عالمی برادری جواب دے 7دہائیوں سے مسئلہ کشمیر حل کیوں نہیں ہوا،جام کمال

  عالمی برادری جواب دے 7دہائیوں سے مسئلہ کشمیر حل کیوں نہیں ہوا،جام کمال

  

کوئٹہ(بیورورپورٹ،نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے دنیا میں انتہا پسند انہ نظریے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، نریندر مودی اور بی جے پی نے بھارت میں کھل کر انتہا پسندانہ ذہنیت کی عکاسی کی ہے اور وہ اس نظریے کو خطے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، بلوچستان اور پاکستان کے عوام اسوقت تک کشمیر کی جدوجہد میں اہل کشمیرکا ساتھ دیں گے جب تک بغیر ویزے کے سرینگر میں چائے پینے نہیں جاتے،دنیا کو سوچنا ہوگا آیا انہوں نے انتہاپسندانہ سوچ و فکر کیساتھ تعلقا ت استوار کرنا ہیں یا مظلوم کا ساتھ دینا ہے، یہ با ت انہوں نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار پر یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی بھی کیا گیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا یوم یکجہتی کشمیر کو ہر سال منانے کا مقصد اس دن خصوصی طور پر کشمیر کے حوالے سے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرنا ہے۔ ہم دنیا کو باربار یہ باور کروانا چاہتے ہیں اگر ایک ملک کی معیشت بہتر ہے اسکا جی ڈی پی اچھا ہے، سماجی و اقتصادی صورتحال اور وہ ملک اچھی مارکیٹ ہے اسکا مطلب یہ نہیں اسکے مظالم کو نظر انداز کردیا جائے،آج مغربی دنیا میں ہٹلر کو اسکے مظالم کی وجہ سے برا سمجھا جاتاہے لیکن بھارت کیساتھ وہی مغربی دنیا سماجی و اقتصادی روابط استوار کر رہی ہے، آج پاکستانی عوام دنیا سے سوال کر رہے ہیں ہے کشمیر کے معاملے میں انکے معیار میں تضاد کیوں ہے؟ دنیا 70سال سے ایک اہم ترین پہلو کو نظر انداز کر رہی ہے، اگر عالمی دنیا کی یہی پالیسی ہے تو وہ واضح الفاظ میں بتائیں تاکہ خطے کے لوگ اپنی جدوجہد کو آپ اپنائیں اور یہ نہ ہو کہ کشمیر کی صورتحال اگر کسی اور ملک پر آئے تو اسکے لئے آوا ز بلند ہو لیکن کشمیر کے معاملے پر خاموشی اختیار کی جائے، ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی میں زیادہ فرق نہیں، دونوں نے غیر آئینی اقدامات اٹھائے، ٹرمپ کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، مودی اور بی جے پی کا منشور ہے کہ وہ اپنی ذہنیت کو خطے اور بھارت میں جمانا چاہتے ہیں،مسلمانوں میں بھی انتہا پسندنظریے کے لوگ ہیں لیکن ہم نے ہمیشہ ان سے لا تعلقی کا اظہار کیا مگر مودی نے اپنے نظریے کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا قوم پر مسلط کردیا ہے، جو آج ابھر آیا ہے۔ آج کے دن ہم پیغام دیتے ہیں قوم، صوبے اور ملک کی حیثیت سے ہم کشمیری عوام کی جدو جہد میں انکے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ تقریب سے صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم کھوسہ،پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند،پارلیمانی سیکرٹری دنیش کمار، وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر بلال خان کاکڑ اور دیگر نے بھی خطاب کیا اورکہا پاکستانی قوم فخر محسوس کرتی ہے کہ انہوں نے کبھی کشمیریوں کا ساتھ نہیں چھوڑا ہم کشمیرکی آزادی کیلئے آخری حد تک جانے کیلئے تیار ہیں۔

جام کمال 

مزید :

صفحہ اول -