حاجی مقبول احمدحج و عمرہ ٹریڈ کی جہاندیدہ شخصیت

حاجی مقبول احمدحج و عمرہ ٹریڈ کی جہاندیدہ شخصیت
حاجی مقبول احمدحج و عمرہ ٹریڈ کی جہاندیدہ شخصیت

  

ء 2020کے حوالے سے کہا جاتا ہے اس میں وہ کچھ ہوا ہے جو اِس سے پہلے نہیں ہوا تھا، مختصر کہا جاتا ہے2020ء کچھ  کے اپنے اور کچھ کے سپنے لے گیا، کووِڈ19نے پوری دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا جب حرمین شریفین کے دروازے بند ہو گئے اس کے بعد کیا بچتا ہے؟

البتہ اُمت مسلمہ2021ء کے حوالے سے  بڑی پُرامید تھی کہا جاتا ہے یہ امید اور خوشی کا سال ہو گا اللہ کرے آئندہ ایسا ہی ہو، مگر جنوری کا آخری ہفتہ اور فروری کا پہلا ہفتہ میرے لئے آزمائش ثابت ہوا ہے،حافظ سلمان بٹ رخصت ہوئے، اگلے روز ہمارے علاقے کی پہچان یعقوب میو اچانک ہارٹ اٹیک سے چل بسے، فروری کا آغاز ہوا تو ہمارے پیارے حج و عمرہ ٹریڈ کی ہر دلعزیز شخصیت اور حج آرگنائزر کی رجسٹرڈ نمائندہ تنظیم ہوپ کا فخر اور سرمایہ حاجی مقبول احمد ہمیں چھوڑ گئے، جانے والے کا کالم لکھنا رسم نہیں ہے،بلکہ ان کے ساتھ گزارے ہوئے قیمتی لمحات  کو تاریخ کے اوراق میں محفوظ کرنے اور ابدی نیند سونے والے کی حسین یادیں تازہ کرنا مقصود ہوتا ہے،ہمارے ہاں عموماً کہا جاتا ہے ہم اخلاقی قدریں تیزی سے کھو رہے ہیں،ہم زندوں کی قدر نہیں کرتے، مرنے والوں کی پوجا کرتے ہیں، مَیں اس فلسفہ پر یقین نہیں رکھتا، دُنیا کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے ہر ذی روح نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے اس کے لئے وقت مقرر نہیں ہے

اللہ جسے چاہے اپنے پاس بُلا لے البتہ بحیثیت مسلمان زندگی کا مقصد سامنے رکھنا ضروری ہے، ہمیں اس دُنیا میں بلاوجہ اور بغیر مقصد کے نہیں بھیجا گیا۔ قرآن عظیم الشان نے پیدائش سے موت تک کے سفر کی رہنمائی بتا کر اور نبی مہربان صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمل کر کے سکھا دی ہے۔تمہید میں بات دوسری طرف چلی گئی۔آج کا کالم حاجی مقبول احمد کے ساتھ وابستہ یادیں تازہ کرنے کے لئے تحریر کر رہا ہوں، بلا شبہ حاجی مقبول احمد ایک فرد نہیں، ایک تحریک تھے۔ 76 سالہ حاجی مقبول احمد عملی زندگی میں 25 سالہ نوجوان کی طرح سرگرم رہے، میرا ان سے 20سالہ تعلق،16سال سے بہت ہی قریبی تعلق آخری دم تک قائم رہا۔ ایسا جہاندیدہ شخص میری زندگی میں نہیں ملا، بگڑے ہوئے معاملات کو سنوارنے والا۔

اپنے رب کے حضور پیش ہونے سے تین دن پہلے ہماری جامع مسجد سید مودودی انسٹیٹیوٹ میں عصر کی نماز ادا کی اور نماز سے فارغ ہو کر پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مَیں نے انہیں گلے لگایا تو نمازیوں سے ملنا شروع ہو گئے،ہمارے محلے دار رانا افضل صاحب بڑے پُرتپاک انداز میں ملے تو رانا صاحب فرمانے لگے اشفاق صاحب حاجی مقبول احمد اور مَیں بچپن میں اکٹھے رہے ہیں رائیونڈ میں ہم اکٹھے پڑھتے رہے ہیں، ایک ایک نمازی سے ہاتھ ملایا اور میرا ہاتھ پکڑے ہی باہر جانے لگے،مَیں نے کہا گاڑی ہے کہ مَیں ڈراپ کر دوں، کہنے لگے گاڑی ہے، تم میری بات سنو  میرا چھوٹا سا اپریشن ہے،مَیں آپ کو فون کروں گا، بڑی باتیں کرنی ہیں یہی آخری ملاقات تھی، حالانکہ  پندرہ دن پہلے مَیں نے فون کیا تو بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے مجھے تمہارے گھر والوں کی وجہ سے ساری رپورٹ مل جاتی ہے۔حاجی مقبول احمد اِس لحاظ سے بھی بڑے خوش قسمت ہیں کہ انہیں اہلیہ انتہائی درویش اور دین دار ملی ہیں اور دونوں نے مل کر اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی تربیت بھی خوب کی ہے۔حاجی صاحب کی انفرادیت رہی ہے وہ عمرہ اور حج ٹریڈ کے معاملات کو ہی نہیں خوش اسلوبی سے نمٹاتے تھے، اپنے، فیملی کے معاملات بھی احسن انداز سے نمٹا کر اِس دُنیا سے سرخرو ہوئے ہیں، اپنے بڑے بیٹے فیاض کی بیماری سے پریشان رہتے تھے

ان کا کامیاب اپریشن ہوا مجھے مسجد میں فرمانے لگے، فیاض آپ کے گن گاتا ہے، مَیں نے کہا فیاض ہمارا زندہ دِل بھائی ہے آپ کی دُعاؤں سے ٹھیک ہو جائے گا اس لحاظ سے بھی خوش قسمت تھے، زندگی میں بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ انصاف کر گئے، دامادوں کو بھی بیٹوں کی طرح عزیز رکھتے۔ حاجی مقبول احمد ہمیشہ دُعا کرتے اللہ مجھے کسی کا محتاج نہ کرنا، پکے نمازی تھے اُنہیں لاہور سمیت رائیونڈ تک راستے کی تمام مساجد کا علم ہوتا تھا۔ فلاں مسجد میں نماز کتنے بجے ہوتی تھی یہ بات بھی دلچسپی والی ہے اپنی ایجوکیشن والی رہائش کے ساتھ والی مسجد بنانے میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے، مسجدوں سے محبت کرنے والے تھے۔ہمارے حج آرگنائزر کی نمائندہ تنظیم ہوپ پنجاب میں گزشتہ کچھ عرصے سے دھڑے بندی میں ہے۔ حاجی مقبول احمد صاحب خدمت گروپ کے چیئرمین تھے ان کے مدمقابل اتحاد گروپ اور پھر فاؤنڈر گروپ بنا، جس کے بانی شاہد رفیق صاحب ہیں۔مَیں نے بطور صحافتی کارکن ہمیشہ انصاف کی کوشش کی ہے تاریخ گواہ ہے ہوپ مرکزی سطح کی ہو یا کسی صوبے کی سوائے ایک یا  دو افراد کے کسی نے آج تک مجھے پریس ریلیز نہیں بھیجی کہ اسے شائع کر دیا جائے، کسی نے فوٹو نہیں دی، شائع کر دی جائے۔

مَیں حاجی مقبول احمد گروپ کا ہوں مَیں آج ان کا شک دور کرتا ہوں،مَیں خدمت گروپ کا نہیں حاجی مقبول احمد کا ضرور تھا کیونکہ حاجی مقبول احمد ٹریڈ کی پہچان اور حج آرگنائزر کی جان تھے۔ گزشتہ روز سابق چیئرمین ہوپ حاجی ثناء اللہ ساتھیوں سمیت لاہور آئے تو مَیں ان کے ساتھ حاجی مقبول احمد کی قبر پر رائیونڈ گیا۔قبرستان سے نکلتے ہوئے مجھے ثنا اللہ خان مسعود شنواری، پیر عاقل شاہ بتاتے ہیں حاجی مقبول احمد بڑا خوش قسمت تھا زندہ رہا تو حاجیوں میں رہا، اللہ کے پاس گیا تو مولانا وہاب اور مولانا عبدالرحمن جیسی شخصیات کا ہمسایہ بن کر جنت کا داعی بنا ہے حاجی صاحب جہاں دفن ہیں تبلیغی مرکز کے ساتھ ہے، سارے بزرگ وہی دفن ہیں۔ ثناء اللہ بھائی بتا رہے تھے ایک وقت ایسا آیا حاجی مقبول احمد صاحب مرکزی چیئرمین ہوپ تھے۔ وزارت سے مذاکرات ہو رہے تھے،وزارت والوں نے ہمیں کہا آپ لوگ ایک کمپنی دے دیں جس کو ہم کوٹہ دے دیں گے۔ حاجی مقبول احمد کے بیٹے کی کمپنی تھی، اس کے نمبر بھی پورے تھے۔حاجی صاحب نے فرمایا نہیں مَیں کوٹہ نہیں لوں گا، لوگ  ہمیشہ کہیں گے حاجی صاحب چیئرمین تھے انہوں نے کوٹہ لے لیا۔اس بات کا اعتراف تو ہمارے پنجاب کے چیئرمین رانا شاہد  بھی کرتے ہیں کہ وہ میرے بزرگ تھے بڑی شفقت کرتے تھے۔

رانا صاحب آپ صحیح فرماتے ہیں حاجی مقبول احمد ایک انجمن تھے، پھولوں کا گلدستہ سب کو ملا کر سجانے کی جدوجہد کرتے رہے، لیکن غلط فہمیاں اور جھوٹی اَنا نے ٹریڈ کو تباہ کر دیا۔ حرمین شریفین کے دروازے بند ہونے کے بعد بھی ہم عبرت لینے اور سربجود ہونے کے لئے تیار نہیں، آئیں حاجی مقبول احمد کی زندگی سے کچھ سبق لے لیں ایک دوسرے کو معاف کر کے ٹریڈ بچانے کے لئے متحد ہو جائیں۔یہ حاجی مقبول احمد کا خواب تھا جو ملک بھر کی بکھری ہوئی ہوپ دھڑے بندی کا شکار ٹریڈ ایک اور متحد ہو کر پورا کر سکتی ہے۔ ہم حاجی مقبول احمد کے لئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور ان کے لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دُعا کرتے ہیں اور حج اور عمرہ کے لئے ان کی تاریخ ساز خدمات اور ضیوف الرحمن سے محبت کا مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کرتے ہیں اور دُعا کرتے ہیں اللہ اُنہیں اس کے بدلے میں جنت میں اعلیٰ مقام دے گا۔ انشاء اللہ

مزید :

رائے -کالم -