کالعدم ٹی ٹی پی اور   دہشت گرد گروپ پاکستان اور خطے کی  سلامتی کے لئے خطرہ قرار

کالعدم ٹی ٹی پی اور   دہشت گرد گروپ پاکستان اور خطے کی  سلامتی کے لئے خطرہ ...
کالعدم ٹی ٹی پی اور   دہشت گرد گروپ پاکستان اور خطے کی  سلامتی کے لئے خطرہ قرار

  

 نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ نے   افغانستان سے آپریٹ  کی جانے  والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)اور جماعت الاحرار(جے یو اے) سمیت  دہشت گرد گروپوں کو  پاکستان اور خطے کی  سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئےپاکستانی حکومت کی جانب سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ    پاکستانی حکومت کی جانب سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف  ایکشن لیا گیا ہے دہشت گرد تنظیم کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)گذشتہ 3ماہ کے اندر  سرحد پار سے پاکستان کی سرحد  پر ہونے والے100  سے زائد حملوں کا ذمہ دار تھی،پاکستان عالمی برادری کو کالعدم   ٹی ٹی پی کی طرف سے دہشت گردی کے خطرے  سے مسلسل آگاہ کرتا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  میں پیش کردہ 27ویں رپورٹ میں   اقوام متحدہ  کی جانب سے  القاعدہ،(آئی ایس آئی ایس)  اور دیگر شدت پسند گروہوں کا سراغ لگانے کے لئے نگران  ٹیم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی مالی اعانت میں مصروف افراد اور نامزد افراد کی گرفتاری  اور  ٹیرر فنانسنگ کرنے والے اداروں کے اثاثے منجمد کئے گئے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی مجوزہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے  جب بھارت نامزد گروہوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے  ایکشن نہ لینے کے الزام عائد کر رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق  پاکستانی حکومت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایکشن کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا افغانستان میں اکٹھ دیکھا گیا ، جولائی  تا  اگست (2020ء)میں  کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ  پانچ گروپوں نے اتحاد کیا ،ان کالعدم دہشت گرد گروپس میں   شہریار محسود گروپ، جماعت الاحرار، حزب الاحرار، امجد فاروقی گروپ اور عثمان سیف اللہ گروپ (سابقہ  لشکرِ جھنگوی) گروپس شامل ہیں،کالعدم ٹی ٹی پی میں ان گروپس کی شمولیت سے نہ صرف   پاکستان اور خطے کے لئے دہشت گردی کے خطرے میں اضافہ ہوا ہے  بلکہ اس سے کالعدم ٹی ٹی پی کی طاقت  اور اس کے نتیجے میں حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ میں پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی اور اکتوبر 2020ءکے درمیان سرحد پار سے پاکستان میں ہونے  والے 100سے زیادہ حملوں کی ذمہ دار  کالعدم ٹی ٹی پی تھی، ان گروپس کے  انضمام کے بعد کالعدم  ٹی ٹی پی کی  افرادی  قوت میں 2500سے 6000کے درمیان  اضافہ ہوا  ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے سال 2020 میں پاکستان کے دورے پر آئے اقوام متحدہ کے  سیکرٹری جنرل  انتونیو گٹیرس کو  پاکستان نے  ایک ڈازیئر دیا تھا جس میں کالعدم    ٹی ٹی پی اور  کالعدم جے  یو اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کو بھارتی فنڈنگ کے ثبوت فراہم کئے گئے تھے، سلامتی کونسل کی 1267پابندیوں کمیٹی  دونوں گروپس کو دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔

مزید :

اہم خبریں -بین الاقوامی -