اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی

اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان کشیدگی بڑھ ...

  

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پاک چائینہ اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کا سنگ بنیاد رکھا تو اسوقت شاید ان کا یہ خیال تھا کہ 40 ارب روپے کی لاگت سے ژوب مغل کوٹ سیکشن کا سنگ بنیاد رکھنے سے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام خوشیاں مناتے ہوئے وفاق کے مشکور ہونگے مگر افتتاح کے ساتھ ہی حالات نے ایک دم الٹا رخ اختیار کرلیا اورچند گھنٹوں کے اندر حکومت خیبر پختونخوا وفاق کیخلاف حالت جنگ میں آگئی صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا سمیت بلوچستان کے تمام سیاسی رہنماؤں کو بھی اپنے موقف کا حامی بنا لیا یہاں تک کہ اپنی دیرینہ مخالف جے یو آئی کو بھی صوبائی حقوق کے معاملے پر اپنے ساتھ ملا لیا جمعیت علماء اسلام وفاق میں حکومت کا حصہ ہے مگر گزشتہ روز سیپکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر نے جے یو آئی کے مرکزی قائد مولانا فضل الرحمن کے ساتھ باضابطہ ملاقات کی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کااعلان کیا جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن نے فوری ایکشن لیتے ہوئے خیبر پختونخوا اوربلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں سمیت تمام دینی ومذہبی پارٹیوں کے سربراہوں کے ساتھ ٹیلفونک رابطے کئے اور دونوں چھوٹے صوبوں کے حقوق لینے کیلئے مشترکہ و متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی غرض سے 7 جنوری کو اہم اجلاس طلب کرلیا وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے 40 ارب روپے کی لاگت سے ژوب مغل کوٹ کے جس سیکشن کاسنگ بنیاد رکھا اسے اقتصادی راہداری روٹ کا نام دیا گیا اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے چند گھنٹوں بعد وزیر اعلی خیبرپختونخوا پرویزخٹک پورے غنیط وغضب کیساتھ سامنے آئے اور وزیر اعظم کے اعلان کردہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے خیبر پختونخوا کے ساتھ ظلم زیادتی اور فراڈ قرار دیا وزیراعلی پرویز خٹک کا موقف حقائق پر مبنی ہے تب ہی توخیبر پختونخوا کے تمام سیاسی مخالفین بھی صوبائی حکومت کے حامی بن گئے وزیر اعلی پرویز خٹک کا موقف ہے کہ اقتصادی راہداری روٹ سٹرک کا نام نہیں اگر سٹرک بنانا ہی اقتصادی راہداری روٹ ہے تو پھر یہ کام صوبائی حکومت خود بھی کرسکتی ہے اقتصادی راہداری روٹ کامطلب تجارتی شاہراہ کے ساتھ ریلوے ٹریک تیل وگیس پائپ لائن اور آپٹیکل فائیر وغیرہ بھی ہونا چاہیے جس کے بغیر صنعتی زونز کا قیام غیرموثر ہوگاجبکہ اصل مغربی روٹ میں یہ تمام منصوبے شامل ہیں وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے اضل روٹ کو تبدیل کر کے ایک سٹرک کو حتمی منصوبہ بنادیا جو کہ خیبر پختونخوا حکومت اور عوام کیلئے ناقابل برداشت ہے وزیر اعلی پرویزخٹک نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے سخت رویہ اپنایا اور کہا کہ اصل مغربی روٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا صوبائی حکو مت اور اپوزیشن جماعتیں اصل ر وٹ بحال کرنے کیلئے آخری حد تک جائینگی وفاق کیلئے اگر پنجاب ہی پاکستان ہے تو وہ اسے مبارک ہو ہم صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دینگے انہوں نے وفاق کیخلاف درست اقدام اٹھانے اور آخری حد تک جانے کی بھی دھمکی دی وزیر اعلی پرویز خٹک نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر اقتصادی راہداری روٹ ہمارا نہیں ہوگا تو پھر کسی کا نہ ہوگا ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اقتصادی روٹ کے تنازعہ کے حل کیلئے پارلیمانی کیمٹی کے چیئر مین مشاہدحسین سید نے بھی صوبائی حکومت کے موقف اورتحفظات کو درست قرار دے دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ کل 7 جنوری کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد کیا صورتحال سامنے آتی ہے تاہم یہ بات واضع ہے کہ چھوٹے دو صوبوں کے سیاسی رہنماؤں کے اکٹھے ہونے اور چند ابتدائی بیانات کے ساتھ ہی وفاقی حکومت دباؤ میں نظر آنے لگی وفاقی وزیر اوروزیر اعظم کے معتمد ساتھی احسن اقبال نے وزیر اعلی پرویزخٹک کو فون کیا اور وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر ان کے اس رابطے اور یقین دہانی نے موثر دوا کا کام نہیں کیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشیدگی بڑھتی جارہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں کوئی نیا سیاسی بحران پیدا ہونے والا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کا سنگ بنیاد ایسے وقت میں رکھا جب خیبر پختونخوا کے عوام سانحہ مردان پر سوگ کے عالم میں تھے صرف دو روز قبل مردان کے نادرا آفس میں ایک خود کش بمبار نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے ا ڑایا جس کے نتیجے میں 30 افراد شہید اور 56 زخمی ہوئے دھماکے میں شہید ہونے والے بیشتر افراد وہ تھے جو اپنے شناختی کارڈ بنوانے کے چکر میں وہاں موجود تھے اگلے روز بہت سارے جنازے اٹھے اس کے بعد مسلسل دو روز تک مزید جنازے اٹھتے ر ہے اس سانحہ نے پورے صوبے کو غمزدہ کرنے کے ساتھ ساتھ تشویش میں مبتلا کردیا مردان خود کش حملے کے بعد فوج اورپولیس پر حملے کئے گئے مگر خوش قسمتی سے ان حملوں میں کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا موٹر وے انٹر چینج پر ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکہ اسوقت کیا گیا جب ایک فوجی قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا دھماکہ کے نتیجے میں ایک جوان م معمولی زخمی ہوا اس کے بعد اگلے روزمردان ہی میں پولیس وین پر بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا ہم اپنی تحریروں میں متعدد بار اس بات کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ پشاور شہر سمیت خیبر پختونخوا بھر یمں دہشتگردوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو بتدریج داعش کی طرف راغب ہورہی ہے اور داعش بتدریج اپنے قدم جمارہی ہے ان کا سدباب کرنا ڈسٹرکٹ پولیس کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ کام فوج کا ہے کیونکہ فوج ہی کے پاس ان خطرناک دہشتگردوں کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت بھی موجود ہے اور جدید اسلحہ سمیت ضروری وسائل بھی دستیاب ہیں صوبے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے آئین کے آرٹیکل 245 کی مدد لی جاسکتی ہے جو فوج کو کاروائی کرنے کا مکمل اختیار دیتی ہے مگر سیاسی پارٹیاں فوج کو آگے آنے سے روک رہی ہیں جسکا خمیازہ معصوم عوام بھگت رہے ہیں

مزید :

ایڈیشن 1 -