ڈیلی میل کیخلاف کیس، لندن کی عدالت نے شہباز شریف کے حق میں فیصلہ دیدیا، الزام لگانے والے شرم سے ڈوب مریں، (ن) لیگ اپوزیشن لیڈر بھی کیس نہیں جیتے: شہزاد اکبر 

  ڈیلی میل کیخلاف کیس، لندن کی عدالت نے شہباز شریف کے حق میں فیصلہ دیدیا، ...

  

  لندن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  لندن کی عدالت نے  ڈیلی میل کیخلاف شہباز شریف  کے ہتک عزت  کے کیس میں شہباز شریف کے حق میں فیصلہ سْنا دیا۔جسٹس میتھیو نکلین نے قرار دیا کہ اخبار کے مضمون میں لکھے گئے الفاظ شہباز شریف کی ہتک کا باعث تھے۔لندن میں شہبازشریف کے ڈیوڈ روز اور برطانوی اخبار ڈیلی میل پر ہتک عزت کے دعوے کی سماعت شروع ہوئی۔جسٹس میتھیو نکلین نے ابتدائی سماعت کے بعد فیصلہ سنا دیا اور کہا کہ اخبار کے مضمون میں لکھے گئے الفاظ شہباز شریف کی ہتک عزت کا باعث تھے۔جسٹس نکلین نے کہا کہ مضمون میں کہا گیا منی لانڈرنگ ہوئی ہے، مضمون میں کہا گیا کہ متاثرین میں برطانوی ٹیکس دہندگان بھی شامل ہیں،مضمون میں کہا گیا کہ شہبازشریف اورعلی عمران کرپشن سے مستفید ہوئے شہبازشریف منی لانڈرنگ سے بھی مستفید ہوئے، مضمون میں شہبازشریف کو یوکے ڈیفڈ کا پوسٹربوائے کہا گیا۔جسٹس نکلین نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف پاکستان میں ہونے والی کارروائی کے بارے میں جان بوجھ کرکچھ نہیں پڑھا۔ بی بی سی کے مطابق  جسٹس میتھیو نکلین نے ابتدائی سماعت کے بعد فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ اخبار کے مضمون میں لکھے گئے الفاظ شہباز شریف کی ہتک عزت کا باعث تھے۔ ان کے مطابق اب ڈیلی میل کو شہباز شریف کی طرف سے اٹھائے گئے تمام 13 اعتراضات پر عدالت میں تفصیلی جواب جمع کرانا ہو گا۔یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے لندن کے اخبار 'ڈیلی میل' میں اپنے خلاف چھپنے والی خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اخبار اور صحافی ڈیوڈ روز کے خلاف لندن کی ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ڈیلی میل کے وکلاء نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف کرپشن اور  منی لانڈرنگ کے الزامات بہت محدود اور مفروضوں پر مبنی تھے، شہبازشریف لاہور میں محل جیسے گھرمیں رہتے ہیں۔میل کے وکلا نے تسلیم کیا کہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کا کوئی الزام نہیں۔  میل کے وکلا نے مشیر احتساب شہزاد اکبر کے بیان کا حوالہ بھی دیا کہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغازہوچکا ہے، شہزاد اکبر کے مطابق فنڈزسے غبن کی گئی رقم برآمد بھی کی گئی ہے، غبن کے پیچھے کون ہے، پاکستان میں تفتیش اگلے مرحلے میں پہنچ چکی ہے،ہماری معلومات محدود ہیں۔اس موقع پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ اخبار کا مضمون شواہد کے بجائے مکمل طور پربے بنیاد الزامات پرمشتمل تھا، مضمون میں شہباز شریف کی توہین کی گئی ہے، مضمون میں پہلے شہبازشریف اوربرطانوی حکومت کے رابطوں کی مثال دی گئی پھرکرپشن کے الزامات لگائے گئے۔شہباز شریف کے وکلا کا کہنا تھا کہ ڈیلی میل کا مضمون جھوٹ پر مبنی تھا، شہباز شریف نے ایک روپے کی بھی کرپشن نہیں کی۔ڈیلی میل کے وکلا نے کہا کہ ڈیلی میل نے شہباز شریف پر  منی لانڈرنگ کا براہ راست الزام نہیں لگایا، شہباز شریف پر تفصیلی شواہد کافی حد تک مفروضوں پر مبنی تھے لیکن ان کی بنیاد ان کا پرتعیش گھرہے۔سائمن شیرون کیو سی نے کہا کہ عمران علی یوسف نے کوئی کرپشن نہیں کی، ڈیلی میل نے بے بنیاد الزامات لگائے، عمران علی پر  یہ الزامات، شہباز شریف کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے لگائے گئے۔

لندن عدالت

 لاہور(نیوز ایجنسیاں)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب  نے ڈیلی میل ہتک عزت کیس کا فیصلہ آنے کے بعد شہبازشریف کی رہائی کا مطالبہ کر دیا، لندن کی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ  لندن کی عدالت کا فیصلہ شہبازشریف کی بے گناہی اور عمران صاحب کے مصدقہ جھوٹے ہونے کی بین گواہی ہے، شہبازشریف کی ایمانداری پرکیچڑ اچھالنے والوں کے سیاہ چہروں کی کالک میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ لندن کی عدالت سے شہبازشریف کی سچائی کی گواہی آئی لندن عدالت کے فیصلے کے بعد کچھ بھی شرم ہوتو عمران صاحب اور کرائے کے ترجمان معافی مانگیں، مریم اورنگزیب نے کہا کہ لندن عدالت نے کہا کہ برطانوی قانون کے مطابق شدید ترین درجے میں شہبازشریف کو بدنام کیاگیا برطانوی جج نکلین نے قرار دیا کہ شہبازشریف کے خلاف برطانوی ہتک عزت کے قانون کے اول درجے کا جھوٹ بولاگیا،برطانوی جج نکلین نے قرار دیا کہ شہبازشریف کے خلاف ڈیلی میل نے سراسر جھوٹ اور مفروضے پر مبنی خبر شائع کی، کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی عمران صاحب اپنے سیاسی انتقام، حسد اور جھوٹ کی آگ سے پاکستان کی جو ہتک آپ نے کرائی اس کا ازالہ کون کرے گا؟جھوٹے کاغذ لہرانے والوں میں ذرا سی بھی شرم ہوتو برطانوی عدالت کے فیصلے کے بعد چلو بھر پانی میں ڈوب مریں،شہزاد اکبر نے جو کاغذلہرائے تھے وہ لندن کی عدالت میں کیوں پیش نہیں کئے؟ثابت ہوا کہ جن کی اپنی کوئی عزت نہیں، ان کا کام صرف شرفاکی عزت اور پگڑیاں اچھالنا ہے، برطانوی عدالت کے فیصلے سے براڈ شیٹ کے کمیشن خور شہزاد اکبر کے چہرے پر جھوٹ کی سیاہی میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران صاحب نے یہ جھوٹا انٹرویو خود کرایا تھا، عمران صاحب آپ کے ہر جھوٹ کا انجام انشاء اللہ ایسا ہی نکلے گا،  عدل اور انصاف جب بھی ہوا، مسلم لیگ (ن)کی قیادت سرخروہوئی، انہیں جیل بھجوانے والے خود جیل گئے انشاء اللہ جب بھی عدل اور انصاف ہوگا، مسلم لیگ (ن)کی قیادت پھر سرخرو اور ان پر جھوٹ بہتان باندھنے والے جیل میں ہوں گے، مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ  شہبازشریف کے دس ارب کے ہتک عزت کے مقدمے میں پانچ سال سے عمران صاحب مفرور ہیں،پاکستان میں اس ہتک عزت کے مقدمے میں بھی انشااللہ عمران صاحب کا جھوٹ بے نقاب ہوکر رہے گا۔’عدالتی فیصلے پر اپنے رد عمل میں مریم نواز نے کہا کہ مجھے لگتا ہے برطانوی جج صاحبان نہ گاڈ فادر فلم دیکھتے ہیں نہ ہی ناول پڑھتے اور نہ ہی واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔ کیسے جج ہیں یہ؟ لندن کورٹ کا فیصلہ ثبوت ہے کہ جب عدالت ثاقب نثار کی نہیں بلکہ آزاد عدالت ہو گی تو عمران خان اور حواریوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔‘یہ ٹویٹ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے شہباز شریف بمقابلہ ڈیلی میل ہتک عزت کیس میں لندن کی عدالت کے ابتدائی فیصلے کے بعد کیا۔ ابتدائی سماعت کے بعد لندن کی عدالت کے جج جسٹس میتھیو نکلین نے کہا ہے کہ اخبار کے مضمون میں لکھے گئے الفاظ شہباز شریف کی ہتک کا باعث تھے۔مریم نواز نے لندن ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنے ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ’نواز شریف اور شہباز شریف نے ایمانداری اور دیانت داری سے ملک و قوم کی خدمت کی ہے اسی لیے ان پر بہتان لگانے اور دھونس دھاندلی اور سازش سے ان کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے والوں کو ہر روز دھول چاٹنا پڑ رہی ہے۔ شرم ہے تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔‘دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ لندن کی عدالت میں جمعہ کی سماعت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ شہباز شریف ڈیلی میل کے خلاف اپنا کیس جیت گئے۔ اپنے ایک بیان میں شہزاد اکبر نے کہا کہ  مریم اورنگزیب کو پتا کرلینا چاہیے تھاکہ آج سماعت کس چیز کی تھی۔انہوں نے کہا کہ  شہباز شریف کی رہائی کا مطالبہ بھونڈے مذاق سے کم نہیں۔ 

مریم اورنگزیب

مزید :

صفحہ اول -