قابل فخر پولیس کمانڈر

قابل فخر پولیس کمانڈر
قابل فخر پولیس کمانڈر

  

ایک اچھی روایت جس نے سبھی کو خوش گوار حیرت میں مبتلا کیا وہ یہ ہے کہ سی سی پی او لاہور نے تبدیل ہونے والے ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان کے اعزاز میں عصرانہ دیا اور انھیں لاہور پولیس نے ایک شاندار تقریب کے انعقاد کے بعد باعزت طور پر لاہورسے رخصت کیا ہے  اس تقریب کا مقصد ان کی کامیابی اور بطور آر پی او تعیناتی پر انھیں مبارک باد پیش کرنے کے علاوہ پیار اور محبت کی فضا پیدا کرنا بھی تھا، پولیس افسران نے اشفاق احمد خان سے اپنے پیار,محبت,خلوص کے ساتھ ساتھ پھولوں کے خوبصورت گلدستے بھی پیش کئے۔اشفاق احمد خان نے تمام معززپولیس افسران کا محبت بھری تقریب میں پرتپاک انداز میں شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس پروقار تقریب کے انتظامات کو احسن طریقہ سے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اشفاق احمد خان نے انتہائی مشکل وقت میں جب کوئی بھی سابق سی سی پی او کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہ تھا اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے سرانجام دیا،یہ ہی نہیں لاہور پولیس کے سربراہ نے نئے آنیوالے ڈی آئی جی ساجد کیانی کا بھی والہانہ انداز میں استقبال کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں بھی پر تپاک استقبالیہ دیا ہے جس میں لاہور کے میڈیاکو بھی مدعو کیا گیا تھا ۔ اس پر کیا تبصرہ کیا جائے کہ یہ یقین ہی نہیں آتا کہ غلام محمود ڈوگر  پولیس والے ہیں اور اہم بات اس لیے یقین کرنا پڑے گاکہ غلام محمود ڈوگر پولیس والے ہیں،انھوں نے ایک چیلنج جنگ جیتی جو بلاشبہ ان کی صلاحیتوں کی عکاس اور پنجاب پولیس کی بہادر پولیس فورس کی جیت ہے۔

افسران کے تبدیل ہونے پر چھوٹی موٹی تقریبات اور فوٹو سیشن تو معمول کی کارروائی ہے تاہم انہوں نے ایسی روایت کو جنم دیا ہے  جسے کم از کم پولیس کبھی بھولے گی نہیں۔مجھے تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کا شوق رہا ہے۔وہ تصویر والا واقعہ یادآگیا کہ ایک مصور نے تصویر بنائی اور لکھا کہ اس میں کوئی خامی ہو تو بتائیں تو ساری تصویر خامیوں سے بھر گئی اور جب اس نے نئی تصویر پر یہ لکھا کہ بتائیے اس تصویر کی خامی کس طرح دور کی جائے تو پھر کسی نے کچھ نہ کہا، چنانچہ ہمارے یہاں بھی کہنا تو بظاہر آسان ہے کہ ہر حکومت، ہر ادارہ، ہر انفرادی شخص اور شخصیت خامیوں سے بھری پڑی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ میرے سمیت ہم بہت سے لکھنے والوں کے پاس نیا کچھ کرنے کی تجویز کم ہی ہوتی ہے،اگر یہ کہاجائے پنجاب پولیس ملک کی ایک بہترین فورس بن گئی ہے توبے جا نہ ہوگا،درحقیقت  انسپکٹر جنرل پولیس کے چارج لینے کے بعدمتعدد ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن سے پولیس فورس کی کارکردگی میں نکھار پیدا ہو رہا ہے ؎،انعام غنی ہی نہیں ان کے بھائی احسان غنی  بھی قابل فخر پولیس افسر تھے انھوں نے بھی اپنے تئیں اس فورس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔اس میں کو ئی شک نہیں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی بھلے مانس انسان ہیں، سنتے سب کی ہیں مگر کرتے اپنی ہیں لیکن انھوں نے ہمیشہ توجہ سے سنا۔شاید یہی وجہ ہے کہ بہت عرصے کے بعد اصلاحات کے حوالے سے پولیس کا ذکر آج کل زیادہ ہے۔

بالکل اسی طرح آئی جی پولیس کی کاپی  ”سربراہ  لاہور پولیس“بھلے مانس انسان ہیں سنتے سب کوتوجہ سے اور کرتے اپنی مرضی ہیں۔انسپکٹر جنرل کی ہدایت پر لاہور پولیس کے سربراہ نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے پولیسنگ بہتر کرنے کے لیے جو اقدامات اٹھانے چاہیے تھے وہ ضرور اٹھائے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب پنجاب پولیس کے دیگر اضلاع کے کرتا دھرتا بھی وہی کرنا چاہتے ہیں جولاہور کی پولیس نے کیے ہیں۔ نئے تعینات ہونیوالے ڈی آئی جی آپریشن ساجد کیانی نے اپنی تعارفی میٹنگ کے دوران لاہور پولیس کے سربراہ کے پروفیشنل ہونے اور تعاون کی یقین دھانی  پر بار بارشکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انھیں ایک اچھے اور انسان دوست کمانڈر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے وہ یہاں کے باسیوں اور میڈیا کو ہرگز مایوس نہیں کریں گے۔ دو باتیں یاد رکھنے کی ہیں کہ ابھی پنجاب پولیس کے وہ افسر زندہ ہیں جن کے نام سے جرائم پیشہ لوگ کانپتے ہیں اور ان پر بلاشبہ فخر کیا جا سکتا ہے، دوسری بات یہ کہ جس پولیس فورس کا قائد غلام محمود ڈوگر اور انعام غنی جیسا ہو تو فورس ہی نہیں ملک اور قوم بھی ترقی کرتی ہے۔ یہ ہی وزیر اعظم پاکستان کا ویژن بھی ہے 

مزید :

رائے -کالم -