فتح مبارک، آج کا میچ بھی جیتیں!

فتح مبارک، آج کا میچ بھی جیتیں!

  

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کرکٹ سیریز کا آخری میچ فیروز شاہ کوٹلہ گراﺅنڈ دہلی میں کھیلا جا رہا ہے یہ ایک روزہ انٹرنیشنل سیریز کا آخری میچ ہے ۔اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی سیریز ایک ایک سے برابر رہی اور تین ایک روزہ میچوں میں سے پہلے دونوں میچ پاکستان کرکٹ ٹیم جیت چکی اور اس طرح سیریز اس کے حق میں ہے آخری میچ بھارت کے لئے زیادہ اہمیت کا حامل ہو گا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم خود پر ہونے والی تنقید کا جواب دینے کے لئے میچ جیتنے کی بھرپور کوشش کرے گی جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی وائٹ واش کا جذبہ لے کر میدان میں اتریں گے اُن کی بھرپور کوشش ہو گی کہ یہ میچ جیت کر بھارت کو اس کی سرزمین پر ہرانے کے ساتھ ساتھ وائٹ واش کا اعزاز بھی حاصل کر لیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو اِس وقت بھارتی کھلاڑیوں پر نفسیاتی برتری بھی حاصل ہے اس لئے اُن کو جیت کا جذبہ لے کر پوری یکجہتی اور ہم آہنگی کے ساتھ یہ میچ بھی جیتنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ پوری قوم ان کے لئے دُعا گو ہے۔

بلا شبہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے جو تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا مجموعہ ہے، یک جان ہو کر اپنے دیرینہ حریف پر فتح حاصل کی ہے اور پھر سے ٹیم کو بلندی کی طرف پرواز کرائی ہے۔ اس دورے میں جو کرکٹ ہوئی وہ بہت جاندار اور دلچسپ تھی، شائقین نے بھرپور لطف اٹھایا۔ پاکستان کے کھلاڑیوں نے جی جان سے محنت کی اور پھل پایا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو خامیاں ظاہر ہوئی ہیں ان کو نظر انداز کر دیا جائے، صرف شکست ہی کا نہیں فتح کا بھی تجزیہ کرنا چاہئے۔ کپتان مصباح الحق کو اپنی بیٹنگ پر توجہ دینا ہو گی جبکہ جنید خان اور عرفان جیسے نوجوان باﺅلرز کی درست رہنمائی کر کے اُن سے مزید مفید کارکردگی لی جا سکتی ہے۔ شائقین کرکٹ عمر اکمل کو نظر انداز کرنا محسوس کر رہے ہیں اِس لئے اس کو بھی موقع دینا چاہئے۔ بھارت کے خلاف دو میچ جیت کر خوش فہمی میں مبتلا ہو کر تیسرے کو تجربہ گاہ بنانے کی ضرورت نہیں اور جیتنے والی الیون ہی کو لڑانا چاہئے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کی بحالی مثبت اقدام ہے کہ اس سے کشیدہ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ کرکٹ کے بعد ہاکی ٹیم کا بھی دورہ ہونے والا ہے توقع کرنی چاہئے کہ بھارتی کرکٹ اور ہاکی ٹیمیں جوابی طور پر پاکستان کا دورہ بھی کریں گی۔ ماہرین کا یہ تجزیہ درست ہے کہ کرکٹ ہو، ہاکی یا کوئی اور کھیل اگر برصغیر کے یہ دونوں ممالک آپس میں کھیلیں تو ان کو تجربہ حاصل ہو گا اور یہ یورپی ٹیموں کے مقابلے میں ایشیا کی ٹیموں کے طور پر برتری حاصل کرنے کے اہل پائیں گے۔ بہرحال ہم پاکستان کرکٹ ٹیم اور بورڈ کو مبارکباد دیتے ہیں کہ کھیل بحال کرانے کے ساتھ ساتھ فتح بھی حاصل کی ہے۔ امید ہے کہ ہمارے کھلاڑی اپنی کارکردگی اور بہتر بنائیں گے۔

مزید :

اداریہ -