ہاتھیوں کی لڑائی اور عوام کی بے بسی

ہاتھیوں کی لڑائی اور عوام کی بے بسی
ہاتھیوں کی لڑائی اور عوام کی بے بسی

  

میرے نزدیک پیپلزپارٹی کی موجودہ وفاقی حکومت بہت خوش قسمت ہے۔اِس قدر خراب کارکردگی کے باوجود چلے جارہی ہے اور دوسری طرف عوام حیران ہیں کہ کس سے فریاد کریں ، کس سے منصفی چاہیں؟ عوام اپنے مسائل کا رونا روتے ہیں، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی نیا سیاپا شروع ہوجاتا ہے اور عوام اپنا رونا بھول کر اِس سیاپے کا ڈراپ سین ہونے کے انتظار میں لگ جاتے ہیں۔ایسے حالات میں حکومت کی موج ہو جاتی ہے۔وہ مزید عوام دشمن فیصلے کرتی ہے، لیکن اُن پر کسی کی نظر ہی نہیں ٹکتی اور سب ایک مصنوعی اور عوام سے لاتعلق ایشو میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں۔ایک عرصے تک حکومت خط لکھنے کے مسئلے پر پیدا ہونے والی بے یقینی کے بخار میں عوام کو مبتلا رکھ کر لوڈشیڈنگ،مہنگائی اور بدامنی کے حقیقی مسائل سے پہلو تہی کرتی رہی، پھر میموگیٹ جیسے سکینڈل کو سامنے لا کر اس کی آڑ میں سب کچھ کیا جاتا رہا۔ اس سے بھی پہلے ججوں کی بحالی کے مسئلے کو طول دے کر حقیقی مسائل سے توجہ ہٹائی گئی۔پٹرول مہنگا ہوتا رہا، ڈالر چڑھتا اور روپیہ گرتا رہا ،عوام معاشی مسائل میں گھرتے چلے گئے، مگر کسی اپوزیشن لیڈر کو اِن چھوٹے چھوٹے معاملات میں الجھنے کی توفیق ہی نہ ہوئی اور بڑے بڑے مسائل کا رونا رو کر عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑا جاتا رہا....اِس لئے میرے ذہن میں یہ نکتہ اٹک سا گیا ہے کہ گزرے ہوئے پانچ برسوں میں صدر آصف علی زرداری کے ذہن رسا نے یہ حکمتِ عملی بھی شائد وضع کی ہوگی کہ مصنوعی مسائل پیدا کرو اور عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر حکومت چلاتے رہو۔کبھی تو یہ مسائل خود پیدا کئے جاتے ہوں گے اور کبھی یہ غیبی امداد کے ذریعے اِن گزرے ہوئے پانچ برسوں میں حکومت کو ملتے رہے ہیں۔

آج کل حکومت کو ایک اور غیبی امداد ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کی شکل میں ملی ہوئی ہے۔ساری مملکت اِس بخار میں مبتلاہوکر باقی سارے دُکھ درد بھول گئی ہے۔اپوزیشن ہو یا حکومت.... دن رات ڈاکٹر طاہر القادری کے ورد میں لگی ہوئی ہے۔اندر ہی اندر حکومتی حلقے ڈاکٹر صاحب کے ممنون بھی ہوں گے کہ اُن کی وجہ سے باقی سارے مسئلے پش پشت چلے گئے ہیں۔ایک طرف یہ فائدہ ہوا ہے تو دوسری طرف ناکام آئینی حکومت قرار پانے والوں کو بھی یہ تاثر دینے کا موقع مل گیا ہے کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کے محافظ وہی ہیں ،باقی سب جمہوریت کو پٹڑی سے اُتارنے کے درپے ہیں۔آپ پچھلے چند دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے بڑے رہنماﺅں کی تقریریں سنیں تو آپ کو بخوبی علم ہوجائے گا کہ ان میں جمہوریت کے پٹڑی سے اترنے کا ذکر خیر کتنی مرتبہ کیا گیا ہے۔اب یہ ایک ایسا ڈرامہ ہے کہ عوام اسے سنتے ہی سہم جاتے ہیں، کیونکہ اُنہوں نے بار بار جمہوریت کو پٹڑی سے اترتے دیکھا ہے، پھر اپنی قربانیوں سے اُسے دوبارہ پٹڑی پر چڑھایا ہے۔غور کیا جائے تو ملک میں جب بھی کوئی بے یقینی یا ہلچل کی فضا پیدا ہوتی ہے تو حکومتی منصوبہ ساز اِسے سنہری موقع سمجھتے ہوئے اپنے وہ فیصلے بھی نافذ کردیتے ہیں ،جنہیں نارمل حالت میں نافذ کرنے کی انہیں جرات نہیں ہوتی۔

اب یہی دیکھئے کہ ایک طرف ڈاکٹر طاہرالقادری کے لانگ مارچ کا شورشرابہ ہے تو دوسری طرف سی این جی سٹیشنوں کو بند کردیا گیا ہے۔اس سے پہلے حکومت کے لئے تین دن سی این جی سٹیشن بند رکھنے کا فیصلہ کرنا بھی محال تھا،کیونکہ عوام کے احتجاج کا خوف دامن گیر رہتا تھا، مگر جب سے ڈاکٹر طاہرالقادری کی دھمکی نے ملک کونئے بخار میں مبتلا کیا ہے، سی این جی نہ ملنے کا مسئلہ ایک نان ایشو لگنے لگا ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر سٹیشنوں کی مستقل بندش کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔عوام اب کیا سڑکوں پر نکلیں، انہیں معلوم ہے کہ آئندہ چند روز میں ایک بہت بڑا لانگ مارچ ہونے جارہا ہے۔ہمارے چھوٹے چھوٹے احتجاجوں پر حکومت کے کان پر جوں کہاں رینگے گی؟ اسی حالتِ اضطراب سے فائدہ اٹھا کر گیس کی قیمتیں بھی ناقابلِ بیان حد تک بڑھا دی گئی ہیں۔

سونے پر سہاگہ کابینہ کا وہ فیصلہ ہے، جس میں گندم برآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے،جس کا فوری اثریہ ہوا ہے کہ 32روپے کلو بکنے والا آٹا40روپے کلو ہوگیا ہے۔گویا غریبوں کے منہ سے اب آخری نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے، مگر ڈاکٹر طاہر القادری نے اِن تمام باتوں کو نان ایشو بنا دیا ہے۔وہ اِنہی غریبوں کے نام پر ملک میں انقلاب لانے کے داعی ہیں، لیکن اُنہوں نے عوام کے اِن مسائل پر ابھی تک کوئی دھمکی نہیں دی اور حکومت سے یہ نہیں کہا کہ وہ ان کے لانگ مارچ کی آڑ میں عوام دشمن فیصلے نہ کرے۔ہمیں تو ڈر ہے کہ جس طرح خط لکھنے کا معاملہ چار سال تک عوام کے اصل مسائل کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا، بعدازاں غبارے کی طرح پھٹ گیا،جس طرح ایبٹ آباد آپریشن اور میمو گیٹ سکینڈل کی گرد ایک طویل عرصے تک عوام کو بے یقینی کے بخار میں مبتلا کرکے بیٹھ گئی، اِسی طرح ڈاکٹر طاہرالقادری کا یہ لانگ مارچ بھی پانی کا بلبلہ ثابت نہ ہو!.... اُن کا خیر تو کچھ نہیں بگڑے گا،وہ دوبارہ کینیڈا کی فضاﺅں میں واپس چلے جائیں گے، تاہم اُن کی اِس مہم سے فائدہ اٹھا کر حکومت اپنے رُکے ہوئے ایجنڈے پر عمل کرکے عوام کی جو درگت بنا رہی ہے، اِس کا ازالہ شائد نہ ہو سکے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری چونکہ ایک مدت بعد پاکستان آئے ہیں، اِس لئے اُنہیں شاید علم نہیں کہ موجودہ حکومت تو شروع دن سے سیاسی شہادت کی متمنی رہی ہے۔کبھی عدلیہ سے پنجہ آزمائی کرکے اور کبھی فوج کو میمو گیٹ کے ذریعے برانگیختہ کرنے کی ڈگر پر چل کے شہادت کی منزل پر پہنچنے کی حتی الامکان سعی کی جاتی رہی۔