بھارت ، غیر قانونی کوئلے کی کان میں دھماکہ، 18 افراد ہلاک
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی شمال مشرقی ریاست میگھالیہ میں ایک غیر قانونی کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو ایسٹ جینتیا ہلز ضلع میں پیش آیا۔
اے ایف پی کے مطابق مقامی پولیس نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران دھماکے کی جگہ سے 18 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق ملبے تلے مزید کان کنوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، تاہم اندھیرا ہونے کے باعث ریسکیو کارروائیاں روک دی گئیں، جو جمعہ کی صبح دوبارہ شروع کی جائیں گی۔
ضلعی اعلیٰ افسر منیش کمار نے بتایا کہ یہ ایک غیر قانونی “ریٹ ہول” کان تھی، جس میں تنگ سرنگوں کے ذریعے کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ حکام نے ریاستی اور وفاقی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے عملے کو طلب کر لیا ہے تاکہ سرچ آپریشن کو آگے بڑھایا جا سکے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ ممکنہ طور پر ڈائنامائٹ کے استعمال سے ہوا، تاہم حتمی وجہ جاننے کے لیے فرانزک تحقیقات جاری ہیں۔ دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور کان کے اندر زہریلی گیسیں جمع ہو گئیں، جس سے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی۔
واضح رہے کہ میگھالیہ میں ریٹ ہول مائننگ پر 2014 میں ماحولیاتی عدالت نے پابندی عائد کی تھی، کیونکہ مقامی آبادی نے آبی آلودگی اور انسانی جانوں کو لاحق خطرات پر شکایات کی تھیں۔ اس کے باوجود یہ طریقہ اب بھی کئی علاقوں میں رائج ہے۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ کونراڈ کے سنگما نے واقعے کی جامع تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
حکومتی بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو دو لاکھ بھارتی روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے۔
