صور پھونکنے کے بعد کون سی آٹھ چیزیں باقی رہیں گی؟ روحوں کو صور میں کیوں رکھا جائے گا؟ صور اسرافیل میں کتنے سوراخ ہونگے؟

صور پھونکنے کے بعد کون سی آٹھ چیزیں باقی رہیں گی؟ روحوں کو صور میں کیوں رکھا ...
صور پھونکنے کے بعد کون سی آٹھ چیزیں باقی رہیں گی؟ روحوں کو صور میں کیوں رکھا جائے گا؟ صور اسرافیل میں کتنے سوراخ ہونگے؟
سورس: Screen Grab

  

 حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے اور حضرت عزرائیل علیہ السلام یعنی ملک الموت لوگوں کی روحیں قبض کریں گے، اس دوران شیطان کی روح بھی قبض کی جائے گی اور اسے اتنی تکلیف پہنچائی جائے گی جتنی دنیا کے تمام انسانوں کو موت کے وقت ہوئی ہوگی۔ چھے ماہ تک صور پھونکے جانے کے بعد دنیا کی ہر چیز ریزہ ریزہ ہوجائے گی، آسمان اور ستاروں کا نشان مٹ جائے گا، تمام انسان ہلاک ہوجائیں گے، فرشتے بھی مر جائیں گے تو اس وقت صرف آٹھ چیزیں باقی رہیں گی۔

ان آٹھ چیزوں میں پہلی اللہ تعالیٰ کا عرش، دوسری اللہ کی کرسی، تیسری لوح، چوتھی قلم، پانچویں جنت، چھٹی دوزخ، ساتویں صور اور آٹھویں چیز جو باقی بچے گی وہ روحیں ہوں گی لیکن روحوں کو بھی بے خودی ضرور ہوگی۔ شاہ رفیع الدین محدث دہلوی کے مطابق بعض علما و محدثین کے نزدیک یہ آٹھوں چیزیں بھی کچھ دیر کیلئے معدوم ہوجائیں گی اور صرف اللہ کی ذات باقی رہے گی۔

اس وقت جب اللہ کی ذات کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کہاں ہیں حکومتوں کے دعوے دار اور بادشاہ، کس کیلئے آج کی سلطنت ہے، پھر اللہ تعالیٰ خود ہی ارشاد فرمائے گا کہ تمام سلطنت خدائے واحد و قہار کیلئے ہے۔ 

اس کے بعد ایک وقت تک صرف اللہ کی ذات ہی موجود رہے گی، اس کے بعد ایک مدت کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی تمام چیزوں کو دوبارہ پیدا کرے گا، اس دوران کتنا عرصہ ہوگا یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

زمین اس وقت ایسی ہوگی کہ اس میں عمارتوں ، درختوں ، پہاڑوں  اور سمندروں وغیرہ کا نشان تک نہیں ہوگا، اس کے بعد جس جس مقام پر سے لوگوں کو اللہ چاہے گا وہیں سے ان کو زندہ کرے گا، انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے ان کی ریڑھ کی ہڈیوں کو زندہ کیا جائے گا اور پھر ان کے جسموں کے باقی اعضا کو اس سے جوڑ دیا جائے گا۔

جب تمام جسم تیار ہوجائیں گے تو سب روحوں کو صور میں رکھا جائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک بار پھر حضرت اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا کہ صور کو پوری طاقت کے ساتھ پھونکو، اس وقت اللہ ارشاد فرمائے گا، 

قسم ہے میری عزت و جلال کی ، کوئی روح بھی اپنے ڈھانچے کے علاوہ کہیں نہ جائے، اللہ کا یہ حکم سن کر تمام روحیں اس طرح اپنے اپنے جسموں میں چلی جائیں گی جس طرح پرندے اپنے گھونسلوں میں چلے جاتے ہیں۔

یہاں یہ واضح رہے کہ صور اسرافیل میں روحوں کی تعداد کے مطابق سوراخ ہیں، جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو تمام روحیں پرندوں کی طرح نکل کر اپنے جسمانی ڈھانچوں میں داخل ہوجائیں گی اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ان کا تعلق جسموں کے ساتھ قائم ہوجائے گا اور سب کے سب زندہ ہوجائیں گے۔ اس کے بعد پھر صور پھونکا جائے گا جس کی وجہ سے زمین پھٹ جائے گی اور لوگوں کو باہر نکال دے گی۔ لوگ گرتے پڑے صور کی آواز کی طرف دوڑیں گے ، یہ صور بیت المقدس کے اس مقام پر پھونکا جائے گا جہاں صخرہ کا پتھر ہوا میں معلق ہے، جسموں میں روحوں کی آمد اور دوسرے صور کے پھونکے جانے میں 40 سال کا عرصہ گزر جائے گا۔ قبروں سے جب لوگ دوبارہ زندہ ہوں گے تو وہ اسی شکل میں پیدا ہوں گے جس طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے، یعنی ان کے بدن ننگے ہوں گے، ان کا ختنہ نہیں ہوگا اور داڑھی بھی نہیں ہوگی، ارشاد خداوندی ہے

جیسا کہ ہم نے اس خلقت کو اول مرتبہ پیدا کیا ہے اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے۔

جب انسان زندہ ہوں گے ان کے سر کے بال اور منہ میں دانت ہوں گے جبکہ سب لوگ جو دنیا میں جسمانی معذور تھے وہ بھی درست اعضا کے ساتھ ہوں گے۔

 صحیح مسلم کی روایت ہے کہ سب سے پہلے زمین میں سے حضرت محمدِ مصطفیٰ ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھیں گے ، آپ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کے بعد جگہ جگہ سے انبیا علیہم السلام اٹھیں گے، اس کے بعد صدیقین ، شہدا اور صالحین اٹھیں گے، ان کے بعد مومنین ، پھر فاسقین، پھر کفار تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک دوسرے کے بعد برآمد ہوں گے۔حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان میں ہوں گے اور ...

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -