داعش: امریکہ نے بنائی یا پروان چڑھائی؟

داعش: امریکہ نے بنائی یا پروان چڑھائی؟
داعش: امریکہ نے بنائی یا پروان چڑھائی؟

  

صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد پال بریمر عراق میں امریکہ کے سفیر مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے سب سے پہلا حکم یہ جاری کیا تھا کہ عراق کی فوج ختم کر دی جائے اور صدام حسین کی بعث پارٹی کے تمام اراکین تمام سرکاری عہدوں سے نکال دیئے جائیں۔

*۔۔۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ مَیں ان تمام غلطیوں کا اعتراف کرتا ہوں جو میں نے عراق میں کیں اور جو مجھے نہیں کرنی چاہئے تھیں‘‘۔ ان سے 2003ء میں عراق پر حملے اور آئی ایس آئی ایس کے قیام تک تمام واقعات کے بارے میں بات کی گئی کہ کیا عراق میں مزید فوج بھیجنا ضروری تھا؟ جو وہاں ہے۔

*۔۔۔ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم ،جنہوں نے ملائیشیا کو ’’ایشین ٹائیگر‘‘ بنایا جو اسرائیل کے قیام اور اس کی پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں مغرب کی حکمت عملی کے بڑے نقاد اور مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایس پر فضائی حملے اسے مزید مضبوط کر رہے ہیں ،تصادم کی فضا اور بگاڑنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اپنے منفرد انداز اور سوچ کے مالک مہاتیر محمد جو 22سال برسرِ اقتدار رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے ،90سال کی عمر ہونے کے باوجود وہ دنیا بھر میں مختلف موضوعات پر لیکچر دینے اور بات کرنے کے لئے بلائے جاتے ہیں اور وہ ایسا کرتے بھی ہیں۔

*۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کا عروج اور اس کی جڑیں، مشرق وسطیٰ میں مغرب کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مغربی ممالک نے پیرس کے واقعات کے بعد داعش پر فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، اس کے بارے میں ان کا کیا کہنا ہے؟ان کا جواب تھا کہ اس سے معاملات مزید بگڑیں گے، کیونکہ عرب آبادی معصوم ہے،جس کا آئی ایس آئی ایس سے تعلق یا واسطہ نہیں ہے، وہ شہید ہو رہے ہیں۔ ان کی ہمدردیاں آئی ایس آئی ایس کے ساتھ ہیں اور مغربی دنیا کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے ، جس سے آئی ایس آئی ایس کو رضا کار مل رہے ہیں، جس سے وہ اور مضبوط ہو رہے ہیں۔ وہ مغربی دنیا کی مداخلت اور قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، جسے مغرب دہشت گردی کا نام دیتا ہے۔ اگر وہ دہشت گردی ہے تو کیا بے گناہ اور معصوم لوگوں کو فضائی حملوں سے شہید کرنا دہشت گردی نہیں ہے؟ جو لوگ اس بمباری سے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں، ان کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس جنگ کو پھیلتا ہوا دیکھ رہے ہیں؟ ان کا جواب تھا کہ یہ تو پہلے سے ہی پھیل رہی ہے۔پوری دنیا اس سے متاثر ہو رہی ہے اور یہ آج سے نہیں ،فلسطین پر قبضے اور اسے یہودیوں کے حوالے کرنے سے اس کا آغاز ہو گیا تھا۔ یہودیوں نے آہستہ آہستہ پورے فلسطین، پڑوسی عرب ممالک پر قبضہ کیا۔ بستیاں آباد کرنا اور انہیں بڑھانا شروع کیا۔ مقامی لوگوں (عرب آبادی) کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کیں۔ عرب ممالک نے اپنے علاقے واپس لینے کی کوشش کی، لیکن یورپ اور امریکہ کی امداد سے اسرائیل نے ایسا نہ ہونے دیا، جس کا ردعمل یہ ہے کہ عام مسلمان اپنے حکمرانوں کی کمزوری کی وجہ سے بول نہیں سکتے، لیکن اسرائیل کے مددگاروں کے خلاف نفرت ضرور پیدا ہوئی ہے۔ اسرائیل کا ہر فیصلہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔دنیا میں امن قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لئے یورپ اور امریکہ کو منصفانہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنا چاہیے۔ صرف ایک فریق کو ہی غلط قرار دے کر اس کے خلاف ہر قسم کی ظالمانہ کارروائیاں اور ایسی کارروائیوں کی امداد کرنا غلط ہوگا۔

