سعودی عرب، ایران تنازعہ، قومی اسمبلی میں صدائے بازگشت، پاکستان ثالث بنے، اپوزیشن

سعودی عرب، ایران تنازعہ، قومی اسمبلی میں صدائے بازگشت، پاکستان ثالث بنے، ...

  

اسلام آباد سے ملک الیاس

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ روز ہونیوالی ہلکی بوندا باندی سے موسم میں مزید خنکی آگئی ،وزیراعظم محمد نوازشریف تین روزہ سرکاری دورے پر سری لنکا میں ہیں ادھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں سعودی عرب اور ایران کے مابین پیدا ہونیوالے تنازع پر پاکستان کے کردار کے حوالے سے اپوزیشن نے گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے،دومسلمان ملکوں کے درمیان تناؤ کی سی کیفیت ہے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے اعلان کردیے گئے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے ساتھ دونوں اسلامی ممالک کا تعلق برادرانہ ہے جبکہ ایران پاکستان کا پڑوسی ملک بھی ہے اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ ،برادرانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے سب سے متبرک مقامات وہاں موجود ہونیکی وجہ سے اسکی اپنی الگ اہمیت ہے،سعودی عرب ایران تنازعہ کے خطے اور خاص کر پاکستان پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد احزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ دو مسلمان ملکوں کے درمیان تناؤ کی سی کیفیت ہے جو امت مسلمہ کے لئے خطرہ ہے ، تمام کارروائی معطل کرکے مشیر خارجہ کو اس پر ایوان کو بریفنگ دینا چاہیے۔ عالم اسلام کا یہ اہم اور بڑا مسئلہ ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت سعودی عرب کے معاملے پر سوچ بچار کرنا چھوڑے اور اس مسئلے کا خطے اور پاکستان پر بہت برا اثر پڑا ہے ۔ حکومت نے سعودی عرب اور ایران سے رابطہ کیا ہے تو ایوان کو بتایا جائے اس طرح کے حساس معاملات پر پاکستان کے عوام کی ترجمانی کرنی چاہیے۔ پاکستانی سعودی عرب سے محبت کرتے ہیں مگر ایران کے ساتھ بھی ہمارا تعلق ہے ۔ قومی نقطہ نظر کو اس حوالے سے اجاگر کرنا ہے کیونکہ پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے معاملات کو حل کی طرف لے جائے، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکومت نے کیا فیصلے کرنا ہیں حکومت نے تو اب تک وزیر خارجہ نہیں بنایا۔ پاکستان کو فریق بننے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ دنیا میں کوئی ملک متاثر ہو یا نہ ہو مگر پاکستان پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہونگے۔ ہم پہلے بھی پراکسی جنگوں کا حصہ رہے ہیں جس کا نقصان ہمیں زیادہ ہوا ہے، صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ایران سعودی عرب صورتحال میں پاکستان کو ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ سعودی وزیر خارجہ نے اپنا دورہ ملتوی کر دیا وزیر اعظم کو دورہ سری لنکا کے بجائے سعودی عرب اور ایران کا دورہ کرنا چاہیے تھا ۔ امت مسلمہ اس وقت نامساعد حالات سے گزر رہی ہے،وزیر مملکت شیخ آفتاب کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس پر موقف دینا ہے مگر حکومت کو وقت درکار ہے ۔ معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد بریفنگ دی جائے گی ، دونوں اسلامی ممالک کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں ،دفتر خارجہ نے اس حوالے سے پالیسی بیان جاری کیا ہے کہ تہران میں سعودی عرب کے سفارتخانے پر حملہ بدقسمتی اور قابل مذمت ہے، مسلم امہ کے درمیان اختلافات کا فائدہ دہشتگرد قوتیں اٹھا سکتی ہیں، پاکستان مسائل کا پر امن حل چاہتا ہے ۔ پاکستان کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے پر تشویش ہے سفارتی عملے اور مشن کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے ۔

وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کی طرف سے قومی اسمبلی میں بجلی کے حوالے سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں موجودہ حکومت کی مدت کے خاتمہ تک بھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوسکتی پر میڈیا میں خود بحث مباحثہ شروع ہوگیا جس پر ترجمان وزارت پانی و بجلی کا بیان آیا کہبجلی کی پیداوار اور طلب سے متعلق میڈیا رپورٹس بے بنیاد ہیں، حکومت کی مدت ختم ہونے تک بجلی کی پیداوار میں اضافے سے متعلق سوال پوچھا گیا تھا۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ2014کے مقابلے میں2015میں بجلی بلوں کی ادائیگی بڑھی ہے،وزیرپانی وبجلی نے کہا کہ2014میں ریکوری88فیصد تھی،2015 میں 93 فیصد رہی ہے،بجلی کی ریکوری میں اضافے سے 56ارب روپے کا فائدہ ہوا،لائن لاسز19فیصد کے مقابلے میں کم ہوکر17.9فیصد پر آگئے۔ انہوں نے کہا کہ لائن لاسز میں کمی سے قومی خزانے کو12ارب روپے کا فائدہ ہوابجلی پیداوار میں مزید 18ہزار34میگاواٹ کا اضافہ متوقع ہے جبکہ2018تک بجلی کی طلب25ہزار790 میگاواٹ تک بڑھ سکتی ہے،حکومتی مدت ختم ہونے تک بجلی کی مجموعی پیداوار30ہزار اور طلب 25 ہزار 790میگاواٹ ہوگی، وزارت کی تردید اور اصل حقائق میں کیا سچ ہے اورکیا جھوٹ یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر عوام کو اس وقت بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ نے تو سابقہ تمام ریکارڑ توڑ دیے ہیں راولپنڈی کے کئی علاقوں میں سردیوں کے آغاز سے ہی گیس غائب ہوگئی تھی اور بعض علاقوں میں کچھ وقت کیلئے گیس دی جارہی ہے لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود راولپنڈی اسلام آباد کے پوش علاقے گیس ،بجلی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں۔

اسلام آباد کے ڈی چوک میں گزشتہ سال دھرنا دیا گیا جس میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی قیادت اور کارکنان شامل تھے،اسی دوران پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی پر حملہ بھی کیا گیا جس کے ملزمان اس وقت سے لیکر اب تک عدالتوں میں اپنے کیسوں کی پیروی کررہے ہیں،گزشتہ دنوں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی حملہ کیس کی سماعت ہوئی جو بعد ازاں یکم فروری تک ملتوی کردی گئی،‘ عدالت کے باہر پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے ضمانتوں پر رہا کارکن پھٹ پڑے اور سوال کیا کہ عمران خان اور طاہر القادری کہاں ہیں‘ ڈیڑھ سال سے عدالتوں کے چکر لگا لگا کر تھک گئے ہیں کیس آگے نہیں بڑھ رہا تب ہم نے قائدین کے کہنے پر دھرنا دیا اب قائدین ہمارے لئے دھرنا دیں، عدالت میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے ضمانتوں پر رہا 103کارکنان پیش ہوئے جبکہ دونوں جماعتوں کا کوئی بھی رہنما پیش نہیں ہوااور نہ ہی دونوں جماعتوں کے قائدین وہاں موجود تھے، کارکنا ن کاکہنا تھا کہ قائدین کے کہنے پرہم باہر نکلے تھے آج وہ ہمارے لئے کھڑے نہیں ہورہے اگر آج وہ ہمیں یو بے یارومددگار چھوڑ رہے ہیں تو کل کلاں ان پر ہم میں سے کون اعتماد کرئے انہیں چاہیے ہم نے ان کے لیے دھرنا دیا تھا وہ ہماری رہائی کیلئے کچھ کریں اگر کچھ اور نہیں کرسکتے تو کم از کم ہمارے لیے دھرنا ہی دے دیں یا عدالت میں پیشی کے موقع پرہمیں چہرہ ہی دکھا دیا کریں ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -