آلو پاکستان کی ایک اہم نقدآور فصل ہے‘ زرعی ماہرین

آلو پاکستان کی ایک اہم نقدآور فصل ہے‘ زرعی ماہرین

  

لاہور(کامرس رپورٹر)آلو پاکستان کی ایک اہم نقدآور فصل ہے اور اس کو مکمل غذا بھی کہا جاتا ہے ۔ماہرین نے آلو کے کاشتکار وں کوسفارش کی ہے کہ وہ خزاں فصل کی برداشت وسط جنوری سے شروع کریں۔ فصل کی برداشت سے ہفتہ دس دن پہلے آلو کی بیلیں کاٹ دیں تاکہ آلو وائرس پھیلانے والے کیڑوں سے محفوظ رہ سکے اور اس کا چھلکا سخت ہو جائے۔ آلو کی بیلیں کاٹنے سے آلو کی جلد سخت ہو جاتی ہے اور وہ کولڈ سٹور میں ذخیرہ کے دوران نہیں گلتا۔ آلو کی برداشت سے 15 دن پہلے فصل کی آبپاشی بند کر دیں اوراس کی برداشت صبح کے وقت کریں ۔ موسم خزاں کی فصل کی برداشت کے بعد زمیندار عموماً آلوؤں کو ڈھیر کی صورت جمع کر لیتے ہیں لیکن ڈھیر میں ہوا کا گزر نہ ہونے کی وجہ سے آلو نہ صرف گلتے ہیں بلکہ درجہ حرارت زیادہ ہونے کی بناء پر خشک ہو کر بدشکل بھی ہو جاتے ہیں اس طرح مارکیٹ میں کم قیمت وصول ہوتی ہے۔ کاشتکار زیادہ قیمت کے حصول کے لیے آلوؤں کو فارم پرڈھیر کی صورت میں جمع کر لیتے ہیں لیکن ڈھیر میں ہوا کا گزر نہ ہونے کی وجہ سے آلو گلناشروع ہو جاتے ہیں جس کے باعث مارکیٹ میں معاوضہ کم ملتا ہے ۔ زرعی ماہرین نے بتایا ہے کہ آلوؤ ں کا ڈھیر زمین سے کم از کم ایک فٹ اونچے بیڈ پر لگائیں اور آلو کو برداشت کے بعد 3سے 4دن سایہ دار جگہ پر رکھیں تاکہ برداشت کے دوران آنے والے زخم مندمل ہوجائیں ۔ ڈھیر کے اندر ہوا کے گزرنے کے لیے ڈکٹ لگائی جاتی ہیں جسے صبح کے وقت بند کردیا جاتا ہے تاکہ ڈھیر کے اندر گرم ہوا کا گز ر نہ ہو سکے اور اسے ٹھنڈی ہوا کے گزرنے کے لیے رات کو کھول دیا جاتا ہے ۔

مزید :

کامرس -