میانمر میں مارشل لا (2)

میانمر میں مارشل لا (2)
میانمر میں مارشل لا (2)

  

جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا گیا، میانمر کا پہلا نام برما تھا۔ اور جب 1948ء میں اسے برطانوی سامراج سے آزادی ملی تو تب بھی اس کا نام برما ہی تھا۔ لیکن میانمر ہو یا برما اس کے نام کے ساتھ اگر کسی سیاستدان کا تصور یا تصویر سامنے آتی ہے وہ ایک دھان پان شخصیت کی ہے جو یکم فروری 2021ء سے ایک دن پہلے تک عوام کی منتخب وزیراعظم تھی اور گزشتہ برس نومبر میں جو الیکشن ہوئے تھے اس میں اس کی ”نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی“ (NLD) نے 80% سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے۔

ان کا نام آنگ سان سو کی (Aung San Su Kyi) ہے۔ لندن اور آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ ہیں۔ عمر 75برس سے زیادہ ہو چکی ہے۔ بال بچے دار ہیں۔ شوہر وفات پا چکے ہیں۔ ان کے والد کا نام میجر جنرل آنگ سان تھا اور مادام کا نام بھی انہی کے نام پر ہے۔ جنرل آنگ سان جدید برمی فوج کے بانیوں میں سے ہیں۔ اس منظم فوج کی بنیاد 1941ء میں جاپانیوں نے رکھی تھی اور جیسا کہ پہلی قسط میں بیان کر آیا ہوں، 1942ء میں (دوسری عالمی جنگ کے دوران) جاپان نے برما کے دارالحکومت رنگون پر قبضہ کر لیا تھا۔(برسبیل تذکرہ، رنگون میں مغلیہ خاندان کا آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر مدفون ہے جسے انگریزوں نے 1857ء کی جنگ آزادی میں گرفتار کرکے رنگون کے قلعے میں قید کر دیا تھا)

محترمہ سوکی کے والد جنرل آنگ سان کو جوانی ہی میں (آزادی سے قبل 1947ء میں) باغیوں نے قتل کر دیا تھا۔ آنگ سان سوکی کے پانچ چھ بہن بھائی اور بھی تھے جن کو کوئی نہیں جانتا کہ وہ آج کل کہاں ہے۔ سوکی کو نوبل انعام (برائے امن) بھی مل چکا ہے۔ ساری عمر سیاست میں گزاری اور چونکہ برما کی گزشتہ 73سالہ تاریخ (1948ء تا 2021ء) میں سے 50سال سے زیادہ اس ملک پر فوج کی حکمرانی رہی اس لئے ملک کے ہر شعبے میں برما آرمی کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور اس کا عمل دخل کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ بات بھی کسی برمی سے پوشیدہ نہیں کہ مادام سوکی کے تعلقات فوج سے دوستانہ رہے ہیں۔ فوج نے 2010ء میں ان کو نظر بندی سے رہا کرکے جب ملکی اقتدار ان کے حوالے کیا تھا تو وہ طرزِ حکومت ایک عجیب طرح کی حکومت تھی۔ اسے جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ ملک کا ایک صدر بھی تھا جس کا تعلق سیاسی پارٹی سے تھا لیکن اسبملی کی 25%نشستیں، آئین کی  رو سے فوج کے پاس تھیں۔

مادام سوکی کو وزیراعظم کہنے کی بجائے ”سٹیٹ قونصلر“کہا جاتا تھا۔ وہ 2016ء سے اب تک اپنے ملک کی ’وزیراعظم‘ ہونے کے ساتھ ساتھ وزیرِ خارجہ بھی تھیں۔ برمی فوج کے ساتھ سوکی کے تعلقات کا اندازہ لگانا ہو تو دو باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ ایک بات یہ کہ جب ایک طویل نظر بندی کے بعد ان کو 2010ء میں رہائی دی گئی تو ناشتے اور دوپہر کے کھانے میں ان کے ساتھ جو شخص شریکِ طعام ہوتا تھا وہ وہی جنرل تھا جس نے ان کو پہلی بار گھر میں نظر بند کیا تھا…… عوام یہ سمجھتے ہیں کہ سوکی فوج کی مخالف اور حریف ہے اور الیکشنوں میں سوکی کی فتح کا مطلب برمی فوج کی شکست ہے حالانکہ یہ بات بالکل غلط تھی۔ سوکی کے تعلقات اپنی فوج سے ہمیشہ مفاہمانہ رہے…… اور دوسری بات وہی ہے جس کا ذکر میں نے پہلی قسط میں کیا تھا کہ میرے اس کالم کی تحریر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں برما کی مسلم اقلیت روہنگیا پر، برمی فوج نے جو ظلم و ستم روا رکھا اس میں سوکی کی ملی بھگت سے قارئین کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔

یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر میڈم سوکی فوج کی ہاں میں ہاں ملاتی تھی اور فوج کی طرف سے روہنگیا مسلم اقلیت پر جبر و جور کی طرفداری بھی کرتی تھی تو پھر فوج کو مارشل لا کیوں لگانا پڑا اور سوکی کو نظر بند کیوں کرنا پڑا؟ فوج نے فی الحال ایک سال تک ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے اور جنرل مِن آنگ ہلانگ (Min Aung Hlaing) نے جو تینوں مسلح افواج کے سربراہ ہیں، اپنی گیارہ رکنی کابینہ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ یہ سارے اراکینِ کابینہ برمی فوج کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ سینئر آفیسرز ہیں۔

