2012:ہلاکت خیز فائرنگ کی وارداتیں

2012:ہلاکت خیز فائرنگ کی وارداتیں
2012:ہلاکت خیز فائرنگ کی وارداتیں

  

2012

ءاپنے اختتام کو پہنچا، لیکن امریکہ میں ہلاکت خیز فائرنگ کی وارداتیں اِس سال عروج پر رہیں۔ آخری واردات نیو یارک کے مضافات میں کرسمس کے روز ہوئی، جب ایک گھر میں لگی آگ بجھانے کے لئے فائر فائٹر وہاں پہنچے تو ایک عمر رسیدہ گورے نے اُن پر بے تحاشا فائرنگ کرکے دو کو ہلاک اور دو کو شدید زخمی کر دیا۔ اکثر وارداتوں میں مخصوص لوگوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بلکہ بلا امتیاز فائرنگ کرکے، جو سامنے آیا، اُسے گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ ہمارے ہاں پاکستان میں غالباً قتل کی وارداتوں میں بے حد اضافہ ہوا ہے، بالخصوص کراچی میں ٹارگٹ کلنگ۔ بقول جوزف سٹائن کے، اب قتل نہیں، اب اعدادو شمار بن کر رہ گئے ہیں۔ امریکہ میں اعدادو شمار کا یہ کھیل اس گزرنے والے سال کے دوسرے مہینے میں شروع ہو گیا تھا۔

22 فروری کو نارکراس جارجیا میں ایک کورین ....”ہیلتھ سپا“ (Health Spa) .... میں ایک شخص نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے پانچ افراد موت کا شکار ہوئے۔ بعد میں کہا گیا کہ ملزم خانگی تشدد وغیرہ کا شکار تھا۔ اس واردات کا غلغلہ ابھی تک میڈیا میں موجود تھا کہ چار روز بعد 26 فروری کو جیکسن ٹینیسی کے ایک نائٹ کلب میں چند افراد نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ خوش قسمتی سے اس میں ہلاکت صرف ایک تک محدود رہی، لیکن بیس لوگ بری طرح زخمی ہوئے۔ اس سے اگلے روز، یعنی 27 فروری کو اوہائیو کے مضافاتی سکول میں تین طلبہ کو ایک طالب علم نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ مارچ کا آغاز بھی ایسے ہی ایک واقعے سے ہوا، جب 18مارچ کو ہینسبرگ پینسلوانیا کے نفسیاتی سکول میں ایک شخص دو بندوقیں لئے اندر داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ کرکے دو افراد کو ہلاک اور سات کو شدید زخمی کر دیا۔ بقیہ ماہ بعافیت گزر گیا، لیکن مارچ کی آخری تاریخ (31 مارچ) کو ایک شخص کی آخری رسومات کے موقع پر ایک شخص ”میت گھر“ میں داخل ہوا اور فائرنگ کرکے مرنے والے کے سوگواروں میں سے دو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جبکہ بارہ کو زخمی کر دیا۔ یہ واقعہ شمالی میامی فلوریڈا میں پیش آیا۔

 2 اپریل کو اوک لینڈ کیلی فورنیا میں اوکوس یونیورسٹی کا ایک سابق طالب علم اپنی سابق درس گاہ میں داخل ہوا اور فائرنگ کرکے سات افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس واردات میں اندھا دھند فائرنگ کرنے کی بجائے ایک ایک کو چُن چُن کر قتل کرنے کا انداز پایا گیا۔ 16 اپریل کا واقعہ اس لحاظ سے مختلف تھا کہ تُلسہ اوکلاہاما میں دو گوروں نے کالوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی، تین کالے مارے گئے اور دو زخمی ہوئے۔ اِس واردات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نسل پرستی کا شاخسانہ تھی۔ 29 مئی کو ریاست واشنگٹن ....(واشنگٹن ڈی سی دارالحکومت ہے، لیکن واشنگٹن ایک ریاست ہے).... سیائل میں ایک کافی شاپ میں فائرنگ کردی گئی، جہاں چھ افراد جان سے گئے۔ قاتل نے پانچ افراد کو قتل کرنے کے بعد اپنے آپ کو بھی ہلاک کر ڈالا۔ 9جولائی کو ولنگٹن، ڈیلاور میں فٹ بال ٹورنامنٹ کے دوران کئی افراد نے فائرنگ کرکے فٹ بال کے ایک نوجوان کھلاڑی اور فٹ بال کی انتظامیہ کے رکن سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا۔ خیال ہے کہ فائرنگ کرنے والے انتظامیہ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ 20 جولائی کو ایک شخص ایک مخصوص کلب میں داخل ہوا اور فائرنگ کرکے بارہ افراد کو ہلاک اور اٹھاون لوگوں کو زخمی کر دیا۔ 5 اگست کو سفید فام بالادستی پر یقین رکھنے والا سابق فوجی ....(فوج میں سفید فام بالادستی پر یقین رکھنے والوں کی اکثریت ہے).... مِلواکی وسکانسن کے ایک سکھ گردوارے میں داخل ہوا اور چھ سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آخر میں خود کو بھی گولی سے اُڑا دیا۔

اِس سلسلے میں پہلے پہل پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے قاتل کو گولی سے ہلاک کیا ہے۔ اس پولیس والے کو ہیرو قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس نے بہت سے لوگوں کی جان بچالی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ قاتل (سابق فوجی) نے خود کو اپنی ہی گولی سے ہلاک کر ڈالا تھا۔ 14 اگست کو ٹیکساس کی اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس سے ایک پولیس والا بھی ہلاک ہوا۔ 27 ستمبر کو ایک شخص، جسے نوکری سے نکال دیا گیا تھا، منی اپولس، منی سوٹا میں اپنی ملازمت کی پرانی جگہ پر گیا اور فائرنگ کرکے پانچ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تین افراد زخمی بھی ہوئے۔ فائرنگ کرنے والے نے اپنا بھی خاتمہ کر ڈالا۔ 21 اکتوبر کو بروک فیلڈوسکانسن میں ایک پینتالیس سالہ شخص نے ایک ”سپا“ میں داخل ہو کر اپنی بیوی سمیت تین خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور چار خواتین کو زخمی کر دیا۔ 11 دسمبر کو ایک بائیس سالہ نوجوان نے پورٹ لینڈ اور لیگان میں ایک مال میں فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی ہلاک کر ڈالا۔ 14 دسمبر کو ایک نوجوان نے سینڈی ہُک سکول نیو ٹاو¿ن کنٹی کٹ میں چھبیس بچوں کو موت کے گھاٹ اتار ڈالا اور خود کو بھی ختم کر ڈالا۔ پولیس کا شبہ ہے کہ فائرنگ کرنے والا اکیلا نہیں تھا۔ شاید اور لوگ بھی اس کے ساتھ تھے۔

شاید اس تفصیل میں کوئی ایک آدھ واردات رہ گئی ہو، تاہم یہ ایک سنگین صورت حال ہے۔ آخری واردات کے بعداسلحہ پر پابندی (Gun Contre) کا قانون نافذ کرنے کے لئے آوازیں زور شور سے اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اکثر ڈیموکریٹ اسلحہ پر پابندی کے حق میں ہیں، لیکن اکثر ری پبلیکن اس کے حق میں نہیں ہیں۔ اسلحہ کے حق کے لئے برسرپیکار نیشنل رائفل ایسوسی ایشن ایک بڑی اور مو¿ثر تنظیم ہے اور یہ بطور تنظیم ری پبلیکن کی حامی رہی ہے۔ یہ تنظیم 1791ءمیں قائم ہوئی تھی۔ یہ تنظیم ”بل آف رائٹس“ کی، جو دس آئینی ترامیم پر مشتمل ہے، دوسری آئینی ترمیم کو اپنے حق میں استعمال کرتی ہے۔ یہ ترمیم امریکی شہریوں کو ہتھیار رکھنے اور اٹھانے کی آزادی دیتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے آئین کی پہلی ترمیم کے حوالے سے اظہار رائے کی آزادی پر ”قومی مفادات کے تحفظ“ کے نام پر کئی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں، لیکن ان میں سے اکثرکا اثر براہ راست اقلیتوں (امیگرنٹس مسلمانوں پر) پڑتا ہے، اس لئے جب یہ قوانین بش دور میں پاس کئے گئے تو ڈیموکریٹس نے ان کی مخالفت کی، لیکن یہ قوانین نہ صرف اب تک موجود ہیں، بلکہ جن کی مدت ختم ہو رہی تھی، ان کی مدت بڑھا دی اور کئی قوانین میں مزید سخت اضافے کر دیئے گئے۔

سینڈی ہلز سکول کے حادثے کے بعد، چونکہ آتشیں اسلحے کے خلاف آوازوں میں اضافہ ہو گیا۔ این آر اے چند روز بالکل خاموش رہی، آخر کار تنظیم نے اپنی خاموشی توڑی اور تنظیم کے سربراہ وائن لیپری نے ایک پریس کانفرنس کی اور آتشیں اسلحہ رکھنے کے حق کا دفاع کیا۔ تنظیم کے سربراہ نے کچھ قابل غور نکتے اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ سکولوں کی حفاظت کے لئے مسلح محافظ مقرر کئے جائیں۔ ہم اپنے ڈالروں کو اہمیت دیتے ہیں، اس لئے بینکوں پر مسلح محافظ تعینات کرتے ہیں۔ ہوائی اڈوں، عدالتوں اور توانائی پیدا کرنے والے پلانٹس کو قیمتی سمجھتے ہیں، اس لئے ان کی حفاظت کے پیش نظر وہاں مسلح محافظ تعینات کرتے ہیں۔ صدر ملک کی قیمتی شخصیت ہے، اس لئے صدر کی حفاظت کے لئے خفیہ ایجنسیوں کے محافظ مقرر ہیں۔ سکولوں اور سکول کے بچوں کو شاید نہ ہم قیمتی سمجھتے ہیں، نہ انہیں اہمیت دیتے ہیں، اس لئے وہاں مسلح محافظ تعینات نہیں کرتے۔ اگر سینڈی ہلز سکول میں ایک مسلح محافظ ہوتا تو کیا اس تعداد میں بچے مارے جاتے؟ کچھ دوسرے حلقوں نے بھی اس سلسلے میں کہا تھا کہ کینڈر گارٹن سکولوں کو صرف خواتین کے حوالے کرنا ایک غلط سوچ ہے، اگر اس سکول میں ایک آدھ مرد بھی ہوتاتو شاید اتنی تباہی نہ پھیلتی۔

این آر اے کے سربراہ کے مطابق یہ صرف اسلحہ ہی نہیں، جو ایسی وارداتوں کا ذمہ دار ہے، اس کے لئے بچوں میں پھیلائی جانے والی ویڈیو گیمز کا بھی حصہ ہے۔ بلیو سٹروم، گرینڈ تھیفٹ آٹو، مورٹل کمبیٹ، سپیئر ہاو¿س جیسی ویڈیو گیمز تو تھیں ہی، دس سال سے کنڈر گارٹن کلر ویڈیو گیم بھی آن لائن پر موجود ہےں۔ ان ویڈیو گیمز سے اگر کوئی کسر باقی رہ گئی تھی تو وہ ہماری فیچر فلموں نے پوری کر دی۔ ”امریکن سائیکو“ اور ”نیچرل بورن مکر“ ان ویڈیو گیمز کی طرح تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے والی فلمیں ہیں۔ اس پر میڈیا کا غیر صحت مندانہ مقابلے کا رویہ ہے، جو تشدد آمیز واقعات کو تشدد انگیز انداز میں پیش کرتا ہے۔ امریکی معاشرے میں پیدا ہونے والا بچہ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ہمارے میڈیا کے طفیل قتل کی 16 ہزار وارداتوں اور دو لاکھ تشدد کی وارداتوں کو دیکھتا اور سنتا ہے۔ ہمارے قومی میڈیا کے کارپوریٹ مالکان اور ان کے حصص یافتگان کو اگر اس قتل و غارت گری میں شریکِ جرم یا شریک سازش نہ بھی قرار دیا جائے تو کیا، یہ ان جرائم کی حوصلہ افزائی کے الزام سے بری قرار دیا جا سکتا ہے؟ لیکن میڈیا اس سب کو نظر انداز کرکے لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے والوں کے پیچھے پڑ جاتا ہے، جبکہ اسلحہ کے بارے میں میڈیا کا مبلغ علم اتنا ہے کہ وہ ایک عام نیم خود کار گن کو مشین گن اور .223 (پوائنٹ ٹوٹو تھری) گن کو بہت طاقت ور اور فوج میں استعمال ہونے والی مہلک گن قرار دے دیتا ہے۔

این آر اے ایک مدت سے اپنے حق کے لئے قانونی جنگ بھی لڑ رہی ہے۔ 2008ءاور 2010ءمیں سپریم کورٹ نے اس آئینی حق پر حکومتی پابندی کو مسترد کر دیا اور اپنی حفاظت کے لئے اندرونِ خانہ ہتھیار رکھنے کے حق کو تسلیم کیا، ایک اور آئینی ترمیم کی رو سے اس حق کو تسلیم کرنے کے لئے صرف وفاق ہی نہیں، ریاستوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی ریاستوں میں، بعض میں قانونی اسلحہ رکھا جا سکتا ہے، لیکن اسے ساتھ لے کر پھرا نہیں جا سکتا۔ بعض ریاستیں اسلحہ گاڑی کے ڈیش بورڈ کے اندر رکھنے کی اجازت دیتی ہیں، بعض ریاستیں گاڑی میں اسلحہ صرف ٹرنک (ڈکی) میں رکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اسلحہ خریدنے کے لئے بھی مختلف ریاستوں میں مختلف طریق کار ہیں، کہیں صرف اپنا نام بتا کر آپ اسلحہ خرید سکتے ہیں، کہیں شناخت کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ نیویارک میں باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے ملک میں بھی یہ مسائل ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسائل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم امریکہ اور یورپ کی تقلید میں بہت کچھ اپنا لیتے ہیں اور بعض اوقات جب امریکہ اور یورپ میں اِن چیزوں کی برائیاں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں، ہم اِس وقت اُن کی طرف لپک رہے ہوتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ جن چیزوں، رویوں یا عادتوں، حتیٰ کہ دواو¿ں کو ضرر رساں قرار دے دیتے ہیں، وہ ہمیں برآمد کر دیتے ہیں، اِس لئے ہم اُن سے متعلق تمام نقصانات اٹھانے کے بعد ان سے چھٹکارے کے لئے سوچنا شروع کرتے ہیں۔ ہم نہ بروقت سوچ سکتے ہیں، نہ اقدامات کر سکتے ہیں!

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

مزید :

کالم -