اقتدار، سنبھالا تو 25ہزار ارب روپے کا قرض، خزانے میں 2ارب ڈالر تھے: حفیظ شیخ

      اقتدار، سنبھالا تو 25ہزار ارب روپے کا قرض، خزانے میں 2ارب ڈالر تھے: حفیظ ...

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ 60 کی دہائی اور مشرف کے دور میں ترقی پائیدار ثابت نہیں ہوئی، آئی پی پیز کے نئے معاہدے سے 800 ارب روپے کا فائدہ ہوگا، 450ارب روپے ماضی کے بلوں کے مد میں دینے جارہے ہیں۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ 60کی دہائی میں ملکی کی مجموعی آمدنی میں اضافہ ہوا۔ عوام کی فلاح کیلئے 192ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے۔ سبسیڈیز کا حجم ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے۔ احساس پروگرام کی رقم ہر تیسرے مہینے 70 لاکھ لوگوں کو دی جائیگی۔ سابقہ فاٹا کے علاقوں کیلئے 152ارب روپے رکھے گئے ہیں ڈالرز کمائے بغیر خوشحال نہیں ہوسکتے۔ پچھلی حکومت نے جان بوجھ کر ڈالر کوسستا رکھا جوتباہ کن ثابت ہوا۔ سستے ڈالر کے باعث درآمدات میں اضافہ ہوا 35، 40ارب ڈالر کے خسارے کے باعث بحران پیدا ہوا جب حکومت سنبھالی تو ملکی خزانے میں 2ارب ڈالر تھے ہم پاکستان کی برآمدات کو بڑھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ماضی کی پالیسز کو صحیح کرنے کے باعث ہوا۔ شکر 5 سے 8لاکھ ٹن باہر سے درآمد کی جارہی ہے۔ چائے کی پتی، دالیں، کھانے کا تیل، پیٹرول، ڈیزل درآمد ہورہے ہیں۔ زرعی پیداوار بڑھانے پر حکومتوں نے توجہ نہیں دی، گندم کی کھپت 29ملین ٹن ہے جبکہ پیداوار 27ملین ٹن ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرا، آرمی سمیت سب کے اخراجات کو کم یا منجمد کیا۔ حکومت سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے رہی۔ 72فیصد بجلی اور 92فیصد گیس کے استعمال پر حکومت سبسڈی دے رہی ہے۔کورونا کے دوران 50 ارب روپے سے چھوٹے کاروباری طبقے کے 3مہینوں کے بجلی کے بل ادا کیے گئے۔ ایک سال سے بجلی کے بل نہیں بڑھائے گئے تھے۔ عالمی منڈی میں تیل کم ہوا تو ہم نے بھی پیٹرولیم مصنوعات سستی کی،درآمدی گندم پر 100ارب سے زیادہ حکومت نے ادا کئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پر الزام لگتا ہے کہ اس نے قرض زیادہ لیا جب حکومت سنبھالی تو مجموعی قرض 25ہزار ارب روپے تھا، ہماری حکومت نے 12ہزار ارب روپے کا قرض لیا، 12ہزار میں سے 6 ہزار ارب روپے ماضی کے سود میں ادا کئے۔ قرض میں 3ہزار ارب روپے کا اضافہ ڈالر مہنگا ہونے کے باعث ہوا۔ 1ہزار ارب روپے حکومت نے اپنے پاس رکھے۔کورونا کا اثر ڈیڑھ ہزار ارب روپے کا ہوا کورونا کے باعث 8 سو ارب روپے کے ٹیکس کم ہوئے۔ کورونا میں 700 ارب روپے کا پیکج دیا گیا حکومت نے اڑھائی سال میں صرف 1ہزار ارب روپے کا قرض لیا۔ ماضی میں توانائی معاہدے ڈالر میں کئے گئے۔ 53آئی پی پیز کے ساتھ نیا معاہدہ ہونے جارہا ہے۔ آئی پی پیز کے نئے معاہدے کو 10دنوں میں کابینہ سے اجازت مل جائیگی۔پرانی ٹیکنالوجی کے آئی پی پیز پلانٹ کو بند کیا جارہا ہے کچھ ڈسٹری بیوشن کمپنیز میں کلیکشن کا مسئلہ رہا ہے ڈسڑی بیوشن کے کلیکشن کا کام نجی شعبے کو دیا جارہا ہے۔ماضی کے معاہدوں کے تحت بجلی خریدیں نہ خریدیں ادائیگی کرنی ہے۔ 2013میں فکس پے منٹ 185ارب روپے تھی 2018میں فکس پے منٹ 468ارب روپے ہوگئی۔ 2023میں آئی پی پیز کو فکس پے منٹ ڈیڑھ ہزار ارب پر پہنچ جائیگی۔ حکومت ہر کسی کو سبسڈی نہیں دے سکتی۔ کے الیکڑک کا بڑے عالمی ادارے سے معاہدہ ہوا ہے اس معاہدے میں مشکلات کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقتصادی بحران کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ عوام کو مراعات دینے کے فیصلے کو آئی ایم ایف نے مانا، کنسٹرکشن پیکج پر 90فیصد ٹیکس چھوٹ دی گئی۔ کورونا کے باعث ترقی کی شرح منفی عشاریہ 50فیصد تھی، ترکی، ایران، سعودی عرب کی معیشت 5 سے 6فیصد کم ہوئی۔بھارتی معیشت 8 سے 11 فیصد گری۔جلد آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ شروع ہو گا،آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ٹیکسوں میں چھوٹ کو ختم یا کم کریں اور سٹیٹ بینک اور نیپرا کے قوانین اسمبلی سے پاس کروائیں، آئی ایم ایف کے ساتھ مکمل افہام و تفہیم ہوچکی ہے۔ برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ ٹیکسٹائل 8فیصد، ہوم ٹیکسٹائل 16فیصد، ریڈی میڈ گارمنٹس 25 فیصد اضافہ ہوا۔ ادویات کی برآمدات 25 فیصد کیمیکل کی 14 فیصد بڑھی ہیں۔ پروسیز فوڈ کی برآمدات 125فیصد بڑھی ہیں۔ برآمدات بڑھنے کے باعث زرمبادلہ زخائر بہتر ہوئے ترسیلات کو قانونی چینل سے لانے کے اقدامات لیئے گئے ترسیلات ریکارڈ سطح پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو کرنٹ اکاونٹ 20ارب ڈالر منفی تھا کرنٹ اکاونٹ کو مثبت کیا گیا 6مہینوں سے کرنٹ اکاونٹ مثبت ہے ماضی کے سود سے بھاگا نہیں جاسکتا۔ ایرانی پیٹرول کو روکنے کیلئے بڑے فیصلے کئے گئے۔ 7مہینوں میں محصولات ہدف سے زیادہ وصول کیے۔

حفیظ شیخ

مزید :

صفحہ اول -