*۔۔۔محصور عرب آبادی کے لئے بھیجی جانے والی امداد روک لی جاتی ہے۔امداد لے کر جانے والوں پر تشددکیا جاتا ہے، یہاں اقوام متحدہ، امریکہ اور اس کے اتحادی خاموش رہتے ہیں ،یہ افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ کئی مسلمان ممالک بھی خاموشی ہی میں بہتری سمجھتے ہیں،جبکہ اسرائیل کھلے عام یہ کہتا ہے کہ اگر ایک اسرائیلی فوجی مارا جاتا ہے تو ہم دس عرب ماریں گے، سو ماریں گے، لیکن دنیا خاموش ہے اور سب کچھ ہونے دے رہی ہے۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا آئی ایس آئی ایس کا قیام اسرائیل کے قیام سے بڑھ کر نہیں ہے؟ ان کا جواب تھا کہ ہاں ایسا ہی ہے، لیکن یہ آہستہ آہستہ پھیلے گا۔ گوریلا جنگ عام جنگ کی طرح نہیں لڑی جاتی۔ ان سے فضائی جنگ نہیں کی جا سکتی۔ ان کے خلاف عام لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ انہیں مقامی طور پر مدد نہ مل سکے۔ ملائیشیا میں ہم نے ایسا ہی کیا تھا اور گوریلا گروہوں کو شکست دی تھی، لیکن مشرق وسطیٰ میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔ صرف ان کے غصے اور انتقام کے جذبے میں اضافہ کی وجہ بن رہے ہیں۔

ان سے پوچھا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ مغرب اپنی غلطیاں دہرا رہا ہے اور نتائج بھی وہی ہوں گے؟ ان کا جواب تھا آپ آئی ایس آئی ایس کو یہاں ماریں گے، وہ آپ کو کسی اور جگہ ماریں گے۔ عمل کا ردعمل قانون قدرت ہے۔ دنیا بھر سے لوگ ان کے ہمدرد بن رہے ہیں۔ مسلمان ممالک کے علاوہ یورپ اور امریکہ سے گورے مسلمان ہو کر ان کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ نوجوان لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی اس ’’جہاد‘‘ میں شریک ہو ہیں، حالانکہ تشدد اور ظلم اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔انتقام، بدلہ، آپ میرے لوگ ماریں، میں آپ کے ماروں ، یہ حل نہیں ہے۔ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسے حل نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے اور نہ ہوگا۔ اس سوچ کی وجوہات معلوم ہونی چاہئیں کہ لوگ ایسا کرنے پر کیوں مجبور ہوئے۔ دہشت گردی کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے جا رہے ہیں۔ دونوں اطراف کی کارروائیوں سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں کیوں مارا جا رہا ہے۔ دنیا کو خوفزدہ کرنے کے لئے ٹی وی پر ایسے عمل دکھائے جا رہے ہیں۔ مسلم دنیا خوفزدہ ہے۔ لوگوں کو ذبح کرکے دکھلایا جاتا ہے، اس پر سب کو سوچنا ہوگا۔ اس کی وجوہات، اس کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، کہیں پناہ ملتی ہے، کہیں نہیں ملتی۔ وہ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں، اس کے لئے شام کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے۔ بمباری علاج نہیں ہے، مسئلہ زمین پر ہے ، فضا میں نہیں۔ آئی ایس آئی ایس کے ساتھ معصوم لوگ مر رہے ہیں، ملک تباہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اپنی بالادستی چاہتا ہے، ایران اپنی بالادستی چاہتا ہے۔ نیٹو وہاں سے نکلنا نہیں چاہتا۔ روس نئے سرے سے مشرق وسطیٰ میں قدم جمانا چاہتا ہے ۔ اس کا حل صرف ایران اور سعودی عرب کے پاس ہے، باقی موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

مزید :

کالم -