شہادت تو نہ ملی،البتہ بار بار غازی بننے کا اعزاز ضرور حاصل ہوا۔سیاسی شہادت کی خواہش میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی منصب سے گئے اور ڈاکٹر بابر اعوان، ذوالفقار مرزا، فیصل رضا عابدی اور سردار لطیف خان کھوسہ جیسے کرداروں کی آرزو بھی پوری نہ ہوئی،تاہم اِس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ سیاست کی قربان گاہ پر ایسی قربانیوں سے پیپلزپرٹی کی حکومت اپنے بڑے فیصلوں پر سے عوام کی توجہ ہٹانے میں سو فیصد کامیاب رہی۔اِس تناظر میں اب ڈاکٹر طاہرالقادری کی آمد اور حکومت کے خلاف دھواں دار مہم.... ”عوام کے پاس کیا منہ لے کر جائیں گے“؟ کے سوال میں مبتلا حکومت کے لئے کسی غیبی امداد سے کم نہیں۔اگر ڈاکٹر صاحب کی مہمات کے نتیجے میں یہ حکومت دو ماہ پہلے ہی رخصت ہوجاتی ہے تو اُس کی سیاسی شہید بننے کی آرزو پوری ہو جائے گی۔شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرطاہر القادری کے لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لئے حکومتی سطح پر کوئی سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں نہیں آ رہیں، البتہ ایسے بیانات کا سلسلہ ضرور جاری ہے کہ جمہوریت کے خلاف کسی خفیہ ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔اِن لوگوں سے کوئی پوچھے کہ جمہوریت کو اِس قدر کمزور کیا کس نے ہے، کوئی ایک شخص باہر سے آکر اِس کی چولیں ہلا دیتا ہے؟

جمہوریت میں اگر عوام کو ریلیف نہ ملے اور انہیں معاشی لحاظ سے زندہ درگور کردیا جائے تو اِس جمہوریت کے لئے عوام میں کیا ہمدردی پیدا ہو سکتی ہے۔پھر تو کوئی بھی انہیں استعمال کرسکتا ہے اور عوام اُسے اپنا نجات دہندہ سمجھ کر اُس کے پیچھے چل سکتے ہیں۔ مجھے تویوں لگتا ہے کہ ہم 18کروڑ عوام نہیں، بلکہ وہ خربوزہ ہیں جو چھری پر گرے یا چھری اُس پر گرے، نقصان اُسی کا ہوتا ہے۔ جب تک عوام اس خربوزے کے خول سے نکل کر ایک جیتی جاگتی طاقت نہیں بنتے،انہیں مختلف حیلے بہانوں سے بے وقوف بنایا جاتا رہے گا۔کاغذوں میں ہونے والے اصلاحی اقدامات کوئی معنی نہیں رکھتے تاوقتیکہ خود عوام اپنی اصلاح نہ کریں۔انتخابات میں کتنے ہی اچھے لوگ امیدوار بن جائیں، انتخابات کتنے ہی شفاف اور آزاد ہوں، جب تک عوام یہ طے نہیں کریں گے کہ ہم نے کسی لٹیرے،کسی بددیانت اور کسی بدکردار کو منتخب نہیں کرنا، تب تک کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ ایجنڈا تو اصل یہ ہونا چاہیے، مگر ڈاکٹر طاہر القادری سمیت کسی مصلح کی اس طرف توجہ نہیں، بس ہاتھیوں کی لڑائی جاری ہے،جس میں عوام بُری طرح پس رہے ہیں۔

مزید :

کالم -