اس سوال کا واحد جواب یہ ہے کہ اب مادام سوکی فوج کے چنگل سے رہائی پانا چاہتی تھی۔وہ گزشتہ سات برس سے ملک کی وزیرخارجہ بھی تھیں اور اس حیثیت میں وہ جب بھی کسی غیر ملک کے دورے پر جاتیں یا کوئی غیر ملکی عہدیدار برما (میانمر) میں آتا تو اپنی ذاتی حیثیت اور سٹیٹس کا دفاع نہیں کر سکتی تھیں۔ لوگ پوچھتے تھے کہ ملک کی باگ ڈور اگر آپ کے ہاتھ میں ہے تو اسمبلی میں 25فیصد فوجی نشستوں کا کیا جواز ہے؟ برما میں مسلم روہنگیا اقلیت کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ ہے جس میں سے 8لاکھ کو ملک بدر کرکے بنگلہ دیش کی طرف دھکیل دیا گیا ہے اور وہ سب لوگ اب بنگلہ دیشی یا اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم کردہ امداد پر زندگی بسرکر رہے ہیں۔ تقریباً تین لاکھ مسلمان روہنگیا کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے اور ان کے گھر جلا دیئے گئے ہیں۔ یہ سارے مظالم خود برمی فوج نے ڈھائے ہیں۔

برما کی 93% آبادی بدھ مت کے پیروکاروں پرمشتمل ہے اور صرف 4فیصد مسلمان ہیں۔ 5فیصد عیسائی اور باقی مذاہب کے ماننے والے بھی ہیں۔ مسلمانوں کو کہا گیا تھا کہ یا بدھ مذہب اختیار کر لو یا برما سے نکل جاؤ کہ یہ بدھ لوگوں کا مسکن ہے۔(آج کل انڈیا بھی اسی راہ کا مسافر ہے۔ اس نے بھی کشمیری مسلمانوں کو یہی نوٹس دے رکھا ہے)۔

مادام سوکی سے جب بھی غیر ملکی دورے پر یہ سوال کیا جاتا تھا کہ آپ کے ملک میں مسلم اقلیت کا سٹیٹس کیا ہے تو وہ مسلمانوں کا نام لیتے ہوئے حقارت اور نفرت کے تاثرات چہرے پر لاتے ہوئے کہا کرتی تھیں: ”میری فوج ان مسلمانوں کے ساتھ ٹھیک سلوک کر رہی ہے۔ یہ لوگ برما کے باغی ہیں۔ ان کو معلوم ہی نہیں کہ اقلیت بن کے کس طرح زندگی گزارنی ہے!“…… یہ جواب غیر ملکی سیاسی رہنماؤں کو گراں گزرتا تھا اس لئے رفتہ رفتہ لوگ مادام سوکی کو ایک غیر جمہوری اور مذہبی لحاظ سے متشدد شخصیت کے روپ میں دیکھنے لگے تھے۔ مادام کو اب یا تو اپنی فوج کو خوش رکھنا تھا یا اپنے عالمی امیج کو بچانا تھا۔ چنانچہ انہوں نے رفتہ رفتہ فوج سے اپنے تعلقات میں سرد مہری کا رویہ اپنانا شروع کر دیا تھا۔ جنرل ہلانگ مسلح افواج کے کمانڈر انچیف تھے لیکن گزشتہ ایک سال میں ان کی ایک ملاقات بھی اپنی وزیراعظم (سٹیٹ قونصلر) سے نہیں ہوئی تھی۔ اس کا فوج کے سینئر افسروں کو بہت قلق تھا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ مادام اپنی حدود سے باہر نکل رہی ہیں …… ایک اور بات بھی جو اس مارشل لا کا فوری سبب بنی وہ یہ تھی کہ اسی سال چند ماہ بعد جنرل ہلانگ ریٹائر ہو رہے تھے تو برما کی مسلح افواج میں ایسے آفیسر اوپر آ رہے تھے جن کی وفاداریاں مادام سے وابستہ تھیں نہ کہ اپنے کمانڈر انچیف سے۔ برما کی ملٹری انٹیلی جنس اس صورتِ حال کو بڑی تیزی سے اچھال رہی تھی۔کمانڈر انچیف کے نزدیک جو سینئر آرمی آفیسرز تھے انہوں نے جنرل ہلانگ کو خبردار کر دیا تھا کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد فوج کی بڑے پیمانے پر ”چھانٹی“ ہو گی اور ممکن ہے ان کو بعد از ریٹائرمنٹ گرفتار بھی کر لیا جائے!

جہاں تک یورپ کے جمہوری ممالک اور امریکہ کا تعلق ہے تو وہ بھی برما کی داخلی اور خارجی سیاسیات میں فوج کی مداخلت کو کراہت کی نظر سے دیکھتے آئے ہیں۔ برما کی فوجی حکومت کے ادوار میں امریکہ نے وہی پابندیاں لگا رکھی تھیں جو وہ جمہوریت کے ’منکرین“ پر لگاتا چلا آ رہا ہے۔ صدر بائیڈن کی نئی انتظامیہ بھی اس مارشل لا سے خوش نہیں اور جنرل ہلانگ کو خبردار کر رہی ہے کہ وہ جلد جمہوری دور کی طرف ملک کو واپس لے جائے وگرنہ شدید پابندیوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہے۔

برما اور چین کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں اور چین، برما کی انفرمیشن ٹیکنالوجی، ریل اینڈ روڈ نیٹ ورک، انرجی منصوبوں اور تعمیر و ترقی کے دوسرے پراجیکٹوں میں برما کی فوجی حکومت کی مدد کر رہا ہے۔ اس لئے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا کوئی خاص اثر پہلے بھی برما نے قبول نہیں کیا اور نہ آئندہ ایسا کرنے کا اس کا ارادہ ہے۔(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -