”بازیافت“ کی تازہ اشاعت پر ایک نظر

”بازیافت“ کی تازہ اشاعت پر ایک نظر
 ”بازیافت“ کی تازہ اشاعت پر ایک نظر

  

شعبہ اُردو پنجاب یونیورسٹی کے میگزین ”بازیافت“ کا تازہ شمارہ (19) گراں قدر تنقیدی اور تحقیقی مقالات کا دلکش مجموعہ ہے۔ فہرست پر نگاہ ڈالیں تو پہلی دلچسپ چیز یہ نظر آتی ہے کہ کسی بھی مقالہ نگار کے نام کے ساتھ ”ڈاکٹر“ کا سابقہ نہیں ملتا۔ موجودہ شمارے میں شامل تمام تحریریں بلاشبہ بہت اچھے معیار کی حامل ہیں، جو لوگ علم و دانش سے اتنی سچی دوستی رکھتے ہیں کہ میرے جیسے باریک بین قاری کے لئے کوئی سقم نہیں چھوڑتے، وہ یقینا اتنے بڑے ظرف کے ضرور ہوں گے کہ اگر ادارتی بورڈ نے ان کے ناموںسے ڈاکٹر کا سابقہ اُڑا دیا ہے تو وہ بُرا نہیں مانیں گے۔ پی ایچ ڈی ہونا یقینا ایک اعزاز ہے اور اسے عام طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، لیکن ہماری تدریسی دُنیا میں ایسے اصحاب کی کمی نہیں، جنہیں دوچار بار ”ڈاکٹر صاحب“ کہہ کر نہ بلائیں تو اُن کے لہجے میں ترشی سی گھلنے لگتی ہے۔

یادش بخیر، ہمارے پنجابی کے ایک دوست استاد نے جس دن اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر کے پنجاب یونیورسٹی میں جمع کرایا، دوسرے روز اپنے گھر کی نیم پلیٹ پر اپنے نام کے ساتھ ”ڈاکٹر“ کا اضافہ فرما لیا۔ بقول غالب:

سینہ¿ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

مقالے کے معیار کا یہ عالم تھا کہ اسے یونیورسٹی نے Evaluationکے لئے باری باری دو ماہرین کی خدمت میں بھیجا، دونوںجگہ سے غیر معیاری قرار دے دیا گیا۔ چاہتے تو نظرثانی کے لئے درخواست دے سکتے تھے، لیکن اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ اپیل کرنے پر رضامند نہ ہوئے، بلکہ غیظ و غضب میں نیم پلیٹ سے ”ڈاکٹر“ کا لفظ ہی کھرچ ڈالا۔ لفظ غائب تو ہو گیا لیکن پیچھے حسرتوں کا نشان باقی رہ گیا۔ مَیں جب کبھی اُن کی گلی سے گزرتا تو بے اختیار نگاہ اِس نیم پلیٹ پر ضرور پڑجاتی۔ بعض دوستوں کاکہنا ہے، ڈگری نہ ملنے کی حسرت نے اُن کی زندگی کو بے لطف کر دیا اور وہ جلد ہی اِس دُنیائے فانی سے پردہ کر گئے۔

جی تو چاہتا ہے لگتے ہاتھ اپنے شعبہ پنجابی (اورئینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی) کی کہانی بھی رقم کر دوں کہ اس کے سربراہان نے اس ڈگری کی بے توقیری کے لئے کیا کیا جتن کئے، لیکن تفصیل کا محل نہیں، یہ تلخ داستان کسی اور موقعے پر اُٹھا رکھتا ہوں۔ بات ہو رہی تھی ”بازیافت“ کے تازہ ترین شمارے کی کہ اس میں ایک سے ایک بڑھ کر لائق تحسین و آفرین تحریریں شامل ہیں۔ موضوعات پرایک نظر ڈالنے ہی سے ادب کے شائقین خوشی محسوس کریں گے کہ اب ہماری یونیورسٹیوں کی ادبی تحقیق و تنقید روائتی موضوعات کے دائرے سے بڑی حد تک نکل آئی ہے۔ زیر نظرشمارے میں شامل مقالات اپنے اندر خاصا تنوع رکھتے ہیں۔ عنوانات کچھ اس طرح ہیں: ہجرت حبشہ تاریخ اور عبرتیں(ظہور احمد اظہر)، سیم التواریخ (محمد اکرام چغتائی)، وحدة الوجود (حنیف خلیل)، اُردو عروض:تنقیحات اور اصلاحات (روبینہ ترین/محمد زبیر خالد)، عہد جدید میں ادب کی تدریس کا جواز (سید محسنہ نقوی)، ترکی اور اُردو کا تعلق (میاں مشتاق احمد/ صغریٰ بیگم)، اردو گیت نگاری کے فروغ میں مجلہ ”سیپ“ کا کردار (ممتاز خان کلیانی / محمد آصف جہانگیر)، اردو رسم الخط میں ہائے دو چشمی(ھ) کی حیثیت اور استعمال (محمد سلیمان اطہر)، اُردو شاعری میں اسالیب کا ارتقائی مطالعہ (قمر عباس)، جعفر طاہر کی غزل (طارق ہاشمی)، اردو ادب میں ترجمے کی تاریخی حیثیت(پروین کلو)، مطالعہ انسان اور فن خاکہ نگاری (محمد افتخار شیخ)، لسانی تشکیلات کی تحریک اور اُردو تنقید (اورنگزیب نیازی)، معاصر عالمی حالات میں دہشت گردی کے موضوع پر .... (عمران ظفر)، یونیورسٹی اورئینٹل کالج میں تدوین متن(اُردو) کی روایت (عظمت رباب)، مشفق خواجہ .... بطور ادبی کالم نگار (شفیق احمد شنوائی)، حلقہ ارباب ذوق کے شعراء(حنا کنول)، جاپان میں اُردو.... لغت نویسی کے تناظر میں (محمد فخرالحق نوری)۔

Translation to urdu Poetry in English -(Muhammad Kamran)

محمد اکرام چغتائی آج کل شعبہ اسلامی انسائیکلو پیڈیا (دائرہ معارف اسلامیہ) پنجاب یونیورسٹی میں ریسرچ آفیسر ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم وہاں انہوں نے تحقیق کی کتنی وادیاں قطع کی ہیں، یہ تو جناب وائس چانسلر کا منصب ہے کہ وہ دیکھیں کہ کس سکالر کی کیا کارکردگی ہے، البتہ چغتائی صاحب کے جو مقالات ادبی جرائد میں چھپتے ہیں وہ اُن کی غیر معمولی علمی صلاحیتوںکے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ اُن کا وہ مقالہ جو”بازیافت“ میں شامل ہے، وہ والی ¿ اودھ واجد علی شاہ اختر کے ان59خطوط پر مبنی ہے جو اختر نے اپنی محبوبہ سیم تن کے نام لکھے تھے۔ اِن خطوط کا مجموعہ (قلمی) ”سیم التواریخ“ کے عنوان سے ویانا (آسٹریا) کی پبلک لائبریری میں پڑا ہے۔ چغتائی صاحب نے واجد علی شاہ کی شخصیت اور اُن کے عہد کی تاریخی صورت حال پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اُن کا یہ جملہ بہت دلچسپ ہے:”اختر کی تصانیف کی طرح اِس کی بیویوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں تھی“۔ چغتائی صاحب کی اس تحقیق سے واجد علی شاہ پر ہونے والے اعتراضات اور الزامات کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ واجد علی شاہ کے نام اُن کی بیگمات (تعداد تقریباً اڑھائی سو) میں سے بعض کے خطوط کی ادبی، لسانی اور سماجی اہمیت اِس زاویے سے ہے کہ پتہ چلتا ہے کہ اُس دور میں لکھنو¿ کی زبان کے کیا تیور تھے اور عوام و خواص کے رجحانات طبع کس کس طرح کے تھے۔ سیاسی سطح پر شاہ اور انگریزوںکے درمیان جو معاملات تھے، اُن کی جھلکیاں بھی خطوط کی اہمیت کو دوچند کر دیتی ہیں۔

”بازیافت “کے مدیر محمد فخرالحق نوری کی تحقیقی کاوش: ”جاپان میں اُردو .... لُغت نویسی کے تناظر میں“ خاصے کی چیز ہے۔

نوری صاحب جاپان میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مقالے میں کھوج لگایا ہے کہ جاپان میں اُردو کا لغت کے حوالے سے تعارف یوں ہوا کہ1776ءمیں ناگا ساکی کے ایک تاجر اور ترجمان گی گوزائے مان نے ایک پنج زبانی لغت ترتیب دی۔ اس زمانے میں ناگا ساکی بیرونی دُنیا سے رابطے کی واحد بندرگاہ تھی۔ وہاں مختلف علاقوں کے تاجر آتے تھے۔ چنانچہ گی گوزائے مان نے پانچ زبانوں.... جاپانی، چینی، ویت نامی، پرتگیزی اور ”مور“ زبان کے منتخب متبادل الفاظ جمع کر کے مذکورہ لغت ترتیب دی تھی۔ ”مور“ سے مرا د وہ عرب اور افریقی مسلمان ہیں جو رومانیہ، ہسپانیہ، اندلس، موریتانیہ، سری لنکا وغیرہ میں منتقل ہوئے۔ مور کی زبان میں بے شمار عربی الفاظ تھے جو بعد میں اُردو کا بھی حصہ بنے۔ چنانچہ اُردو لغت نویسی کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔ نوری صاحب نے لغت نویسی کے سلسلے میںاُردو سے محبت رکھنے والے کئی جاپانی سکالروں کا ذکر کیا ہے۔ پروفیسر سوزوکی تاکیشی اور پروفیسر ہیروشی کان کاگایا کی بھی خدمات قابل ذکر ہیں۔ کا گایا کو حکومت پاکستان نے ستارہ¿ امتیاز کا اعزاز دیا تھا وہ اورئینٹل کالج لاہور میں بھی تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اُن کی اُردو جاپانی لغت2005ءمیں 1600صفحات پر شائع ہوئی۔ اس میں ذخیرہ الفاظ 18 ہزار ہے۔ڈاکٹر نوری صاحب کی فراہم کردہ معلومات سے اُردو دان طبقے کا سر یقینا فخر سے بلند ہو گا۔ البتہ ہمارے انگریزی پرست طبقہ کے لئے یہ خبر افسوس کا موجب ہو گی کیونکہ اس نے اُردو کو کمتر مقام پر رکھنے اور بیرونی آقاﺅں کو خوش رکھنے کی قسم کھا رکھی ہے !

مزید :

کالم -