے،جو اپنی اپنی جماعتوں کے ارکان کو کنٹرول میں رکھتے۔  ایوان کو جس طرح ریسلنگ کا فری فال آل رنگ بنا دیا گیا، لگتا ہے یہی اس اجلاس کا مطلوب و مقصود تھا جو حاصل ہو گیا،اب حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرے گی اور اسی کی روشنی میں خفیہ یا اوپن بیلٹ کا طریقِ کار اختیار کیا جائے گا، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں یہ واضح موقف اختیار کر چکا ہے کہ خفیہ رائے شماری کا طریقہ آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا، آئینی ترمیم کے بِل کا جو حشر قومی اسمبلی میں ہوا وہ سب کے سامنے ہے، اِس لئے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن اگر خفیہ رائے شماری سے ہوئے تو نتائج میں بڑا اَپ سیٹ ہو گا اسی سے حکومت خوفزدہ ہو کر ترمیم کرنا چاہتی تھی، جو ممکن نہیں ہوئی اور  فائر بیک کر گئی۔

ووٹوں کی خرید و فروخت عمومی طور پر بالواسطہ انتخابات میں ہوتی ہے جب ووٹر تھوڑے ہوں اور انہیں مینج کرنا ممکن ہو، سینیٹ کے الیکیٹورل کالج کا اگر جائزہ لیا جائے تو پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تعداد باقی تمام اسمبلیوں کی نسبت زیادہ ہے، یہاں پارٹی پوزیشن بھی واضح ہے۔اس کے باوجود اپ سیٹ کی امیدیں بھی لگائی گئی ہیں۔ کے پی کے میں 2018ء کی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے ارکان کے بعد مسلم لیگ(ق)، پیپلزپارٹی اور آزاد ارکان کی تعداد اتنی کم ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کن کردار تو ادا نہیں کر سکتے، البتہ جوڑ توڑ میں اُن کا وزن جس امیدوار کے پلڑے میں پڑ جائے وہ کامیاب ہو سکتا ہے، اِس لئے تحریک انصاف نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ(ق) کا تعاون حاصل کیا ہے،جس نے جواب میں اپنے ایک امیدوار کی کامیابی کی  شرط رکھی ہے، عام حالات میں شاید تحریک انصاف ایسے کسی معاملے پر سودے بازی نہ کرتی،لیکن صورتِ حال ایسی بن گئی ہے کہ تھوڑی نشستوں والی جماعت کی اہمیت بڑھ گئی ہے،اسی طرح پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی رکن جماعتیں مل کر الیکشن لڑیں گی، بلوچستان اور کے پی کے میں اس اتحاد کے فوائد سامنے آ سکتے ہیں،اس طرح پی ڈی ایم کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے،لیکن اگر ووٹوں کی مینجمنٹ سے بچنا ہو اور خرید و فروخت کا امکان ختم کرنا  ہو، تو اس کے لئے مستقبل میں کوئی نیا قابل ِ عمل طریقہ وضع کرنا ہو گا، بعض حلقے تو براہِ راست الیکشن کی تجویز بھی پیش کرتے ہیں،لیکن عملی طور پر اس کی تفصیلات اور جزیات کبھی سامنے نہیں آئیں، براہِ راست الیکشن کی ایک شکل تو وہ ہے، جو امریکہ میں رائج ہے اور دو ایوانی پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان لوگوں کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، کیا پاکستان میں ایسا طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے؟ اگر حکومت اور مخالف جماعتیں اس پر غور کے لئے تیار ہوں تو پارلیمینٹ کی کمیٹی بنا کر تجاویز طلب کی جا سکتی ہیں، لیکن جس طرح کا ماحول پارلیمینٹ میں بن چکا ہے، پہلے اسے بدلنا  ہو گا،پارلیمینٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتیں اور اُن کے لیڈر باہم مل کر سینیٹ کے الیکشن کا نیا طریقہ کار وضع کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کریں،لیکن یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب نفرتوں کی موجودہ فضا ختم ہو اور ایک دوسرے کے احترام کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا جائے،اگر ایسا نہیں ہو گا تو پھر ایوانوں میں وہی کچھ ہو گا جو  اب ہو رہا ہے۔ اگر ایک دوسرے کو بے نقاب ہی کرنا ہے تو یہ کام ”خوش اسلوبی“ سے ہو چکا، آئینی ترمیم کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا اب سینیٹ کے الیکشن جیسے بھی ہوں، ان کے بعد کسی ایسے طریقے پر غور ہونا چاہئے جس میں ووٹ فروخت نہ ہو سکیں اور نہ ہی ان کی مینجمنٹ ممکن ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -