کیا بلاول بھٹو اکیلے پنجاب میں پارٹی کو پھر سے پہلے والی جماعت بنائیں گے؟

کیا بلاول بھٹو اکیلے پنجاب میں پارٹی کو پھر سے پہلے والی جماعت بنائیں گے؟

  

ملتان کی سیاسی ڈائری

احمد حسن مفتی

سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے رینجرز اختیارات کے معاملے پر حکومت سے ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ رینجرز اختیارات کا معاملہ آئین و قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیئے نیشنل ایکشن پلان کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم کو فیصلے کا اختیار دیا تھا اب وزیراعظم کو چاہیئے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرکے اس مسئلے کو حل کریں ۔ ایک بات تو طے ہے کہ وفاقی حکومت کسی بھی صورت میں رینجرز کے اختیارات میں کمی نہیں ہونے دے گی ۔کیونکہ کراچی میں اس وقت امن کو برقرار رکھنے میں جو کرادار رینجرز نے ادا کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ کافی عرصہ کے بعد کراچی کی روشنیاں رینجرز کی وجہ سے بحال ہوئی ہیں اور اب وفاقی حکومت رینجرز کی قربانیوں کو ہر گز رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ اسی سلسلہ میں پاکستان تحریک انصاف کے نیشنل آرگنائزرمخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ رینجرز کے اختیارات کو محدود نہیں ہونا چاہیے ۔ رینجرز نے قربانیاں دینے کے بعد کراچی میں امن بحال کیا ہے ۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے ملکی ترقی کراچی کے امن سے وابستہ ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ سندھ حکومت ایک شخص کو بچانے کے لیے رینجرز کے اختیارات میں کمی چاہتی ہے جو کسی صورت قبول نہیں ہوگا۔

2013کے عام انتخابات اور پھر حال ہی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بری طرح شکست کے بعد پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کو پنجاب میں ایک بار پھر فعال کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں 10جنوری سے انکا دورہ پنجاب بھی متوقع ہے ۔ وہ اپنا دورہ رحیم یار خان سے شروع کرینگے اور ملتان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی ہر تحصیل و ضلع میں جائینگے۔بلاول بھٹو زرداری کی متوقع آمد کے پیش نظر پارٹی کی جانب سے انکے استقبال کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف سازشیں کر نے والے جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے ۔ انہوں نے پارٹی کو مضبوط کر نے کے لیے اپنا بھرپور کر دار ادا کر نے کا یقین دلایا اور کہا کہ پیپلز پارٹی آج بھی عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتی ہے اور پیپلز پارٹی کو آئندہ اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔تاہم اس بات سے تو کسی کو اختلاف نہیں ہو گا کہ پارٹی کو فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے پارٹی کے مرکزی رہنماوں کو بلاول بھٹو زرداری کا نہ صرف ساتھ دینا ہو گا بلکہ پارٹی کی تنظیم نو کے لیے بھی اپنا مثبت کر دار ادا کرنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں بلاول بھٹو زرداری کو ان ناراض رہنماوں سے بھی ملنا ہوگا جو پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں پارٹی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ابھی تک ناراض ہیں ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلاول اکیلے پارٹی کو دوبارہ فعال کر نے میں کا میاب ہو سکیں گے اور آئندہ عام انتخابات میں کیا پیپلز پارٹی پنجاب میں نمائندگی حاصل کر پائے گی اس بات کا فیصلہ تو وقت ہی کریگا۔

قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی اور شیعہ علماء کونسل پنجاب کی جانب سے سعودی عرب میں آئیت اللہ شیخ باقر النمر کی سعودی عرب میں پھانسی پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور 8جون کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا بھی اعلان ہے۔ سعودیہ عرب کی جانب سے شیعہ عالم کو پھانسی دینے کی جو وجہ بیان کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ شیعہ عالم شیخ باقر النمر ریاست کے خلاف تقاریر کرتے تھے اور ریاست کے امن کوخطرے میں ڈال رہے تھے ۔ شیخ باقر النمر کی پھانسی کے بعد سعودیہ عرب اور ایران کے مابین اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات بھی ختم کر دئیے ہیں ۔ جس کے آنے والے وقت میں بہت افسوس ناک نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ بہر حال شیخ باقر النمرکی پھانسی پر ملک کے مختلف شہروں کی طرح ملتان میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عبا س جعفری کی اپیل پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح ملتان میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جس میں شرکاء نے سعودیہ عرب کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ریلی کے شرکاء نے سعودی حکومت کی جانب سے 47افراد کے سرقلم کرنے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سعودی عرب میں شہید ہونے والے شیخ باقر النمر کے خون نے دنیا بھر کے سامنے سعودی چہرے کو بے نقاب کیا ہے، سعودی عرب جو دیگر ممالک میں مداخلت کرکے جمہوریت کے راگ الاپتا ہے خود اپنے ملک میں کسی ملزم کو اپنے دفاع کا حق ہی نہیں دیتا جاتا، سعودی عرب کی منافقانہ پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت عالم اسلام مشکلات کا شکار ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ اس ساری صورتحال کے باعث عالم اسلام ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو گیا ہے ۔لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اسلام آپس کے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو اور اپنے مسائل کو خود حل کرے جس میں تما م مسالک کے علمائے کرام کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -