بھارت یو این مبصرین، انسانی حقوق تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر جانے دے: شاہ محمود قریشی 

  بھارت یو این مبصرین، انسانی حقوق تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر جانے دے: شاہ ...

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کے صدر اور سیکرٹری جنرل کو کشمیر کی صورتحال پر خطوط ارسال کر دئیے۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق خطوط میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور وادی کی کشیدہ صورتحال کا ذکر کیا گیا ہے، اور وزیر خارجہ نے اپنے خطوط میں بھارت کی طرف سے پاکستان مخالف اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ ترجمان کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں جعلی انتخابات کے ذریعے آبادیاتی تناسب بدلنا چاہتا ہے۔خطوط میں وزیر خارجہ نے پاکستان کے خلاف بھارتی ریاستی دہشتگردی پر مبنی ڈوزیئر کا بھی ذکر کیا، اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے اور ای یو ڈس انفولیب کے حوالے سے آگاہ کیا۔ اور اپنے خط میں دسمبر 2020 میں اقوام متحدہ کی گاڑی پر بھارتی فائرنگ اور علاقائی سلامتی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ دفترخارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے اپنے خطوط میں سیکیورٹی کونسل کے سامنے 7 مطالبات رکھ دئیے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ بھارت فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی محاصرہ اور یکطرفہ اقدامات ختم کرے، عوامی اجتماعات اور مواصلاتی نظام پر پابندیاں ختم کی جائیں، کشمیری قیادت کو فوری رہا کیا جائے، غیر قانونی طور پر گرفتار تمام کشمیریوں کو رہا کیا جائے، نئے ڈومیسائل قانون کو ختم کیا جائے، جعلی چھاپوں میں ماورائے عدالت قتل جیسے کالے قوانین کا خاتمہ کیا جائے،اقوام متحدہ مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دی جائے۔دریں اثناوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا  ہے کہ ہماری منزل اور سوچ ایک ہے، کشمیریوں کے جذبے کو سلام پیش کرنے باہر نکلے ہیں، کشمیری تنہانہیں ،منزل کے حصول تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، ادارے اور مکاتب مسئلہ کشمیر پر ایک سوچ رکھتے ہیں،کامیابی کشمیریوں کا مقدر بنے گی۔    کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ  کشمیری 18 ماہ سے لاک ڈاون اور آرمی حصار میں مبتلا ہیں، بھارت میں اتنا حوصلہ نہیں کہ کشمیریوں کو مسجد میں جانے دیں، بھارت کو خطرہ ہے کہ جہاں چند لوگ ہوں گے ان کی پالیسوں کے خلاف بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے تصور کی نفی ہو گئی کہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں، کشمیریوں کے جذبے کو سلام پیش کرنے باہر نکلے ہیں، کشمیری تہنا نہیں ہیں بلکہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، ادارے اور مکاتب مسئلہ کشمیر پر ایک سوچ رکھتے ہیں، ہماری منزل اور سوچ ایک ہے اور منزل کے حصول تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے، کامیابی کشمیریوں کا مقدر بنے گی۔ ان کا کہنا تھا انٹرنیشنل میڈیا کو دعوت دیتا ہوں کہ آزاد کشمیر آئیں، بھارت بھی انٹرنیشنل میڈیا کو مقبوضہ وادی، سری نگر جانے کی اجازت دے، سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت ایل اوسی پر آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے، کشمیری حریت رہنماوں کو بھارت نے جیلوں میں رکھا ہوا ہے،کیا بھارت انٹرنیشنل میڈیا کو ان رہنماوں سے ملاقات کی اجازت دیگا۔ 

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -