پانی اقتصادی ترقی کا لازمی جزہے، واٹر مینیجمنٹ بہتر بنائی جائے‘افتخار علی ملک

پانی اقتصادی ترقی کا لازمی جزہے، واٹر مینیجمنٹ بہتر بنائی جائے‘افتخار علی ...

  

اسلام آباد(کامرس ڈیسک) یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی)کے چئیرمین افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پانی کے معاملہ پرسیاسی تنازعات ملکی مفاد کے خلاف ہیں جو ملک کو پانی کے سنگین بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔واضع واٹر سٹرٹیجی بنائی جائے اورآبی وسائل کی ترقی کیلئے بھاری فنڈز مختص کئے جائیں ورنہ زراعت، لائیو سٹاک اور صنعتی شعبہ نقصان اٹھائے گا ملک صحراکا منظر پیش کرے گا ۔پاکستان نوے فیصد آبی وسائل زراعت کے لئے استعمال کر رہا ہے جس کی بھاری مقدارفرسودہ ترسیلی نظام کے سبب ضائع ہو رہی ہے جبکہ پینتیس ملین ایکڑ فٹ پانی ناقص منصوبہ بندی کے سبب سمندر برد ہو جاتا ہے۔افتخار علی ملک نے ایف پی سی سی آئی کے نو منتخب صدر عبدالرؤف عالم اور یو بی جی کے دیگر رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک ڈیموں کی تعمیر پر تنازعہ سے قومی معیشت کوسالانہ ساڑھے تین ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جو ناقابل برداشت ہے جسکا حل واٹر مینیجمنٹ میں ہے۔ملکی بقاء کیلئے دو سو چھوٹے، درمیانے اور بڑے ڈیموں کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت ملک میں صرف 61 ڈیم ہیں جن میں سے صرف دو میگا ڈیم ہیں۔پاکستان ایک مکعب میٹر پانی سے پچاس سینٹ کا فائدہ حاصل کرتا ہے جبکہ عالمی اوسط آٹھ ڈالر جبکہ جاپان تیس ڈالر کماتا ہے ۔افتخارعلی ملک نے کہا کہ مختلف علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح گر رہی ہے جس سے تمام شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ٹیکنالوجی سے دوری کے سبب ہمارے کاشتکار مختلف فصلوں کے لئے بھارت سے دگنا اور ترقی یافتہ ممالک سے چار گنازیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں جو جی ڈی پی میں اکیس فیصد حصہ کے حامل زرعی شعبہ اور فوڈ سیکورٹی کیلئے لئے خطرہ ہے۔پچاس سال قبل پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 5650 مکعب میٹر تھی جو اب 1100 مکعب میٹر سے کم ہو گئی ہے جس سے اشیائے خورد و نوشت کی قیمتوں اور بجلی کی پیداوارسمیت متعدد شعبوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔2025 تک پاکستان کو 277 ملین ایکڑ فٹ پانی اور پانی زخیرہ کرنے کی دگنی استعداد کی ضرورت ہو گی جسکے لئے ابھی سے اقدامات کئے جائیں۔ تربیلا ڈیم کی تعمیر کے وقت ہر دس سال بعد اسی حجم کے ایک اور ڈیم کی تعمیر کو ضروری قرار دیا گیا تھا ۔

جس پر عمل نہیں کیا گیا۔ جس ملک میں دنیا کے سب سے زیادہ گلیشئیر ہوں اور 23 فیصد عوام ہر سال سیلاب کا سامنا کرتے ہوں وہاں پانی کی کمی حیران کن ہے۔ گزشتہ سو سال میں دنیا کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے اور موسم کا تغیر 2035 تک ہمارے تمام گلیشئیرز کو ختم کر کے پانی کے بڑے منبع سے محروم کر دیگاکیونکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے دنیا کے آٹھ کمزور ترین ممالک میں شامل ہے۔ اس شعبہ کو فوراًبھرپور توجہ نہ دی گئی تو ہمارا اورآنے والی نسلوں کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔

مزید :

کامرس -