کراچی! رینجرز تنازعہ موجود لب و لہجہ نرم ہو گیا، حکمت عملی میں تبدیلی

کراچی! رینجرز تنازعہ موجود لب و لہجہ نرم ہو گیا، حکمت عملی میں تبدیلی

  

کراچی (نصیر احمد سلیمی)

سیاسی ڈائری

سندھ حکومت کا رینجرز کے خصوصی اختیارات کا تنازعہ اپنی جگہ، تاہم بیانات کی گھن گرج میں کمی آئی ہے۔ حکومت سندھ کے ترجمان، سندھ حکومت کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا لب و لہجہ بھی بدلا ہے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’رینجرز اختیارات پر تحفظات ہیں لیکن سندھ کارڈ استعمال نہیں کیا۔ وفاق سے تصادم نہیں چاہتے جس کا مطلب یہ لیا جا رہا اور تاثر ابھر رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکمت عملی میں تبدیلی آئی ہے۔ حکومت سندھ مفاہمت کی طرف اور جناب آصف علی زرداری دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کو مزید تیز کریں گے۔ ان کا پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 88 ویں سالگرہ پر جاری ہونے والا بیان اس کا مظہر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس حکمت عملی سے آصف علی زرداری کے دست راست دوست ڈاکٹر عاصم حسین کو ’’نفسیاتی امراض‘‘ والا ’’نسخہ‘‘ نیب کی حراست سے نکال کر جیل پہنچانے میں ناکام ہو گیا ہے۔ احتساب عدالت نے نیب کو مزید چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ البتہ ڈاکٹر عاصم کی طرف سے کمر درد کی شکایت پر نیب کو ڈاکٹر عاصم کا ایم آئی آر کا ٹیسٹ کرانے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ دیکھئے چودہ روز بعد ایم آئی آر کی رپورٹ عدالت کے سامنے آئے گی تو عدالت کیا حکم صادر کرتی ہے۔

جناب آصف علی زرداری کے تازہ بیان کو صحافتی اور سیاسی حلقوں میں ڈاکٹر عاصم کی مشکلات کم نہ ہونے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ کوئی تعجب نہ ہوگا کہ ڈاکٹر عاصم کو ریلیف مل جائے تو زرداری صاحب تازہ بیان کے برعکس 180 ڈگری کے زاویہ پر پلٹ جائیں مشرف دور میں ضمانتوں پر ریلیف ملنے کے بعد زرداری صاحب نے ہی یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ ’’سویلین اور فوج میں تصادم نہیں مفاہمت ہونی چاہئے اور میں اس کام میں دونوں کے درمیان پل بنوں گا‘‘ زرداری صاحب کا ’’اقبال‘‘ بلند سے بلند ہوتا چلا گیا۔ اس بار ہوگا یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جس طرح جناب آصف علی زرداری کی یہ رائے سو فیصد درست ہے کہ ’’من پسند احتساب کا نظریہ بد ترین کرپشن ہے‘‘ اسی طرح یہ بات بھی تو سو فیصد درست ہے کہ ’’ریاست پاکستان‘‘ میں اب کرپشن زدہ سیاست کا بوجھ اٹھا کر چلنے کی سکت نہیں رہی ہے۔ یہ نظریہ بھی بدترین کرپشن کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ہم منتخب ہوگئے ہیں اب ہمیں ریاست پاکستان کے وسائل کی لوٹ مار کا لائسنس مل گیا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت جب تک اپنا رول ماڈل بانی پاکستان کو نہیں بنائے گی۔ تب تک من پسند احتساب کا نظریہ ختم ہو گا اور نہ ریاست پاکستان کے وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ بند ہوگا۔ قائداعظم نے گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنے عزیز ترین دوست وزیر تجارت آئی آئی چندریگر کو اس وجہ سے کابینہ سے برطرف کر دیا تھا کہ انہوں نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت اپنے غیر مستحق عزیز کو امپورٹ ایکسپورٹ کا لائسنس دے دیا تھا تب ہی تو 1947ء سے لے کر 1958ء کے پہلے مارشل لاء تک کسی حکمران سیاست دان پر کرپشن کا الزام نہیں لگا ایوب خان نے بھی سیاست دانوں کو کرپشن کا الزام لگا کر سیاست سے باہر نہیں کیا تھا بلکہ صوابدیدی اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا سہارا لے کر ایبڈو لگا کر باہر کیا تھا۔ یہ کیسی بد قسمتی ہے کہ 1947ء سے لے کر 1958ء تک کسی سیاست دان حکمران پر کرپشن کا الزام نہیں لگا اور 1958ء کے بعد سے کوئی حکمران خواہ وہ سول ہو یا فوجی کرپشن کے الزام سے محفوظ نہیں رہا ثابت ہو نا یا نہ ہونا اور معاملہ ہے اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر 1958ء کے بعد سے اب تک آنے والے فوجی اور سیاسی حکمران خود کرپشن میں ملوث نہیں تھے تو انہوں نے کرپشن میں ملوث بااثر اور طاقت وروں کو قانون کے شکنجے میں کس کر کیوں نہیں اپنے اپنے دور حکومت میں قانون کی عدالتوں میں ٹھوس ثبوت اور شواہد کے ساتھ مجرم قرار دلوایا۔ اب کرپشن نے ریاست کا وجود خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ اگر اب بھی ریاست پاکستان نے کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے ایسا خودکار موثر نظام وضع نہیں کیا جو کرپشن میں ملوث بااثر عناصر کو قانون کی عدالتوں میں جرم ثابت کرا کر سیاست اور تجارت سے الگ کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہو۔ دشمن اس کا فائدہ اٹھانے سے باز نہیں آئے گا اور اپنے طاقت ور گماشوں کے ذریعے ’’کرپشن کا ناسور‘‘ ریاست کو اتنا کمزور کر دے گا کہ ایٹمی قوت بھی ریاست کے وجود کو لاحق خطرات سے محفوظ نہیں رکھ سکے گی۔

دنیا کے ترقی یافتہ مہذب ممالک کی مثالوں کو تو رکھئے ایک طرف۔ ذرا ان ممالک پر نظر ڈالیں جو ہم سے کم ترقی یافتہ اور پسماندہ ہیں وہاں بھی کرپشن میں ملوث عناصر کی اس طرح کوئی وکالت نہیں کر سکتا جیسی ہمارے ہاں وہ لوگ بھی کرنے لگتے ہیں جن کے اپنے دامن پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہوتا۔ پڑوسی ملک بھارت کو دیکھ لیجئے کہ کتنے سیاست دان سیاست سے باہر کرپشن کے الزام لگنے کی وجہ سے ہو گئے ہیں۔

عدالتوں نے کرپشن کے الزامات میں ان کا ٹرائل شروع کیا تو ان کی اپنی سیاسی جماعتوں تک نے یہ الزام نہیں لگایا کہ ان کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مثالیں تو درجنوں ہیں۔ اس کی تفصیل میں جانے کے بجائے ماضی قریب کی دو مثالوں سے اندازہ لگا لیں کہ وہاں جمہوریت کا تسلسل کیوں ہے اور ہم بار بار اس سے کیوں محروم ہو جاتے ہیں۔ بھارت کو آزادی دلانے والی جماعت کانگریس کے ایک وزیراعظم اور ایک وزیر خارجہ اور کئی دوسرے وزیروں کو سیاست سے دستبردار ہو کر گوش�ۂ گمنامی میں اس وجہ سے جانا پڑا کہ ان پر کرپشن کے سنگین الزامات لگے۔ سابق وزیراعظم نرسیما راؤ تو جیل گئے اور سزا پائی اور ابھی حال ہی میں ایک وزیر ریلوے جو عوام میں ہمارے کسی بھی بڑے سیاست دان سے زیادہ مقبول رہا ہے اور ہے جیل میں ہے کیا ہمارے لئے ان مثالوں میں کوئی سبق نہیں ہے اگر پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل اور قانون کی حکمران عزیز ہے تو پھر اس پر قومی اتفاق رائے کے ساتھ کرپٹ عناصر اور کرپشن میں سہولت کاروں کو سیاست اور تجارت سے آؤٹ کرنے کا خود کار صاف شفاف نظام وضع کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہ گیا۔ اس خود کار نظام میں اس کا بھی اہتمام کرنا پڑے گا کہ ان سرکاری ملازمین کی نوکریاں اور عزتیں محفوظ رہیں جو بااثر اور طاقت ور حکمرانوں کے گماشتوں کی لوٹ مار میں معاون اور مددگار نہیں بنتے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کے کرپشن کیس میں کئی ایسے ملازم بھی رگڑے میں آ رہے ہیں، جنہوں نے ان کی کرپشن میں کوئی تعاون تو نہیں کیا مگر اپنا اختلافی نوٹ لکھ کر اوپر والوں کی مرضی کے خلاف مزاحمت کرنے سے قاصر تھے اس کے لئے ہمیں سرکاری ملازمین کے تحفظ کا وہ اہتمام کرنا پڑے گا۔ جو دنیا کے ہر مہذب ملک میں موجود ہے اور ہم نے بھی 1956ء کے پہلے دستور میں دیا ہوا تھا جسے 1973ء کے دستور میں ذوالفقار علی بھٹو نے ختم کر دیا تھا۔ جب آئینی تحفظ تھا تو ایک ڈپٹی کمشنر نے بھی اس وقت کے صدر مملکت کے حکم پر نقشہ میں موجود بچوں کے پارک کو یہ کہہ کر الاٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ جناب صدر مملکت میں تو ایک معمولی سا سرکاری ملازم ہوں یہ پارک تو آپ اپنے دستخطوں کے ساتھ بھی کسی کو الاٹ نہیں کر سکتے ، وہ پارک آج تک موجود ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -