بھارتی جبرو تشدد پر عالمی برادری کی خاموشی مجرمانہ غفلت ہے: رفیق تارڑ

بھارتی جبرو تشدد پر عالمی برادری کی خاموشی مجرمانہ غفلت ہے: رفیق تارڑ

  

 لاہور (لیڈی رپورٹر) بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، وہ تادیر کشمیری عوام کو غلام نہیں بنائے رکھ سکتا،ہم نے خواہ مخواہ اپنے اوپر قدغن لگائی ہوئی ہے کہ مظلوم کشمیری عوام کی محض سفارتی‘ اخلاقی اور سیاسی مدد کریں گے،وقت آگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو اسی طرح ہر قسم کی امداد فراہم کی جائے جس طرح ہم نے افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے دوران افغان عوام کو مہیا کی تھی، تحریک آزادیئ کشمیر در حقیقت تحریک تکمیل پاکستان ہے کیوں کہ کشمیر کے الحاق کے بغیر پاکستان ادھورا ہے، مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر و تشدد پر عالمی برادری کی مصلحتوں بھری خاموشی مجرمانہ غفلت ہے، ہندوتوا کے نظریے میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے،مودی سرکار نے بھارت میں نہرو کا سیکولرازم کا نظریہ دفن کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے یوم یکجہتیئ کشمیر کے موقع پر ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محمد رفیق تارڑ نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے جس کا ہر قیمت پر پاکستان کے ساتھ الحاق ناگزیر ہے۔ بھارت نے ظلم و ستم کا ہر ہتھکنڈا آزما کر دیکھ لیا ہے مگر وہ کشمیری عوام کے جذبہئ حریت کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا یومِ یکجہتی کشمیر ایک بین الاقوامی دن ہے۔ اس دن کو اقوام متحدہ نے نہیں بلکہ آزاد کشمیر‘ پاکستان اور دنیا بھر میں آباد کشمیر یو ں اور پاکستانیوں نے ایک بین الاقوامی دن بنا دیا ہے۔ کشمیری تنہا نہیں ہیں بلکہ آج سو سے زیادہ ممالک میں عوام مظاہروں اور مذاکروں کے ذریعے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد کو تیز تر کرتے رہیں گے۔ چیف جسٹس (ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ 5 فروری کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور اس عزم کے اظہار کا دن ہے کہ جب تک مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزاد نہیں کرا لیتے‘ تب تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ سینیٹر مشاہد حسین سیّد نے آن لائن خطاب میں کہا کہ اس بار بھارت کا نام نہاد یومِ جمہوریہ حقیقتاً یوم سیاہ میں تبدیل ہوگیا۔بھارتی حکومت کی زرعی پالیسیوں پر احتجاجی دھرنا دینے والے سکھوں نے اس یومِ جمہوریہ پر ٹریکٹر مارچ کیا اور اس دوران دہلی کے لال قلعہ پر اپنا جھنڈا ”نشان صاحب“ لہرا دیا۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ گزشتہ 70 سال میں کشمیری عوام نے بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کے دوران جس نوعیت کی قربانیاں دی ہیں‘ ان سے پوری دنیا پر یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ کشمیری عوام کسی طور بھارت کے ساتھ نہیں ہیں۔کچھ لوگ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین میں مماثلت تلاش کرتے ہیں مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔  ممتاز دانشور اور روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں کشمیری اور پاکستانی بستے ہیں‘ انہیں چاہیے کہ اکٹھے ہو کر لوگوں کو تحریک آزادیئ کشمیر کے بارے آگاہ کریں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو بہت بڑی اوپن ائیر جیل بنا دیا ہے جہاں کشمیری مسلمانوں کو ان کے گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے‘ ان کی عزت نفس مجروح کی جا رہی ہے اور شدید جسمانی و ذہنی اذیتوں سے دوچار کیا جا رہا ہے۔تقریب سے بیگم مہناز رفیع، مولانا محمد شفیع جوش، بریگیڈئر (ر) لیاقت علی طور،فاروق خان آزاد شاہد رشید اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

رفیق تارڑ

مزید :

صفحہ آخر -