دس رکنی کینیڈین وفد کا پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کا دورہ

دس رکنی کینیڈین وفد کا پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کا دورہ

  

لاہور(کامرس رپورٹر)مسٹر پیٹرک براؤن (ایم پی پی، لیڈر برائے آفیشنل اپوزیشن، اونٹاریو، ٹورانٹو/ راہنما کنزرویٹو پارٹی) اور مس سلمیٰ عطا اللہ جان (پاکستانی نژاد کینیڈین سینیٹر) کی زیر قیادت دس رکنی وفد نے پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کا دورہ کیا۔PBIT کی ٹیم نے تعلیم، لائیو سٹاک اینڈ ڈیری، خوراک، توانائی، بنیادی سہولیات، کانکنی و معدنیات کے شعبوں میں ممکنہ پراجیکٹس کے بارے میں ایک جامع پریذنٹیشن دی۔چیئرمین PBIT مسٹر عبدالباسط اور چیف ایگزیکٹو PBIT آمنہ چیمہ بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ مس آمنہ نے کہا، ’’ہم کینیڈا کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے متمنی ہیں اور تربیت و تعلیم کے شعبوں میں پنجاب اور اونٹاریو کے درمیان اشتراک کے وسیع امکانات پائے جاتے ہیں۔مسٹر پیٹرک نے کہا کہ پاکستان و کینیڈا کی یونیورسٹیوں کے درمیان طلبا کے تبادلہ کا پروگرام عوام کے مابین رابطہ بڑھانے اور ثقافتی تعلقات قائم کرنے کا آسان ترین طریقہ ہے۔صدر پاکستان کینیڈا بزنس کونسل مسٹر Dossal نے کہا کہ کینیڈا پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں وسیع پیمانے پر روابط بنانے کا خواہش مند ہے۔ ان میں درج ذیل شعبے شامل ہیں: ترقیاتی تعاون؛ عوام کے باہمی روابط؛ علاقائی سکیورٹی و دفاع؛ گورننس اور انسانی حقوق؛ تجارت و سرمایہ کاری۔ پاکستان اور کینیڈا آپس میں 700 ملین ڈالر (2013ء) کی تجارت کر رہے ہیں۔سینیٹر سلمیٰ عطا اللہ جان نے کہا، ’’پاکستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جس کے بارے میں غلط تصورات عام ہو چکے ہیں، اور ہمیں واقعی اس تاثر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ میں خود اور مسٹر پیٹرک ہندوستان کی نسبت یہاں خود کو زیادہ محفوظ کرتے ہیں۔میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ پڑوسی ممالک میں کام کرنے والی کینیڈین کمپنیوں کی نشاندہی کر کے انہیں پاکستان میں کاروبار قائم کرنے پر مائل کیا جائے گا۔PBIT اور کینیڈا پاکستان بزنس کونسل کے درمیان ایک یاد داشت پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کی کاوشوں کو فروغ دینا ہے۔کینیڈا اس وقت پاکستان میں متعدد ترقیاتی پراجیکٹس چلا رہا ہے۔ کینیڈا پاکستان کو صحت، صنفی ترقی اور ڈیری کے شعبے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ کینیڈا انتخابی نظام کو بہتر بنانے میں بھی پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔کینیڈا سے آنے والے وفد کے دورے ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی فضا بہتر ہو رہی ہے اور اب کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بنانے کے خواہش مند ہیں۔

مزید :

کامرس -